پاکستانی ڈرامے شاندار، مگر فلمیں بری کیوں؟

1 hour ago 1

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

ہر روز رات کے آٹھ بجتے ہی پاکستان میں ایک بڑی تعداد اپنی زندگیوں کی کہانیوں سے نکل کر کسی اور کی کہانی میں داخل ہو جاتی ہے۔

مالی حالات بہتر ہیں تو صوفے پر چائے یا کافی کا مگ ہاتھ میں لیے، گاؤں کی زندگی ہے تو صحن میں دیوار کے ساتھ ٹی وی کو ٹیک لگا کر بیٹھ گئے، بچے سامنے ہو کر نیچے بیٹھ گئے، بڑے چارپائیوں پر ساکت ہو چکے ہیں۔

یہ ڈرامہ دیکھنے کا وقت ہے، کسی اور کی کہانی میں اپنے خواب تلاش کرنے کا وقت۔

یونیورسٹوں کی لڑکیاں البتہ اس معمول کو فالو نہیں کرتیں، وہ رات گئے اکیلے بیٹھ کر یوٹیوب سے تازہ قسط دیکھتی ہیں۔

پاکستان شاید دنیا کے ان چند ممالک میں سے ہے جہاں ٹی وی ڈراما محض تفریح نہیں بلکہ اجتماعی زندگی کا حصہ ہے۔

ڈرامے تھوڑے دیر کے لیے مہمان بن کر گھروں میں نہیں آتے بلکہ مستقل قیام کرتے ہیں۔

لوگ کرداروں کو ایسے یاد رکھتے ہیں جیسے خاندان کے افراد ہوں۔ بعض مکالمے سیاسی نعروں کی طرح یا شاید ان سے بھی زیادہ مقبول ہو جاتے ہیں۔

مگر فلم؟ ڈراما دیکھنے والوں میں سے شاید دو فیصد بھی ایسے نہ ہوں جنہوں نے پچھلے چھ، آٹھ ماہ کے دوران کوئی پاکستانی فلم دیکھی ہو۔

جن ایک، دو فیصد نے دیکھی ہو گی، وہ بھی پوچھتے ہوں گے کہ اس میں آخر دیکھنے کو تھا ہی کیا؟

شاندار ڈرامے بنانے والا پاکستان، فلم انڈسٹری کی تاریخ رکھنے والا ملک، فلم کے معاملے میں اتنا خراب کیسے ہو گیا؟

یہ سوال محض فلم کا نہیں۔ یہ پاکستان کے شہروں، سیاست، مذہب، معیشت، خوف، متوسط طبقے اور ہماری اجتماعی نفسیات کا سوال بھی ہے۔

ڈراما بلکہ ٹی وی کے جنم سے پہلے فلم ہماری اجتماعی تفریح تھی یا اجتماعی پناہ گاہ تھی۔

لاہور کا مال روڈ، پشاور کا سینیما روڈ اور کراچی کا ایم اے جناح روڈ فلمی پوسٹرز سے لتھڑا ہوتا تھا۔ سینیما گھروں کے باہر ٹکٹ لینے والے لمبی قطاریں میں گھنٹوں انتظار کرتے۔

وحید مراد کی مسکراہٹ، محمد علی کی آواز اور ندیم کی آنکھیں زندگی میں رومانس بھرتی تھیں۔ نورجہاں کے گیت گلیوں میں خوشبو بن کر اڑتے۔

شہروں میں لوگ خاندان کے ساتھ سینیما جاتے۔ گاؤں، دیہات میں یار بیلیوں کی ٹولیاں نکلتیں، پیدل اور ٹریکٹر ٹرالیوں پر۔

ٹی وی، وی سی آر، کیبل اور ریاستی پالیسیوں نے فلم کلچر کا بھرکس نکال دیا۔ سینیما ہال آہستہ آہستہ شادی ہال اور پلازوں میں تبدیل ہونے لگے۔ فلم کا زوال اور ڈرامے کا عروج ساتھ ساتھ آیا۔

ڈرامے نے متوسط طبقے کے عام پاکستانی کی زبان سیکھی، یہ خاندان کے ساتھ بیٹھ کر دیکھا جا سکتا تھا۔ ٹکٹ کا تکلف بھی نہیں، ہفتے کے سات دن، روز الگ الگ ڈرامے، ایک ساتھ اتنے ذائقے، وہ بھی خود چل کر گھر آ گئے۔

ہم لوگ دبکڑی مار کر بیٹھ رہے اور آج تک بیٹھے ہیں۔ فلم دوبارہ ہمیں ٹکٹ کے لیے کھڑکی تک نہ لے جا سکی۔

پاکستانی ڈراما کبھی بہت بڑے سیٹوں یا مہنگی ٹیکنالوجی پر نہیں چلا۔ اس کی اصل طاقت ہمیشہ سے مکالمہ رہا۔ دو ٹوک بات، کچھ ویسی ہی زبان جو ہمیں اردگرد سننے کو ملتی ہے۔

