چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کے لیے مظاہرے سے قبل نئی دہلی ’قلعے‘ میں تبدیل

2 hours ago 3

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

انڈین حکومت نے دارالحکومت دہلی میں سکیورٹی سخت کر دی اور فسادات پر قابو پانے والی گاڑیاں تعینات کر دیں جب کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے مخالفین نے ملک کے الیکشن چیف کے استعفے کا مطالبہ کرنے کے لیے ایک بڑی ریلی نکالنے کی تیاری کر لی ہے۔

اتوار کو کانگریس پارٹی کے رہنما راہل گاندھی کی قیادت میں ہونے والی اس ریلی میں شرکت کے لیے لاکھوں افراد کے دہلی کی سڑکوں پر نکلنے کی توقع ہے۔

اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کے وسطی علاقوں سے احتجاج کے لیے مختص جگہ رام لیلا میدان تک ’دہلی چلو‘ مارچ میں شامل ہونے والے افراد کی تعداد 10 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں۔

اپوزیشن جماعتوں، طلبہ تنظیموں اور نوجوانوں کی قیادت والی کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے گذشتہ ماہ سے تقریباً روزانہ کی بنیاد پر مظاہرے کیے ہیں جن میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے ووٹر فہرست پر نظر ثانی کے معاملے پر استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے، جس کے بارے میں ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ نریندر مودی کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے حق میں ہے۔

ریاست نے ان مظاہروں کے جواب میں سینکڑوں رکاوٹیں کھڑی کر کے دارالحکومت کو ایک قلعے میں تبدیل کر دیا ہے، اور طلبہ، احتجاجی رہنماؤں، سیاست دانوں اور صحافیوں کو حراست میں لے لیا ہے۔

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)

مبصرین کا کہنا ہے کہ گرمیوں سے جاری نوجوانوں کے ان مظاہروں اور اپوزیشن کی بڑھتی ہوئی حمایت نے وزیر اعظم مودی کے لیے 2014 میں برسر اقتدار آنے کے بعد سے بدترین بحران کی شکل اختیار کر لی ہے۔ تاہم ان کی حکومت مستحکم ہے اور اگلے عام انتخابات 2029 سے قبل متوقع نہیں ہیں۔

اپوزیشن جماعتوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ وسطی دہلی میں انڈیا کے ایوان اقتدار کے قریب سے احتجاجی مقام تک تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر طویل مارچ کریں گی۔

یہ احتجاجی مارچ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے 31 اکتوبر کو کیے گئے ایک علامتی ’عوامی مواخذے‘ کے بعد ہو رہا ہے، جس میں گیانیش کمار پر چھ الزامات لگائے گئے تھے۔

ان کے استعفے کا مطالبہ کرنے والے یہ مظاہرے ستمبر میں انڈین ایکسپریس اخبار کی اس رپورٹ کے بعد شروع ہوئے جس میں کہا گیا تھا کہ ان کے دو نائبین نے اندرونی طور پر ووٹر لسٹ کی نظر ثانی، رجسٹریشن کے طریقہ کار اور ڈیجیٹل سسٹمز کے حوالے سے کئی خدشات اٹھائے تھے۔

گذشتہ سال شروع ہونے والی اس تبدیلی کے ذریعے ووٹر لسٹوں سے 13 کروڑ سے زائد ناموں کو ہٹا دیا گیا تھا، جن میں دو کروڑ 80 لاکھ وہ لوگ شامل تھے جو انتقال کر چکے تھے، چھ کروڑ 30 لاکھ وہ لوگ تھے جو نقل مکانی کر چکے تھے، اور تین کروڑ وہ لوگ تھے جن کا سراغ نہیں لگایا جا سکا تھا۔

