اکیسویں صدی کے آغاز تک، امریکہ واحد سپر پاور بن چکا تھا۔ اس کا سب سے بڑا حریف سوویت یونین 1991 میں بکھر چکا تھا۔ چین ابھی اس پوزیشن میں نہیں تھا کہ امریکہ کی بالادستی کو چیلنج کر سکے۔ بین الاقوامی تعلقات میں باہمی رابطے اور ایک دوسرے پر انحصار کا جذبہ سرایت کر چکا تھا۔
عالمگیریت (گلوبلائزیشن) کا دور شروع تھا اور دنیا ایک ’عالمی گاؤں‘ کا منظر پیش کر رہی تھی۔ تنازعات کے حل اور کثیر الجہتی تعاون کو فروغ دینے کے لیے سفارت کاری بنیادی ذریعہ بن کر ابھری۔ اقوام متحدہ نے بچوں، خواتین، انسانی حقوق، سماجی ترقی اور ماحولیات جیسے موضوعات پر بڑے پیمانے پر کانفرنسوں کا انعقاد کیا تاکہ ترقی کے لیے ایک عالمی اور اصولی فریم ورک تشکیل دیا جا سکے۔
پھر 11 ستمبر 2001 کے دہشت گردانہ واقعات پیش آئے۔ غیر ریاستی عناصر کی جانب سے سرحد پار دہشت گردی بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے ایک بڑے خطرے کے طور پر سامنے آئی۔ امریکہ نے القاعدہ کو نشانہ بنانے کے لیے افغانستان اور پھر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے خاتمے کے لیے عراق پر حملہ کیا۔ سفارت کاری پس منظر میں چلی گئی۔
دیگر بڑی طاقتوں نے بھی بین الاقوامی قوانین کی پروا کیے بغیر، یکطرفہ اور کھلے عام اپنے مخالفین کے خلاف طاقت کا استعمال شروع کر دیا۔ دنیا بھر میں مسلح تنازعات میں اضافہ ہونے لگا۔ دنیا بدلنے لگی۔ عالمگیریت کا جذبہ ماند پڑ گیا۔ قوموں پر شدید قوم پرستی چھا گئی۔ عوامی مقبولیت کے دعوے دار ایسے رہنما ابھرے جنہوں نے مذہبی، نسلی، لسانی یا حتیٰ کہ تارکینِ وطن کی حیثیت کی بنیاد پر اقلیتوں کے خلاف نفرت کا زہر اگلا۔ 1945 سے قائم عالمی نظام انتشار کا شکار ہو گیا۔
واحد سپر پاور کے طور پر امریکہ کی حیثیت کو طاقت کے ابھرتے ہوئے مراکز، خاص طور پر چین کی جانب سے چیلنج کا سامنا کرنا پڑا۔ امریکہ اور چین کے درمیان بڑی طاقتوں کا مقابلہ شدت اختیار کر گیا، جس سے یہ خدشات پیدا ہوئے کہ دنیا مزید تقسیم ہو سکتی ہے۔ تکنیکی انقلاب نے خودکار ہتھیاروں، جیسے میزائل اور مسلح ڈرونز تک رسائی آسان بنا دی، جس سے دنیا مکمل انتشار کے دہانے پر پہنچ گئی۔
دنیا کو اس بڑھتے ہوئے انتشار سے کیسے نمٹنا چاہیے جسے ہائبرڈ جنگوں، الیکٹرانک جنگ، سائبر حملوں اور مہلک خودکار ہتھیاروں نے مزید سنگین بنا دیا ہے؟
سفارت کاری ہی اس کا واحد حل معلوم ہوتی ہے۔ آئیے جائزہ لیتے ہیں کہ ہمارے دور کے اہم عالمی تنازعات میں سفارت کاری کا کردار کیسا رہا ہے۔
اولاً، امریکہ اور چین کے درمیان مسابقت نے ان خدشات کو جنم دیا ہے کہ دنیا دوبارہ مختلف کیمپوں میں تقسیم ہو سکتی ہے۔ امریکہ نے بظاہر ابھرتے ہوئے چین کا راستہ روکنے کے لیے ’انڈو پیسیفک حکمت عملی‘ کا آغاز کیا۔
امریکہ، آسٹریلیا، انڈیا اور جاپان نے ’کواڈ‘ نامی ایک سکیورٹی اتحاد تشکیل دیا۔ بحر الکاہل اور بحر ہند میں اپنی برآمدات کی راہ میں حائل ہونے والی ممکنہ رکاوٹوں کے پیشِ نظر، چین نے روس کے ’وسیع تر یوریشین شراکت داری‘ کے سفارتی اقدام میں شمولیت اختیار کی اور ایشیا کو یورپ سے تین زمینی راستوں اور آرکٹک سمندر سے گزرنے والے ایک بحری راستے کے ذریعے جوڑنے کا فیصلہ کیا۔
