امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو اپنی کابینہ کا اہم اجلاس ایسے وقت میں طلب کیا ہے جب ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے جاری مذاکرات ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔
اگرچہ ٹرمپ دعویٰ کر رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے، لیکن کئی اہم معاملات تاحال حل طلب ہیں۔
ٹرمپ کو امید ہے کہ اس معاہدے سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جا سکے گا اور وہ یہ اعلان کر سکیں گے کہ ایران کی جوہری صلاحیت کو مؤثر حد تک کم کر دیا گیا ہے۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ ادھورا ہے اور اس سے ایران مزید مضبوط ہو کر سامنے آ سکتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹرمپ کو صرف اپوزیشن ہی نہیں بلکہ اپنے ہی کچھ رپبلکن ساتھیوں کی تنقید کا بھی سامنا ہے۔
ان ناقدین کا کہنا ہے کہ معاہدے کی شرائط ایران کے حق میں زیادہ نرم ہیں اور یہ سابق صدر باراک اوباما کے جوہری معاہدے سے ملتی جلتی ہیں، جسے ٹرمپ خود ختم کر چکے تھے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ادھر پیر کو امریکی حملوں کے بعد صورت حال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
امریکہ کا مؤقف ہے کہ یہ ’دفاعی کارروائی‘ تھی، جبکہ ایران نے اسے بداعتمادی کی علامت قرار دیا ہے۔
ممکنہ معاہدے کے تحت ایران اپنے افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے دستبردار ہو سکتا ہے، جس کے بدلے اسے پابندیوں میں نرمی ملے گی، تاہم ایران نے ابھی تک اس پر واضح رضامندی ظاہر نہیں کی۔
ایک اور اہم مسئلہ یہ ہے کہ کیا یہ جنگ بندی لبنان پر بھی لاگو ہو گی جہاں اسرائیل مسلسل جنوبی علاقوں میں کارروائیاں کر رہا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ ان کی فوج لبنان میں اپنی کارروائیاں مزید تیز کر رہی ہے۔
دوسری جانب ٹرمپ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب، قطر اور پاکستان سمیت مزید ممالک اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے والے ابراہم معاہدوں میں شامل ہوں، مگر ماہرین کے مطابق یہ ہدف فی الحال مشکل دکھائی دیتا ہے۔
خطے کے اتحادی ممالک کو اگرچہ ایران کے ممکنہ برتری پر تشویش ہے لیکن اس کے باوجود وہ جنگ کے خاتمے کی کوششوں کی حمایت کر رہے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک اس تنازع کا کوئی آسان حل موجود نہیں۔
.png)
1 hour ago
1



English (US) ·