وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے بتایا ہے کہ ملتان ایئرپورٹ پر عمرے کی آڑ میں خواتین کے جنسی استحصال میں ملوث ایک منظم نیٹ ورک بے نقاب ہوا ہے، جس کے بعد ایک مسافر خاتون اور اس کی نشاندہی پر ایک ایجنٹ کو گرفتار کر لیا گیا۔
ایف آئی اے ملتان کے ترجمان کے مطابق اتوار کو ملتان سے سعودی عرب جانے والی پرواز نمبر ایس وی 801 کے ذریعے انیشہ بی بی نامی خاتون عمرے کے نام پر سفر کرنا چاہ رہی تھیں۔ ترجمان نے بتایا کہ امیگریشن کلیئرنس کے دوران خاتون کا ریکارڈ مشکوک پائے جانے پر ٹیم نے ان سے پوچھ گچھ کی۔
خاتون سے تفتیش کے نتیجے پر ترجمان نے بتایا:’خاتون نے بتایا کہ ایک نیٹ ورک اسے جنسی استحصال کے لیے ویزہ لگوا کر عمرے کے نام پر بیرونِ ملک بھجوا رہا تھا، جس پر خاتون کی نشاندہی پر ایجنٹ محمد امجد کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔‘
ادارے کے مطابق ابتدائی تفتیش کے دوران خاتون کے موبائل فون، بات چیت اور دیگر ڈیجیٹل مواد کی جانچ سے کمرشل جنسی استحصال سے متعلق شواہد سامنے آئے۔
ترجمان نے بتایا کہ اس دوران منظم نیٹ ورک سے متعلق اہم تفصیلات بھی حاصل کی گئیں، اور نیٹ ورک کا سرغنہ سعودی عرب سے کارروائیاں چلا رہا تھا، جبکہ وہیں مقیم ایک ایجنٹ عمرہ ویزے کی آڑ میں مسافروں کو بھجوانے کے انتظامات کرتا تھا۔
ایف آئی اے کے مطابق جنسی استحصال اور انسانی سمگلنگ میں ملوث دیگر عناصر کی شناخت کے لیے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے، اور نیٹ ورک سے منسلک تمام افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
ادارے کے کام کرنے کے طریقہ کار کی وضاحت کرتے ہوئے ملتان میں ایف آئی اے کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا: ’ایف آئی اے کے ہر ایئرپورٹ کاؤنٹر پر بیرونِ ملک جانے والوں کی تفصیلات چیک کی جاتی ہیں۔ ٹریکنگ سسٹم کے ذریعے مشکوک پائے جانے پر مسافر سے دستاویزی معلومات کی بنیاد پر زبانی پوچھ گچھ کی جاتی ہے، جیسے اس کی مالی حیثیت اور سفری ریکارڈ کا عمرے کے مقصد سے موازنہ۔‘
افسر کے مطابق ملتان ایئرپورٹ سے پکڑی جانے والی خاتون بھی اسی طریقہ کار کے تحت بے نقاب ہوئیں، اور ان کی نشاندہی پر پورے نیٹ ورک کے خلاف کارروائی شروع کی گئی۔ ادارے نے بتایا کہ زیرِ تفتیش مشکوک افراد کے مستقبل کے سفر پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ وہ کسی اور راستے سے بیرونِ ملک جانے کی کوشش نہ کر سکیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایف آئی اے ریکارڈ کے مطابق گذشتہ ایک سال کے دوران صرف کراچی میں انسدادِ انسانی سمگلنگ سرکل نے بیرونِ ملک، بشمول عمرہ ویزے کی آڑ میں گداگری اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث 410 سے زائد ملزمان کو گرفتار کیا اور 144 مقدمات درج کیے۔ اسلام آباد، لاہور، ملتان اور سیالکوٹ کے ہوائی اڈوں پر بھی بڑے پیمانے پر ایسی کارروائیاں جاری ہیں۔
ٹریول ایجنٹس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے سابق چیئرمین آغا طارق سراج نے اس معاملے کا وسیع تر پس منظر بیان کرتے ہوئے کہا:
’یہ صرف عمرے پر جانے کا مسئلہ نہیں، بلکہ ایسے پاکستانی بھی ہیں جو وہاں جا کر غائب ہو جاتے ہیں یا بھیک مانگتے پکڑے جاتے ہیں۔ یہ معاملہ زیادہ تر ملتان سے آگے کے علاقوں سے سامنے آتا ہے۔ اسی لیے ہم مشکوک افراد کا ویزہ لگانے سے انکار کر دیتے ہیں، کیونکہ دوسرے ممالک میں پکڑے جانے پر بھجوانے والے ٹریول ایجنٹ کے خلاف بھی کارروائی ہوتی ہے۔‘
حکومتِ پاکستان کی جانب سے غیر قانونی یا مشکوک سرگرمیوں کی غرض سے بیرونِ ملک، خاص طور پر عرب ممالک جانے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔ ایف آئی اے کے مطابق مختلف ہوائی اڈوں پر کارروائیوں کے دوران گذشتہ ایک سال میں سینکڑوں مشکوک افراد کو گرفتار یا آف لوڈ کیا جا چکا ہے۔
<p><br />
27 ستمبر کو ایف آئی اے افسران ملتان ایئرپورٹ پر سمگلنگ نیٹ ورک سے متعلق گرفتاریوں کے بعد موجود ہیں (ایف آئی اے)</p>
.png)
1 hour ago
1



English (US) ·