اسحاق ڈار کا مشرق وسطیٰ بحران میں کشیدگی میں کمی اور سفارت کاری پر زور

1 hour ago 1

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے منگل کو مشرق وسطیٰ کے موجودہ بحران میں کشیدگی کم کرنے اور سفارت کاری کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے تحمل اور مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بین الاقوامی امن و سلامتی سے متعلق کھلے مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ ’پاکستان، ایران کا قریبی ہمسایہ، خلیجی ممالک کا برادر ملک اور امریکہ کے ساتھ دیرینہ تعلقات رکھنے کی حیثیت سے مسلسل کشیدگی میں کمی اور بات چیت کی حمایت کرتا رہا ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ان کے 31 مارچ کو بیجنگ کے دورے کے دوران ’پاکستان اور چین نے خلیج اور مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے مشترکہ ’پانچ نکاتی اقدام‘ کا اعلان بھی کیا تھا، جس کا مقصد خطے میں تنازعات کے پرامن حل کو فروغ دینا ہے۔‘

اسحاق ڈار نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود تمام دیرینہ تنازعات کے حل کے لیے پرامن طریقہ کار کو یکساں طور پر اپنایا جانا چاہیے، جبکہ مسئلہ کشمیر کو فوری طور پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

The crisis of the international system today is not caused by the absence of principles. The principles are there and have been clearly spelt out and globally agreed. The crisis lies in their selective application. When sovereignty is defended in one case but disregarded in… pic.twitter.com/hgM40fOLAT

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) May 26, 2026

ان کے بقول: ’جموں و کشمیر کا تنازع تقریباً آٹھ دہائیوں سے حل طلب ہے، حالانکہ سلامتی کونسل کی متعدد واضح قراردادیں کشمیری عوام کو حق خود ارادیت دینے کی یقین دہانی کراتی ہیں۔ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن انکار، یکطرفہ اقدامات یا جبر کی بنیاد پر قائم نہیں ہو سکتا۔‘

انہوں نے مزید کہا گیا کہ سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی کسی بھی کوشش کے ساتھ خطے میں امن قائم نہیں رہ سکتا، کیونکہ یہ معاہدہ پانی کے تعاون اور علاقائی استحکام کے لیے ایک اہم فریم ورک ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسحاق ڈار نے زور دیا کہ پانی کو کبھی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے، معاہدوں کا احترام ضروری ہے، اور تنازعات کا حل بین الاقوامی قانون، مذاکرات اور انصاف کے اصولوں کے تحت اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عمل درآمد کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

فلسطین کے حوالے سے اسحاق ڈار نے کہا کہ جب تک قبضہ، جبری بے دخلی اور غیر قانونی بستیوں کا قیام جاری رہے گا، مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن ممکن نہیں۔ انہوں نے دو ریاستی حل کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کے قیام پر زور دیا۔

وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ کونسل کو زیادہ نمائندہ، شفاف اور مؤثر بنانا وقت کی ضرورت ہے، خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کو مناسب نمائندگی دی جانی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی امن صرف جنگ کے خاتمے کا نام نہیں بلکہ انصاف، مساوات، ترقی اور انسانی وقار کے تحفظ سے وابستہ ہے۔ اسحاق ڈار نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان عالمی امن، انصاف اور اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

Read Entire Article