یورپ رواں ہفتے ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر (ہیٹ ویو) کی لپیٹ میں ہے، اور ماہرین کے مطابق یہ دنیا کا سب سے تیزی سے گرم ہونے والا براعظم بن چکا ہے، جو مزید تیزی سے گرم ہونے والے آرکٹک خطے تک پھیلا ہوا ہے۔
برطانیہ، آئرلینڈ اور فرانس میں مئی کے مہینے کے ریکارڈ درجہ حرارت پیر اور منگل کو ٹوٹنے کے بعد بھی آئندہ دنوں میں مزید شدید گرمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اس شدید گرمی کی ایک بڑی وجہ شمالی افریقہ سے آنے والی گرم ہوا ہے، جو مغربی یورپ پر موجود ہائی پریشر سسٹم کے دباؤ میں ہے، جسے ’ہیٹ ڈوم‘ کہا جاتا ہے۔ اس قسم کی گرمی عام طور پر گرمیوں کے عروج میں دیکھنے کو ملتی ہے۔
ماہرین کے مطابق زمین کا اوسط درجہ حرارت صنعتی دور (1850-1900) کے مقابلے میں تقریباً 1.4 ڈگری سینٹی گریڈ بڑھ چکا ہے، جبکہ یورپ میں یہ اضافہ 2.4 ڈگری تک پہنچ چکا ہے۔
امپیریل کالج لندن کے محقق بین کلارک کے مطابق اس اضافے کی بڑی وجہ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی گرین ہاؤس گیسیں ہیں، جبکہ مختلف ماحولیاتی عوامل اس حرارت کی تقسیم کو متاثر کرتے ہیں۔
یورپ میں موسمی پیٹرن میں تبدیلی بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ کوپرنیکس کلائمیٹ سروس کے مطابق ہائی پریشر سسٹمز، جو زیادہ درجہ حرارت لاتے ہیں، اب زیادہ عام ہو چکے ہیں۔
ان سسٹمز کو ’بلاکنگ ہائیز‘ کہا جاتا ہے کیونکہ یہ ایک جگہ ٹھہر کر دیگر موسمی نظام کو روک دیتے ہیں۔
ٹرینیٹی کالج ڈبلن کی پروفیسر میری بورک کے مطابق یہ سسٹمز آسمان کو صاف رکھتے ہیں، بادل کم ہو جاتے ہیں، اور گرم ہوا سطح تک پہنچتی ہے، جس سے درجہ حرارت بڑھنے کے ساتھ نمی بھی کم ہو جاتی ہے۔
یورپ کے تیزی سے گرم ہونے کی ایک اور بڑی وجہ اس کا جغرافیہ ہے، کیونکہ یہ آرکٹک سے جڑا ہوا ہے، جہاں درجہ حرارت صنعتی دور کے مقابلے میں 3.2 ڈگری بڑھ چکا ہے۔
برف اور برفانی سطح کے پگھلنے سے سیاہ زمین اور سمندر سامنے آتے ہیں، جو زیادہ حرارت جذب کرتے ہیں اور اس عمل کو مزید تیز کرتے ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اسی طرح یورپ میں برف باری والے علاقوں میں کمی آئی ہے، جس کے باعث سفید برف کی جگہ گہری زمین زیادہ حرارت جذب کر رہی ہے۔
فضائی آلودگی میں کمی بھی ایک دلچسپ عنصر ہے۔ اگرچہ یہ صحت کے لیے فائدہ مند ہے، تاہم ہوا میں موجود ذرات میں کمی کی وجہ سے سورج کی شعاعیں زیادہ مقدار میں زمین تک پہنچ رہی ہیں، جس سے درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق یورپ کے مختلف حصوں میں درجہ حرارت بڑھنے کی رفتار مختلف ہے۔ مشرقی اور جنوب مشرقی یورپ میں درجہ حرارت میں 0.5 سے 1 ڈگری فی دہائی اضافہ ہوا، جبکہ مغربی یورپ میں یہ اضافہ 0.2 سے 0.5 ڈگری رہا۔
ناروے کے آرکٹک جزیرے سوالبارڈ میں درجہ حرارت سب سے تیزی سے بڑھ رہا ہے، جہاں ایک دہائی میں 1.5 سے 2 ڈگری اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ رجحان برقرار رہا تو یورپ میں شدید گرمی کی لہریں مزید عام اور خطرناک ہوتی جائیں گی، جس کے اثرات معیشت، ماحول اور انسانی صحت پر گہرے پڑ سکتے ہیں۔
.png)
1 hour ago
1


English (US) ·