اپوزیشن جماعتوں نے الزام لگایا ہے کہ سپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) مہم کے ذریعے ووٹرز کو نکالنے سے نریندر مودی کی پارٹی کو فائدہ پہنچ سکتا ہے تاکہ وہ حکمران جماعت اور اپوزیشن کے درمیان خلیج کو وسیع کر سکے۔ ناقدین نے دعویٰ کیا کہ اس اخراج نے غیر متناسب طور پر مسلمان ووٹرز اور دیگر اقلیتوں کو متاثر کیا ہے، جن کے بارے میں اس ہندو قوم پرست حکمران جماعت کی حمایت کرنے کا امکان کم ہے۔

سی جے پی جس نے ایک ماہ طویل مسلسل مظاہروں کے ذریعے ملک کے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو استعفیٰ دینے پر مجبور کیا تھا، اس نے مسٹر کمار کو ’انڈین جمہوریت کے لیے خطرہ‘ قرار دیا۔

انڈیا کے الیکشن کمیشن نے کہا کہ ایس آئی آر کا مقصد مرنے والوں اور نقل مکانی کرنے والوں کے ناموں کو نکال کر ووٹرز لسٹ کو اپ ڈیٹ کرنا تھا۔

بی جے پی نے الیکشن پینل کا دفاع کیا ہے اور کہا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں نے ایک منفی مہم شروع کر رکھی ہے کیوں کہ وہ باقاعدگی سے انتخابات ہار رہی تھیں۔

شہر کے بعض حصوں میں فسادات پر قابو پانے والی گاڑیاں کھڑی کر دی گئیں جب کہ ریلی کے مقام کے باہر ڈنڈوں اور ڈھالوں سے لیس درجنوں سکیورٹی اہلکار تعینات کر دیے گئے۔

دہلی ٹریفک پولیس نے کہا کہ مقام پر ’ایک بڑے اجتماع‘ کی توقع ہے، اور ’ضرورت کے مطابق‘ ٹریفک کے ضوابط اور راستوں کی تبدیلیوں پر عمل درآمد کیا جائے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایک اعلیٰ پولیس افسر روہت راج بیر نے اے این آئی کو بتایا کہ ’لوگ اس ریلی میں شرکت کے لیے آنا شروع ہو گئے ہیں... ہم نے پنڈال میں مناسب انتظامات کو یقینی بنایا ہے، اور اب سے چند گھنٹوں میں ہونے والے مارچ کے راستے پر بھی انتظامات کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔‘

اپوزیشن اتحاد نے حکومت پر لوگوں کو احتجاج میں شامل ہونے کے لیے ملک کے دیگر حصوں سے دارالحکومت کے سفر سے روکنے کی کوشش کا الزام لگایا ہے۔

راہل گاندھی نے ایکس پر لکھا کہ’پولیس کی فکر نہ کریں، لاٹھیوں (ڈنڈوں) کی فکر نہ کریں۔ بی جے پی میں اپنی کوئی بھی چال چلنے کی ہمت نہیں ہوگی۔‘

وفاقی وزیر جے پی نڈا نے اس ریلی کو ’ایک احمقانہ اور منظم ڈراما‘ قرار دیا ہے جس کا مقصد ’غیر ملکی طاقتوں کے ایما پر‘ حکومت کو غیر مستحکم کرنا ہے۔

اتوار کو کانگریس پارٹی کے رہنما راہل گاندھی کی قیادت میں ریلی میں لاکھوں افراد کے دہلی کی سڑکوں پر نکلنے کی توقع ہے۔
اتوار, نومبر 1, 2026 - 16:00
Main image: 

<p class="rteright">یکم نومبر، 2026 کو نئی دہلی میں اپوزیشن کے ’جمہوریت بچاؤ‘ مارچ کے پیش نظر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں (روئٹرز)</p>

type: 
SEO Title: 
چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کے لیے مظاہرے سے قبل نئی دہلی ’قلعے‘ میں تبدیل
origin url: 
https://www.independent.co.uk/asia/india/delhi-congress-election-comission-protest-modi-b3077010.html
Read Entire Article
Chatroom