’ہم کبھی گھٹنے نہیں ٹیکیں گے‘: ایرانی صدر

2 hours ago 1

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بدھ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہا کہ ایران کبھی ’گھٹنے نہیں ٹیکے گا۔‘

یہ ان کا اقوام متحدہ میں پہلا خطاب تھا جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف رواں سال کے آغاز پر جنگ چھیڑ دی تھی۔

اپنے خطاب میں مسعود پزشکیان نے جنگ کے آغاز میں ایران کے سابق رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کو قتل کرنے پر امریکہ پر ’دہشت گردی‘ کا الزام عائد کیا۔

انہوں نے ایرانی رہبر اعلیٰ کی تصویر ہاتھ میں اٹھائی اور کہا کہ ایران نے کبھی جنگ شروع نہیں کی۔

اس سے ایک روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایران کو ’تباہ‘ کرنے پر غور کر رہے ہیں، تاہم اس کے ساتھ ہی انہوں نے تہران اور واشنگٹن کے مذاکرات کاروں کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی بات چیت کو سراہا تھا۔

تاہم مسعود پزشکیان نے اپنی تقریر میں جنگ کے تعطل کو ختم کرنے کے لیے جاری مذاکرات کا کوئی ذکر نہیں کیا۔

انہوں نے کہا: ’ٹرمپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ پابندیوں، بڑھتے ہوئے دباؤ اور دھونس میں اضافے کے مقابلے میں ایرانی عوام کی مزاحمت مزید بڑھے گی۔ ہم کبھی سر نہیں جھکائیں گے اور نہ ہی گھٹنے ٹیکیں گے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مسعود پزشکیان نے اصرار کیا کہ تہران آبنائے ہرمز کو، جس کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے وقفے وقفے سے ناکہ بندی کی گئی ہے اور جس کے باعث عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، اپنے ملک کے خلاف جارحیت کے لیے استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔

انہوں نے کہا: ’ہم یہ اجازت نہیں دے سکتے کہ کچھ لوگوں کو اس آبی گزرگاہ تک آزادانہ رسائی حاصل ہو اور وہ اپنے مفادات کو تقویت دیں، جبکہ اسی وقت وہ اس آبی گزرگاہ کو ہمارے خلاف اپنی جارحیت مسلط کرنے کے لیے استعمال کریں۔‘

ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو کانگریس پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

نیویارک میں اقوام متحدہ کی اہم سفارتی سرگرمی میں مسعود پزشکیان کی شرکت کے بارے میں پہلے شکوک و شبہات تھے کیونکہ یہ واضح نہیں تھا کہ امریکہ انہیں ویزا جاری کرے گا یا نہیں۔

بالآخر واشنگٹن نے انہیں ویزا جاری کر دیا، تاہم پزشکیان کے وفد کے کئی ارکان کو ویزے دینے سے انکار کر دیا گیا۔

ایرانی صدر نے کہا کہ ایرانی عوام امریکہ کی جانب سے ’دہشت گردی کا شکار‘ ہوئے ہیں۔ انہوں نے آیت اللہ علی خامنہ ای اور جنگ کے ابتدائی دنوں میں جان سے جانے والے 150 سے زائد ایرانی سکول کے بچوں کی بڑی تصاویر بھی ہاتھ میں اٹھائیں۔

پزشکیان نے جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہا: ’ہم نے صرف اپنا دفاع کیا ہے۔ ہم دہشت گرد نہیں ہیں۔ ہمارے بے گناہ لوگوں کو بزدلانہ حملوں اور جارحیت کا نشانہ بنایا گیا، جو ہمارے ملک پر مسلط کی گئی۔ اور ہم نے پوری قوت سے اپنا دفاع کیا۔ امریکہ اور اسرائیل نے ہم پر حملہ کیا۔‘

اپنے خطاب میں مسعود پزشکیان نے جنگ کے آغاز میں ایران کے سابق رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کو قتل کرنے پر امریکہ پر ’دہشت گردی‘ کا الزام عائد کیا۔
جمعرات, ستمبر 24, 2026 - 00:00
Main image: 

<p>ایران کے صدر مسعود پزشکیان 23 ستمبر 2026 کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں 81ویں جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کے دوران ایران کے سابق رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کی تصویر ہاتھ میں اٹھائے ہوئے (اے ایف پی)</p>

type: 
SEO Title: 
’ہم کبھی گھٹنے نہیں ٹیکیں گے‘: ایرانی صدر
Read Entire Article
Chatroom