حکومت پاکستان نے اتوار کو افغان وزارت دفاع کے اس دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا جس میں کہا گیا تھا کہ افغان فورسز نے مشرقی صوبے نورستان میں پاکستان سے سرحد پار کر کے آنے والے 28 عسکریت پسندوں کو مار دیا جبکہ 32 زخمی کر دیے۔
وزارت دفاع کے مطابق ان عسکریت پسندوں میں ’داعش‘ کے رکن بھی شامل تھے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق وزارت نے الزام عائد کیا کہ پاکستانی ملیشیاؤں نے ان عسکریت پسندوں کی مدد کی اور ان میں زیادہ تر سابق افغان حکومت کے سکیورٹی اہلکار تھے۔
روئٹرز آزادانہ طور پر افغان وزارت دفاع کے بیان یا اموات اور زخمیوں کی تعداد کی تصدیق نہیں کر سکا۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
کابل کا یہ دعویٰ کہ پاکستانی انٹیلی جنس نے سابق افغان سکیورٹی اہلکاروں کو تربیت دے کر سرحد پار بھیجا، مسلح دراندازی میں ریاستی مداخلت کا براہِ راست الزام ہے۔
یہ واقعہ 21 ستمبر کو افغانستان میں کیے گئے پاکستانی فضائی حملوں کے بعد پیش آیا ہے۔ اسلام آباد کے مطابق ان حملوں میں 28 عسکریت پسند مارے گئے تھے۔
پاکستان بارہا افغانستان پر اپنی سرزمین پر ایسے عسکریت پسندوں کو پناہ دینے کا الزام عائد کرتا رہا ہے جو پاکستان کے اندر حملے کرتے ہیں، تاہم کابل اس الزام کی تردید کرتا ہے۔
وزارت دفاع نے کہا کہ یہ گروپ ہفتے کو نورستان کے ضلع کامدیش میں داخل ہوا، جو پاکستان کی سرحد کے قریب واقع ہے اور اس گروپ کا مقصد حملے کرنا تھا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وزارت دفاع کے مطابق افغان فورسز کی کارروائی کے دوران زندہ بچ جانے والے عسکریت پسند سرحد پار پاکستانی ملیشیا کے ٹھکانوں کی جانب فرار ہوگئے۔
وزارت نے الزام عائد کیا کہ پاکستانی مسلح اہلکاروں اور ملیشیا کے ارکان نے سرحد پار آنے والے عسکریت پسندوں کے ساتھ رابطہ کاری کی، تاہم لڑائی شروع ہونے پر وہ پیچھے ہٹ گئے۔
وزارت نے پاکستانی انٹیلی جنس پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ اس نے سابق افغان سکیورٹی اہلکاروں کو امداد فراہم کرنے کے بہانے پاکستان منتقل کیا، انہیں تربیت دی اور نورستان بھیجا۔
پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات نے ایکس پر اپنے ردعمل میں کہا ’افغان طالبان حکومت کی جانب سے نورستان میں مبینہ تشدد کو پاکستان سے جوڑنے کے الزامات بے بنیاد، لغو اور حقیقت سے عاری ہیں۔‘
بیان کے مطابق ’پاکستان نورستان یا افغانستان کے کسی بھی دوسرے علاقے میں کسی داخلی جھڑپ میں اپنی سکیورٹی فورسز یا انٹیلی جنس اداروں کے ملوث ہونے کے من گھڑت دعوؤں کو واضح طور پر مسترد کرتا ہے، جن میں سابق افغان سکیورٹی اہلکاروں کو بھرتی یا تربیت دینے، یا افغانستان میں سرگرم داعش یا کسی بھی دوسرے دہشت گرد گروہ کو سہولت فراہم کرنے کے الزامات بھی شامل ہیں۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ افغان حکام نے پاکستان کے ملوث ہونے کے دعوے کو ثابت کرنے کے لیے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔
<p>طالبان کا ایک اہلکار 19 اگست، 2026 کو قندھار میں پہرہ دے رہا ہے (اے ایف پی)</p>
.png)
2 hours ago
1




English (US) ·