فیصل آباد کے چلڈرن ہسپتال میں کام کرنے والی گولڈ میڈلسٹ ڈاکٹر نگینہ شہزادی بچوں کے معدے اور جگر کے امراض کی ماہر ہیں اور بچوں کے معدے سے بیٹریاں، سکے، کھلونوں کے چھوٹے پارٹس اور حتیٰ کہ بلیڈ جیسی خطرناک اشیا نکالنے جیسے پیچیدہ کیسز سنبھال چکی ہیں۔
ان کے مطابق یہ مسئلہ نہ صرف تشویشناک ہے بلکہ بعض اوقات بچوں کی جان کے لیے بھی خطرہ بن جاتا ہے۔
ڈاکٹر نگینہ شہزادی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ انہوں نے ایم بی بی ایس کے دوران مختلف مضامین میں سات گولڈ میڈل حاصل کیے۔
وہ فیصل آباد کی واحد پیڈیاٹرک گیسٹرواینٹرولوجسٹ ہیں اور اس وقت چلڈرن ہسپتال اینڈ انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ فیصل آباد میں پیڈیاٹرک گیسٹرواینٹرولوجی، ہیپاٹولوجی اینڈ نیوٹریشن کے شعبے کی سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔
ان کی نگرانی میں 2014 میں فیصل آباد میں بچوں کے معدہ و جگر کے امراض کے علاج کے لیے پہلا خصوصی وارڈ قائم کیا گیا، جس سے پہلے مریضوں کو لاہور، کراچی یا دیگر شہروں جانا پڑتا تھا۔
ڈاکٹر نگینہ شہزادی کے مطابق بچوں کا شعبہ انتہائی حساس ہے، جہاں معمولی سی غفلت بھی بڑے خطرے کا سبب بن سکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اب تک مختلف بچوں کے معدے سے 300 سے زائد مختلف اشیا نکالی جا چکی ہیں اور ہسپتال میں روزانہ ایسے کیسز سامنے آتے ہیں جن میں بچے کھیل کے دوران یا لاعلمی میں چیزیں نگل لیتے ہیں۔ اکثر بچے سکے، بیٹری سیل، نٹ بولٹ، کھلونوں کے چھوٹے حصے اور کبھی کبھار بلیڈ تک نگل لیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کئی مرتبہ والدین کو فوراً اندازہ نہیں ہو پاتا کیونکہ کم عمر بچے اپنی تکلیف بیان نہیں کر سکتے۔ جب بچے کو درد شروع ہوتا ہے یا ایکسرے کیا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس نے کوئی چیز نگل لی تھی، اور بعض اوقات معمولی تاخیر بھی پیچیدگیاں پیدا کر دیتی ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ڈاکٹر نگینہ کے مطابق حالیہ برسوں میں سب سے خطرناک کیسز بٹن سیلز اور مقناطیس نگلنے کے ہیں۔ گھڑیوں، ریموٹ کنٹرول اور کھلونوں میں استعمال ہونے والی چھوٹی گول بیٹریاں چند گھنٹوں میں اندرونی بافتوں کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ اسی طرح اگر بچہ ایک سے زیادہ مقناطیس نگل لے تو آنتوں میں سوراخ یا رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔
انہوں نے والدین کو مشورہ دیا کہ بیٹریاں، مقناطیس، کھلونوں کے چھوٹے حصے، زیورات اور خطرناک کیمیکل بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں، خاص طور پر ایسے کیمیکل جو خالی بوتلوں میں رکھے جاتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سرکاری ہسپتال میں اینڈوسکوپی سمیت یہ مہنگا علاج مفت فراہم کیا جا رہا ہے تاکہ بچوں کی جان بچائی جا سکے۔
فیصل آباد ایگریکلچر یونیورسٹی کے پروفیسر شہزاد بسرا نے ڈاکٹر نگینہ شہزادی کے کام کو انتہائی قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی محنت اور مہارت سے کئی معصوم بچوں کی زندگیاں بچائی جا چکی ہیں۔
پروفیسر شہزاد بسرا نے بھی والدین پر زور دیا کہ وہ استعمال شدہ سیلز، چھوٹی دھاتی اشیا اور دیگر خطرناک چیزیں بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں تاکہ کسی حادثے سے بچا جا سکے۔
.png)
5 hours ago
4



English (US) ·