سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ انڈیا اور پاکستان بھر میں درجہ حرارت کا 40 ڈگری سیلسیئس کے بالائی ہندسوں تک پہنچ جانا اب شدید موسم کا کوئی غیر معمولی واقعہ نہیں رہا بلکہ یہ مون سون سے پہلے کے موسم کا ایک معمول بن چکا ہے۔
یہ نتیجہ ورلڈ ویدر ایٹریبیوشن کی ایک تیز رفتار ایٹریبیوشن سٹڈی سے سامنے آیا ہے، جو ایک بین الاقوامی سائنسی اشتراک ہے اور شدید موسمیاتی واقعات میں انسانی سرگرمیوں کے باعث پیدا ہونے والے موسمیاتی بحران کے کردار کا جائزہ لیتا ہے۔
جمعرات کو شائع ہونے والی اس تحقیق میں شدید گرمی کے اس طویل دورانیے کا جائزہ لیا گیا جس نے وسط اپریل اور مئی کے اوائل کے درمیان انڈیا اور پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لیا، جب کئی شہروں میں روزانہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 46 ڈگری سیلسیئس سے تجاوز کر گیا، جس کے نتیجے میں انڈیا میں گرمی سے کم از کم 37 اور پاکستان کے شہر کراچی میں 10 اموات ہوئیں۔
تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ موسمیاتی بحران نے اس طرح کی گرمی پڑنے کے امکانات کو تین گنا بڑھا دیا ہے اور خطرناک درجہ حرارت کا دورانیہ ہر سال طویل ہوتا جا رہا ہے۔
اس گرمی کی وجہ سے خطے بھر میں بجلی کی طلب بھی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی کیوں کہ ٹھنڈک کی ضروریات میں اضافہ ہوا اور زرعی خشک سالی نے دس لاکھ مربع کلومیٹر سے زیادہ رقبے کو متاثر کیا، جس سے کھیتی باڑی پر انحصار کرنے والے کروڑوں لوگوں کی غذائی سکیورٹی اور روزگار کو خطرہ لاحق ہو گیا۔
سائنس دانوں کو معلوم ہوا ہے کہ آج کی آب و ہوا میں اس پیمانے کی گرمی اب تقریباً ہر پانچ سال میں ایک بار پڑتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ کسی بھی سال اپریل میں اس موسم بہار جیسی گرمی پڑنے کا 20 فیصد امکان موجود ہے۔
صنعتی دور سے قبل کی آب و ہوا میں، اسی واقعے کے رونما ہونے کا امکان صرف ایک تہائی ہوتا، اور درجہ حرارت تقریباً ایک ڈگری کم ہوتا۔ صرف گذشتہ دس سالوں میں ہی، جیسے جیسے دنیا مزید 0.4 ڈگری سیلسیئس گرم ہوئی ہے، اسی طرح کے واقعات کا امکان تقریباً 35 فیصد بڑھ گیا ہے اور یہ 0.3 ڈگری زیادہ گرم ہو گئے ہیں۔
امپیریل کالج لندن میں انتہائی موسم اور موسمیاتی تبدیلی کی ریسرچ ایسوسی ایٹ اور اس تحقیق کی ایک مرکزی مصنفہ ڈاکٹر مریم زکریا نے کہا کہ ’جنوبی ایشیا میں جو کبھی شاذ و نادر پڑنے والی گرمی ہوا کرتی تھی اب وہ ایک باقاعدہ حقیقت بن چکی ہے۔‘
’درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ رہا ہے، جس سے انڈیا اور پاکستان میں کروڑوں لوگوں کے لیے جان لیوا حالات عام ہوتے جا رہے ہیں۔ شاید سب سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ ہماری تحقیق بتاتی ہے کہ مون سون سے پہلے کا گرم دورانیہ مزید گرم اور طویل ہوتا جا رہا ہے، جس کا مطلب ہے کہ لوگ اب سال کے ایک بہت بڑے حصے میں شدید گرمی کا سامنا کر رہے ہیں۔‘
محققین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی درجہ حرارت آج کی سطح سے مزید 1.3 ڈگری سیلسیس بڑھا تو اس موسم بہار کی ہیٹ ویو جیسے واقعات کا امکان دو گنا سے بھی زیادہ ہو جائے گا اور یہ تقریباً 1.2 ڈگری زیادہ گرم ہوں گے۔ جس کا مطلب ہے کہ آج کے معیارات کے مطابق جسے پہلے ہی انتہائی شدید سمجھا جاتا ہے، وہ مستقبل کے معیارات کے لحاظ سے مون سون سے پہلے کا ایک ٹھنڈا موسم بن جائے گا۔
