پاکستان فوج نے اتوار کو ایک بیان میں بتایا کہ اس کی سکیورٹی فورسز نے رواں ہفتے صوبہ بلوچستان میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کے دوران 70 سے زائد عسکریت پسندوں کو مار دیا۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے بیان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع نوشکی میں 11 جبکہ مند میں مزید چھ عسکریت پسندوں کو مارا۔
علاوہ ازیں سکیورٹی اہلکاروں نے ’آپریشن شعبان‘ کے تحت بلوچستان کے اضلاع کوئٹہ اور زیارت میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں کیں، جن میں 21 ستمبر سے اب تک 33 عسکریت پسند مارے جا چکے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ گذشتہ 96 گھنٹوں کے دوران آپریشن شعبان اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں 71 سے زائد دہشت گرد مارے جا چکے ہیں، جس سے انڈیا کی پشت پناہی رکھنے والے افغان پراکسیز کو شدید دھچکا پہنچا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ سکیورٹی فورسز نے ایک وسیع علاقے کو کلیئر کر دیا ہے اور مقامی آبادی کو پاکستانی طالبان اور بلوچ علیحدگی پسند عسکریت پسندوں کے لاحق خطرے سے نجات دلائی ہے۔
پاکستان فوج کے بیان پر نئی دہلی یا کابل کا فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
یہ بیان خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں عسکریت پسندوں کے حملوں کے معاملے پر پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور فوجی جھڑپوں کے بعد سامنے آیا۔ دونوں صوبوں کی سرحد افغانستان سے ملتی ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اسلام آباد اکثر انڈیا پر عسکریت پسندوں کی حمایت اور افغانستان پر ان عسکریت پسندوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کا الزام عائد کرتا ہے جو خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں حملے کرتے ہیں۔
نئی دہلی اور کابل مسلسل ان الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔
رواں سال جولائی میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور بلوچ علیحدگی پسند گروہوں نے جنوب مغربی صوبے میں مربوط حملے کیے تھے، جن میں درجنوں افراد جان سے گئے ۔
ان میں بلوچستان کے اضلاع زیارت اور کوئٹہ کے 27 پولیس اہلکار بھی شامل تھے۔ اس کے بعد سے پاکستانی فورسز نے خطے میں متعدد کارروائیاں کی ہیں۔
<p>19 مارچ 2026 کو صوبہ بلوچستان کے شہر چمن میں پاکستان-افغانستان سرحد پر ایک پاکستانی فوجی ڈیوٹی دے رہا ہے (اے ایف پی)</p>
.png)
1 hour ago
1




English (US) ·