ہر سمسٹر نوکری جاتے جاتے رہ جاتی ہے
پروفیسر کا کیریئر داؤ پر لگا دینے والے طالب علموں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے جامعات میں غیر منظم فیور کے چکر کو جنم دیا ہے۔ یہ مسئلہ پچھلے کئی سالوں سے آ رہا ہے، لیکن سوشل میڈیا کی موجودگی نے اسے مزید گھمبیر بنا دیا ہے۔
Background & Context
جامعات میں پروفیسروں کا سب سے پہلے اور سب سے زیادہ سامنا طالب علموں سے ہوتا ہے۔ بعض طالب علم پروفیسروں سے بات کرتے ہیں، جبکہ کچھ طالب علم پروفیسروں کی ہر بات اور عمل کو تنقیدی نظر سے دیکھتے ہیں۔
سوشل میڈیا نے اس صورتِ حال کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے۔ پہلے جو بات کمرہ جماعت کی چار دیواری تک محدود رہتی تھی، اب بغیر سیاق و سباق کے سوشل میڈیا تک پہنچ جاتی ہے۔
Key Details
پروفیسر کے کیریئر کا فیصلہ سنا دینے والے طالب علموں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے جامعات میں غیر منظم فیور کے چکر کو جنم دیا ہے۔ اکثر یہ طالب علم ہر وقت کسی نہ کسی فیور کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ کبھی انہیں اپنی حاضری پوری کروانی ہوتی ہے، کبھی اسائنمنٹ کی تاریخ میں توسیع لینی ہوتی ہے تو کبھی حاصل شدہ نمبر بڑھوانے ہوتے ہیں۔
طالب علموں کو ان کی مرضی کا فیور مل جائے تو آپ ان کے پسندیدہ ترین پروفیسر بن جاتے ہیں اور اگر آپ انکار کر دیں تو آپ سے برا کوئی نہیں ہوتا۔ پھر یہ مختلف دفاتر میں یک طرفہ کہانی سناتے ہیں اور اپنے لیے فیور لینے کے چکر میں پروفیسر کا کیریئر داؤ پر لگا دیتے ہیں۔
چنانچے پروفیسر اور طالب علم چار ماہ ایک ساتھ گزارتے ہیں۔ ان چار مہینوں میں جتنا طالب علم کو پروفیسر کے مزاج کا پتہ لگتا ہے، اتنا ہی پروفیسروں کو بھی طلبہ کے رنگ ڈھنگ پتہ لگ جاتے ہیں۔
What Experts Say
ہمارے ایک ڈین کہتے ہیں کہ ہمیشہ پالیسیوں پر عمل کریں۔ ایسا کرنا آپ کو مسائل سے بچائے گا۔
سمسٹر کے وسط تک پروفیسر کو اندازہ ہو جاتا ہے کہ چند ہفتے بعد فلاں اور فلاں طالب علم مختلف فیور لینے کے لیے ان کے دفتر کے چکر لگائیں گے۔ اکثر یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان کے بہانے کیا ہوں گے۔
Key Takeaways
- پروفیسر کا کیریئر داؤ پر لگا دینے والے طالب علموں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے جامعات میں غیر منظم فیور کے چکر کو جنم دیا ہے۔
- سوشل میڈیا کی موجودگی نے یہ مسئلہ مزید گھمبیر بنا دیا ہے۔
- جامعات میں پروفیسروں کا سب سے پہلے اور سب سے زیادہ سامنا طالب علموں سے ہوتا ہے۔
- کچھ طالب علم پروفیسروں سے بات کرتے ہیں، جبکہ کچھ طالب علم پروفیسروں کی ہر بات اور عمل کو تنقیدی نظر سے دیکھتے ہیں۔
What This Means For You
جامعات میں غیر منظم فیور کے چکر کو روکنے کے لیے، طالب علموں کو جامعات کی پالیسیوں کے مطابق اپنے کام کو کرنا چاہیے۔ پالیسیوں میں نرمی نہیں کی جائے گی۔ گنجائش صرف ایمرجنسی کی صورت میں نکلے گی اور اس ایمرجنسی کا تعین جامعہ کرے گی۔
پروفیسر کے کیریئر کا فیصلہ سنا دینے والے طالب علموں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے جامعات میں غیر منظم فیور کے چکر کو جنم دیا ہے۔ ہمیشہ پالیسیوں پر عمل کریں اور اپنے ریکارڈ صاف رکھیں۔ جب انکوائری ہو، وہ ریکارڈ یونیورسٹی کے سامنے رکھ دیں اور طالب علم کو اپنے کیے کا خمیازہ بھگتنے دیں۔
جامعات میں غیر منظم فیور کے چکر کو روکنے کے لیے، ہمیشہ پالیسیوں پر عمل کریں اور اپنے ریکارڈ صاف رکھیں۔ جب انکوائری ہو، وہ ریکارڈ یونیورسٹی کے سامنے رکھ دیں اور طالب علم کو اپنے کیے کا خمیازہ بھگتنے دیں۔
.png)
4 days ago
10



English (US) ·