یہ تحقیق اس بات کو بھی نمایاں کرتی ہے کہ گرمی میں سب سے زیادہ شدت مئی کی بجائے اپریل میں آ رہی ہے، جو سیزن میں توقع سے پہلے ہے۔ یہ اس لیے اہم ہے کیوں کہ سیزن کے شروع کی گرمی سب سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے کیوں کہ آبادیاں ابھی اس کی عادی نہیں ہوتی ہیں، اور دریائے سندھ اور گنگا کی وادیوں میں نمی کا بڑھتا ہوا اثر گرمی کے دباؤ کو اس حد تک بڑھا دیتا ہے جو صرف خشک درجہ حرارت کی ریڈنگز سے ظاہر نہیں ہوتا۔
![]()
ہندو پنڈت بارش کے لیے پوجا کر رہے ہیں (اے ایف پی)
تحقیق میں حوالہ دی گئی ریسرچ کے مطابق، پاکستان کے پنجاب کے کچھ حصوں میں روایتی اینٹوں اور کنکریٹ کی عمارتوں کا اندرونی درجہ حرارت گرم ترین مہینوں کے دوران 45 ڈگری سیلسیئس سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اس کا سب سے زیادہ بوجھ ان لوگوں پر پڑتا ہے جن کے پاس سب سے کم تحفظ ہوتا ہے۔ یہ تحقیق کھلی فضا میں کام کرنے والے مزدوروں، دیہاڑی داروں، ٹھنڈک کے بغیر کچے مکانات میں رہنے والے افراد، معمر افراد اور خواتین کو سب سے زیادہ خطرے سے دوچار قرار دیتی ہے، جس میں آمدنی، انفراسٹرکچر تک رسائی اور صنف سے جڑے خطرات میں گہرا فرق پایا جاتا ہے۔
اس سال کی ہیٹ ویو کئی انڈین ریاستوں میں ریاستی اسمبلی کے انتخابات کے ساتھ آئی، جس میں بڑی تعداد میں انتخابی اہلکار، ووٹرز اور مردم شماری کرنے والے شدید گرمی میں کھلے آسمان تلے کام کر رہے تھے۔ پاکستان میں، مساجد کے علاقوں کے قریب اموات ریکارڈ کی گئیں، جو محدود ہوا کی نکاسی والی پرہجوم عوامی جگہوں پر خطرات کو نمایاں کرتی ہیں۔
’اگرچہ انڈیا اور پاکستان نے ہیٹ ایکشن پلانز میں سرمایہ کاری کی ہے، لیکن یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ شدید گرمی بدستور کھلی فضا میں کام کرنے والے مزدوروں، کچے مکانات میں رہنے والے افراد اور دیہاڑی داروں کو غیر متناسب طور پر متاثر کر رہی ہے جو سب سے زیادہ خطرے کی زد میں اور کمزور ہیں۔‘ ریڈ کراس ریڈ کریسنٹ کلائمیٹ سینٹر میں اربن اور ایٹریبیوشن کے سربراہ روپ سنگھ نے کہا۔
روپ سنگھ نے کہا کہ سماجی تحفظ کے دائرہ کار کو بڑھانے اور ہیٹ ویوز کو باضابطہ طور پر ایک آفت قرار دینے سے، جو کہ اس وقت انڈیا اور پاکستان دونوں ہی نہیں کرتے، آفات سے نمٹنے کے امدادی فنڈز کا اجرا ممکن ہو سکتا ہے اور ایک زیادہ جامع ردعمل کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
امپیریل کالج لندن کے ایک اور ریسرچ ایسوسی ایٹ ڈاکٹر بین کلارک نے کہا: ’ہماری تحقیق بار بار یہ ظاہر کرتی ہے کہ خطرناک گرمی جو کبھی شاذ و نادر اور غیر معمولی ہوا کرتی تھی، تیزی سے معمول کا موسم بنتی جا رہی ہے۔‘
’ہم موجودہ گرمی کی سطح کے لیے بالکل بھی تیار نہیں ہیں، اور یہ جان لیوا واقعات اپنی تعداد اور شدت دونوں میں اس وقت تک بڑھتے رہیں گے جب تک کہ ہم گیسوں کے اخراج میں فوری کمی نہیں لاتے۔‘
تحقیق بتاتی ہے کہ جنوبی ایشیا میں درجہ حرارت میں اضافہ دنیا کے دیگر حصوں کی نسبت کچھ کم ہے، جس کی ایک وجہ فضا میں ایروسولز کی زیادہ مقدار اور وسیع پیمانے پر ہونے والی آبپاشی ہے جو جزوی طور پر ٹھنڈک کا باعث بنتی ہے۔
تاہم، جو عوامل خشک درجہ حرارت میں اضافے کو روکتے ہیں وہی زمینی سطح پر نمی میں بھی اضافہ کرتے ہیں، جس سے جسم پر پڑنے والا گرمی کا اصل دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ خاص طور پر کھلی فضا میں جسمانی مشقت کرنے والے افراد کے لیے، جن کی پسینے کے ذریعے جسم کو ٹھنڈا رکھنے کی صلاحیت زیادہ نمی میں متاثر ہوتی ہے۔ جب نمی کو شامل کر کے ہیٹ انڈیکس کو ماپا جاتا ہے تو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اور بھی زیادہ واضح ہو جاتے ہیں۔
.png)
3 hours ago
1



English (US) ·