یومِ مئی، سینیٹری ورکرز کے نام

22 hours ago 1

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp
کراچی کی مضافاتی بستی سرجانی ٹاؤن میں ایک گندے پانی کے گٹر ، کھولنے کے لیے تین سینیٹری ورکرز کو بلایا گیا۔ سینیٹری ورکرز ولسن، وقاص اور نذیر نے گٹر کھولنے کے لیے چھلانگ لگائی اور پھر زندہ واپس نہ آسکے۔ مظلوم طبقات کو منظم کرنے کی جدوجہد میں مصروف ولیم صادق نے بھٹو کالونی کے قبرستان سے یہ اطلاع دی کہ پہلے ایک مزدور گندے پانی میں بے ہوش ہوا تو اس کو بچانے کے لیے دوسرے مزدور نے گٹر میں چھلانگ لگائی مگر جب اس نے گٹر کے دھانے پر کھڑے افراد کی آوازوں کا جواب نہ دیا تو تیسرے مزدور نے اپنے دونوں ساتھیوں کو بچانے کے لیے گٹر میں اترنے کا فیصلہ کیا اور پھر تینوں مزدور زندگی کے دھکوں سے دور ہوگئے۔ گزشتہ سال 11 جون کو پنجاب کے ضلع سرگودھا کے بھلوال میں چار سینیٹری کارکنوں عرفان مسیح، رتن مسیح، بابر مسیح اور نعیم مسیح کو گندے پانی کے ٹینک کی صفائی کی ذمے داری دی گئی۔ یہ چاروں کارکن ٹینک میں اتر گئے مگر ٹینک میں پیدا ہونے والی زہریلی گیس نے ان چاروں کو بے ہوش کردیا۔ جب ریسکیو ورکرز نے چاروں کو نکال کر اسپتال پہنچایا تو پتہ چلا کہ عرفان مسیح، رتن مسیح اور بابر مسیح دنیا سے جاچکے تھے اور نعیم مسیح کی حالت نازک تھی۔ پاکستان میں سینیٹری ورکرز کی اموات کا معاملہ معمول کی بات ہے۔ پہلے تو حکام بالا ان ورکرز کی اموات کا نوٹس نہیں لیتے تھے، البتہ اب کچھ وزراء کے بیانات آجاتے ہیں۔ ایک سروے کے مطابق پاکستان میں ہر سال 100 سینیٹری ورکرز گٹر کی زہریلی گیس کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال کراچی میں 30 سینیٹری ورکز اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی کے دوران موت کا شکار ہوئے تھے۔ گزشتہ 5برسوں کے دوران پنجاب کے 19 اضلاع میں 84 سینیٹری ورکرز ہلاک ہوئے۔ یہ ورکرز ایک میونسپل کارپوریشن کے ملازم ہوتے ہیں اور ان کی مدت ملازمت کم از کم 15 سال ہو تو وہ گریڈ 1 کی پنشن کے مستحق ہوتے ہیں اور جو ورکرز کسی سرکاری ادارہ کے ملازم نہیں ہوتے ،ان کے لواحقین کے پاس سوائے ماتم کرنے کے کوئی اور راستہ نہیں ہوتا۔ ان ورکرز کی اموات اس بناء پر ہوتی ہیں کہ انھیں نہ ماسک دیے جاتے ہیں نہ آکسیجن کے سلنڈر اور نہ ہی لائف جیکٹ فراہم کی جاتی ہے اور اتنے پرخطر کام کرنے والے ان افراد کو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تربیت نہیں دی جاتی۔ سینیٹری ورکرز سرکاری ملازمت میں ہوں تو انھیں پرائیوٹ کام کرنے کے لیے اپنی تنخواہ میں سے کچھ حصہ افسران کو دینا ہوتا ہے۔ سینیٹری ورکرز کے کوئی اوقات کار نہیں ہوتے۔ یہ لوگ علی الصبح کام شروع کرتے ہیں اور کسی ہنگامی صورتحال میں انھیں رات کو بھی کام کرنا پڑتا ہے۔ پورے ملک میں ایسے کلچر کی جڑیں گہری ہیں کہ یہ لوگ افسران کے گھروں پر مفت میں کام کرتے ہیں۔ خواتین سینیٹری ورکرز کو بھی بہت مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ صرف سینیٹری ورکرز ہی نہیں مجموعی طور پر مزدور طبقہ کے حالات ناگفتہ بہ ہیں۔ کراچی کے امراء کے علاقوں میں کارپینٹر، راج مستری اور مزدور وغیرہ صبح چوراہوں پر آکر بیٹھ جاتے ہیں اور وہ سارا دن کام کے انتظار میں رہتے ہیں، اگر انھیں دیہاڑی مل جائے تو ان کا دن اچھا گزرتا ہے ، دوسری صورت میں یہ مزدور مایوس گھر لوٹ جاتے ہیں۔ غیر رسمی کام کرنے والے مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کوئی قانون نہیں ہے۔ مزدوروں اور پرائیوٹ اداروں میں کام کرنے والے افراد کو پنشن دینے والا ادارہ بھی رجسٹرنہیں کرتا۔ اسی طرح ہر صوبہ کا مزدوروں کو طبی سہولتیں فراہم کرنے والا ادارہ بھی ان غیر رسمی کام کرنے والوں کو مزدور تسلیم نہیں کرتا۔ اسی طرح گھروں سے مختلف نوعیت کے کام کرنے والے کارکنوں میں اکثریت خواتین کی ہے ۔انٹرنیٹ پر دستیاب اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں Home Based Workers (H.B.Ws) کی تعداد 4.4 ملین سے لے کر 5ملین کے قریب ہے مگر یہ تو غیر رسمی کام کرنے والے مزدوروں کو پنشن اور طبی سہولتیں حاصل نہیں ہوتیں، آجر انھیں اجرت پر پیس دیتے ہیں۔  ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی آبادی کا 20 فیصد سے لے کر 25 فیصد تک حصہ صنعتی اداروں میں ملازمت کرتا ہے۔ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی آبادی میں سے 67 ملین افراد لیبر فورس سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان میں سے 13 سے 17 ملین افراد صنعتی شعبہ میں کام کرتے ہیں، اگرچہ پاکستان عالمی ادارئہ محنت I.L.O کا رکن ہے اور پاکستان نے مزدوروں کے حالات کار سے متعلق اقوامِ متحدہ کے کنونشنز کی توثیق کی ہے اور مختلف ادوار میں نافذ ہونے والی لیبر پالیسیوں کے تحت محنت کشوں کے لیے لیبر قوانین نافذ کیے ہیں مگر ان قوانین پر عملدرآمد نہیں ہورہا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جنرل ضیاء الحق حکومت کے دور سے ہر حکومت نے ان قوانین پر عملدرآمد کے لیے حقیقی اقدامات نہیں کیے۔ یہی وجہ ہے کہ اب صنعتی اداروں میں ملازم کو 3ماہ کام کرنے کے بعد مستقل نہیں کیا جاتا بلکہ کنٹریکٹ اور تھرڈ پارٹی کنٹریکٹ پر رکھا جاتا ہے جس کی بناء پر 10,10 سال کا م کرنے والے کارکنوں کو پتہ نہیں چلتا کہ ان کا آجر کون ہے۔ کنٹریکٹ سسٹم میں تو مزدوروں کو تنخواہ، گریجویٹی ، بونس اور کسی بھی اولڈ ایج بینیفٹ کے تحت رجسٹریشن اور سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن کا حق حاصل ہوتا ہے مگر اکثر اداروں میں ایسی کوئی مراعات نہیں دی جاتیں، مگر تھرڈ پارٹی میں کام کرنے والوں میں مزدوروں سے لے کر بینکوں اور ملٹی نیشنل کارپوریشنز میں کام کرنے والے افسران تک شامل ہیں۔ حقیقی طور پر ڈیلی ویجز ورکرز کے طور پر کام کرنے میں آجر کسی بھی وقت کسی ملازم کو بغیر کوئی وجہ بتائے ملازمت سے برطرف کردیتا ہے اور ملازم کو خواہ اس کی مدتِ ملازمت کتنے ہی برسوں پر محیط ہو تنخواہ کے علاوہ کچھ نہیں ملتا۔ اب صنعتی اداروں میں مزدور یونین بنانا سنگین جرم سمجھا جاتا ہے۔  گزشتہ سال کراچی کے صنعتی علاقہ سائٹ کی ایک فیکٹری میں یونین بنانے اور تنخواہ کا مطالبہ کرتے پر یونین کے رہنماؤں پر فیکٹری میں داخل ہونے پر پابندی لگادی گئی تھی۔ جب مزدوروں نے احتجاج کیا تو پولیس فورس اور کراچی ضلع مغربی کی انتظامیہ نے یونین کے رہنماؤں کو تھانے بلاکر ہراساں کیا تھا۔ سندھ کی حکومت نے غیرہنرمند مزدور کی کم از کم تنخواہ 40 ہزار روپے ماہانہ اور ہنرمند مزدور کی تنخواہ 4200 روپے ماہانہ مقرر کی ہے مگر نجی شعبہ کا ذکر تو کیا سرکاری اداروں کے سیکیورٹی گارڈ کو بھی حکومت کی طے کردہ کم از کم تنخواہ نہیں دی جاتی ۔مزدوروں سے متعلق قوانین کو نافذ کرنے کی ذمے دار ی ہر صوبہ کے محکمہ لیبر پر عائد ہوتی ہے مگر اب محکمہ لیبر آجروں کا ترجمان بن گیا ہے۔ یہی صورتحال لیبر کورٹس کی ہے جہاں انصاف فروخت ہوتا ہے۔  شکاگو کے مزدوروں نے یکم مئی 1886کو 8 گھنٹے کام 8 گھنٹے آرام کے اصول مو منوانے کے لیے تاریخی جدوجہد کی تھی۔ امریکا کی پولیس نے طاقت کے ذریعے اس تحریک کو کچلنے کی کوشش کی۔ اس دن شکاگو کی سڑکیں مزدوروں کے خون سے سرخ ہوگئی تھیں۔ اپنے حق کے لیے جدوجہد کرنے والے 8مزدور رہنماؤں کو پھانسی کی سزا دی گئی مگر ایک مزدور رہنما نے پھانسی کے پھندہ پر یہ تاریخی اعلان کیا تھا کہ’’ تم ہمیں پھانسی دے سکتے ہو مگر اس تحریک کو نہیں روک سکتے۔‘‘ مزدوروں کی تحریک ریاستی جبر کے باوجود جاری رہی اور پھر برطانیہ نے اپنے مزدوروں کے 8گھنٹے کام کے حق کو تسلیم کیا۔ امریکا، کینیڈا اور یورپی ممالک میں مزدوروں کے اس حق کو تسلیم کیا جانے لگا۔ آج پاکستان میں مزدوروں کی صورتحال ناگفتہ بہ ہے۔ ایک طرف مزدوروں کے معاشی حقوق غصب کیے جارہے ہیں تو دوسری طرف ملک کے معاشی بحران نے مظلوم طبقہ کی کمر توڑ دی ہے، البتہ صورتحال کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ آج پاکستان میں مزدور تحریک کمزور ہوگئی ہے ۔ نئی نسل اپنے معاشی استحصال کے باوجود اجتماعی جدوجہد کے شعور سے محروم ہے۔ ریاستی پروپیگنڈہ کی بناء پر ٹریڈ یونین بنانے اور اس کے کام کرنے کو اب تو گناہ سمجھا جاتا ہے۔ ان نوجوانوں میں اجتماعی جدوجہد کی اہمیت کا شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ مزدور تحریک کمزور ہونے کی وجہ سے اب سیاسی جماعتیں بھی مزدوروں کے مطالبات کو اہمیت نہیں دیتیں۔ جمعہ کو یومِ مئی منانے والے کارکنوں کو سوچنا چاہیے کہ ایک مضبوط مزدور تحریک ہی مظلوم طبقات کے حقوق کا تحفظ کرسکتی ہے، اس سال کا یومِ مئی سینیٹری ورکرز کے نام ہونا چاہیے۔
Read Entire Article