ڈراما آہستہ آہستہ ہم پاکستانیوں کی ایک قومی عادت بن گیا۔ یہ اس کی غیر معمولی کامیابی ہے اور فلم کی سب سے بڑی ناکامی۔

ڈرامے کے مقابلے میں فلم ایک بڑا وختہ ہے، محض کہانی اور ڈائیلاگ سے کام نہیں چلتا۔

فلم ایک پورا ماحولیاتی نظام مانگتی ہے۔ سینیما گھر چاہییں، سرمایہ چاہیے، سرمایہ کار، جدید کیمرے، ساؤنڈ، ایڈیٹنگ، مارکیٹنگ، ڈسٹری بیوشن اور پتہ نہیں کیا کچھ۔۔

ٹی وی چینلز کو اشتہارات سے فوری آمدن حاصل ہو جاتی ہے۔ پھر عادی شوقین عوام یوٹیوب وغیرہ سے دیکھ دیکھ کر متبادل ریوینیو کا سبب بنتی ہے۔

فلم میں کروڑوں روپے کی لاگت اور پھر مدھم سی امید کہ لوگ ٹکٹ خرید کر سینیما آئیں گے۔ اوپر سے فلم پر الگ دباؤ کہ اس نے بولی وڈ والا معیار برقرار رکھنا ہے۔

اگر پاکستانی فلم میں ساؤنڈ کمزور ہو، ایکشن مصنوعی لگے یا کہانی ٹی وی جیسی محسوس ہو تو ایک دم بوریت ہونے لگتی ہے۔

ہماری فلم ویسے بھی ’بڑی سکرین کے لیے بنے ڈرامے‘ جیسی لگتی ہے۔

سال میں ٹوٹل دس، بارہ فلمیں بن جاتی ہیں، ایک آدھ ’مولا جٹ‘ کی طرح کامیاب ہو جائے تو ہو جائے ورنہ زیادہ تر کا ہم نام بھی نہیں جان پاتے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

چند فلمیں کامیاب ہو بھی جائیں تو کیا فرق پڑتا ہے؟ ڈراما کامیاب ہوتا ہے کہ وہ ایک تسلسل میں چل رہا ہے، روزمرہ زندگی کے قریب ہے۔

بڑے خواب کم اور جذباتی ٹچے زیادہ ہوتے ہیں، مڈل کلاس کی نفسیات اور پسند ناپسند کی خوب جانچ پرکھ رکھتا ہے۔

فلم اس کے برعکس ایک عوامی تجربہ ہے۔ وہ آپ کو گھر سے باہر بلاتی ہے۔ بڑی سکرین، بلند آواز، اجتماعی ردعمل، یہ سب ایک مختلف ثقافتی مزاج مانگتے ہیں۔

ہم ابھی تک اس مزاج کو بحال کرنے میں ناکام ہیں۔ دوسرا مسئلہ فلم کو صنعت کی طرح سنجیدگی سے نہ لینا ہے۔

انڈیا میں فلم صرف آرٹ نہیں، معیشت ہے۔ جنوبی کوریا نے فلم اور موسیقی کو قومی طاقت بنایا۔ ترکی نے ڈراموں کو سفارتی اثرورسوخ میں بدل دیا۔

اور ہم؟ بوکھلائے پھرتے ہیں۔ نہ وژن ہے، نہ سپورٹ، نہ پالیسی۔ ہمارے ہاں سینیما اور عام آدمی کا رشتہ ٹوٹ چکا ہے۔ دنیا بھر میں سینیما سستی عوامی تفریح سمجھا جاتا ہے، مزدور، طالب علم اور مڈل کلاس چند پیسوں میں جا کر دو گھنٹے کسی اور دنیا میں گزار لے۔

پاکستان میں سینیما گلی محلے کی زندگی سے کٹا ہوا الگ ہی کسی دنیا کا حصہ ہے۔ مہنگے مالز کے اندر قید، ایسی جگہوں پر، جہاں عام آدمی خود کو ویسے ہی اجنبی محسوس کرتا ہے۔ وہاں وہ فلم دیکھنے جانے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔

ہم، ہمارا معاشرہ جذبات پسند کرتا ہے، تخیل نہیں۔ ڈراما اسے مانوس رشتے دیتا ہے، وہی ساس، وہی محبت، وہی خاندان، وہی فارمولا ٹائپ زندگی۔

اس کے برعکس، فلم ایک نئی دنیا اور بڑا وژن مانگتی ہے۔ ہم ثقافتی، تیکنیکی اور ریاستی، کسی بھی طرح فلم کے لیے ایک سازگار ماحول نہیں۔

ہمارے ہاں فلم کبھی کبھار کا ایونٹ رہے گی، اجتماعی تجربہ نہیں۔ یہ خلا ڈرامہ پر کر چکا ہے، آئندہ بھی کرتا رہے گا۔

نوٹ: یہ بلاگ لکھاری کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Read Entire Article