14 مئی 2026 کو سربراہی سطح کی سفارت کاری کے نتیجے میں صدر ٹرمپ اور صدر شی اس نتیجے پر پہنچے کہ اگر وہ دونوں ’تعمیری سٹریٹجک استحکام‘ کے لیے کام کریں تو دنیا کے لیے یہ بہتر ہوگا۔ سفارت کاری نے اس صورت حال کو قابو کرنے میں مدد دی جو ایک بڑی عالمی کشمکش یا تصادم کی شکل اختیار کر سکتی تھی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ثانیاً، یورپ اور امریکہ کے درمیان ’ٹرانس اٹلانٹک اتحاد، جس نے 1949 سے یورپی ریاستوں کو تحفظ فراہم کر رکھا تھا، اب کمزور پڑ رہا ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ یورپی ممالک اپنے دفاع پر زیادہ اخراجات کریں۔ جب تک یورپی ممالک بھرپور سفارتی کوششیں نہیں کرتے، براعظم کی سلامتی اور امریکہ کے ساتھ یورپ کا اتحاد غیر یقینی صورت حال کا شکار رہے گا۔
دریں اثنا، روس-یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے بھی فعال سفارت کاری کی ضرورت ہے۔ یہ تنازع اب اپنے پانچویں سال میں داخل ہو چکا ہے۔
ثالثاً، جنوبی ایشیا میں دو جوہری ہتھیاروں سے لیس پڑوسی ممالک پاکستان اور انڈیا کے درمیان مئی 2025 میں چار روزہ جنگ ہوئی، جسے امریکی صدر کی سفارتی کوششوں سے ختم کروایا گیا۔ سفارت کاری نے ایک ممکنہ تباہی کو ٹالنے میں مدد کی۔
رابعاً، مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل نے غزہ میں مقیم فلسطینیوں کے خلاف دو سالہ نسل کشی کا سلسلہ جاری رکھا۔ ’بورڈ آف پیس‘ کی سفارت کاری کے ذریعے ہی اس جنگ کو روکا جا سکا، اگرچہ اسرائیل نے غزہ اور اب جنوبی لبنان میں بمباری کا سلسلہ مکمل طور پر بند نہیں کیا ہے۔
ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی 40 روزہ جنگ 4 اپریل کو اس وقت تھم گئی جب پاکستان کی فعال سفارت کاری نے جنگ بندی کروانے میں مدد کی۔ 47 سالہ شدید دشمنی کے بعد، چند ہی دنوں میں امریکہ اور ایران نے مذاکرات کے لیے اپنے وفود اسلام آباد بھیجے۔ پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششوں سے ایک مفاہمت کی یادداشت تیار کرنے میں مدد ملی، تاہم فریقین کی جانب سے اس مفاہمت کی مسلسل خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔
دو مسائل تاحال حل طلب ہیں: آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا اور ایران کا جوہری پروگرام۔ اگرچہ تعطل برقرار ہے، لیکن اس بات کو یقینی بنانے کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں کہ مکمل جنگ دوبارہ شروع نہ ہو۔
مغربی ایشیا میں اب دور رس نوعیت کے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ خلیجی ممالک 1974 کے ’پیٹرو ڈالر‘ معاہدے کے بعد سے امریکہ کی جانب سے فراہم کردہ سکیورٹی کی ضمانت کے حوالے سے غیر یقینی کا شکار ہیں۔ خطے کے ممالک اب متبادل سکیورٹی انتظامات تلاش کرنے لگے ہیں۔ مئی 2025 میں انڈیا کے ساتھ تنازعے میں پاکستان کی کامیابی کے بعد، سعودی عرب اور پاکستان نے باہمی دفاع کے ایک سٹریٹجک معاہدے پر دستخط کیے۔
چند ہی ماہ میں ترکی، پاکستان اور سعودی عرب نے ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ پر دستخط کر دیے۔ ایران نے اس معاہدے پر کوئی منفی ردعمل ظاہر نہیں کیا کیونکہ وہ کسی بیرونی فریق کے مقابلے میں خطے کے اندرونی سکیورٹی انتظامات کو ترجیح دیتا ہے۔
امریکہ کی جانب سے بھی کوئی منفی ردعمل سامنے نہیں آیا کیونکہ واشنگٹن میں مکہ معاہدے کو ذمہ داریوں میں اشتراک کے طور پر دیکھا گیا۔ چین اس بات پر خوش ہے کہ خطہ اجتماعی تحفظ اور اجتماعی ڈیٹرنس (رکاوٹی قوت) کے اصولوں کے ذریعے زیادہ مستحکم امن کی جانب بڑھ رہا ہے۔
یہ دونوں اصول درحقیقت اقوام متحدہ کے چارٹر میں بیان کردہ ’پرامن بقائے باہمی‘ کے اصولوں کی ہی عکاسی کرتے ہیں۔ چونکہ یہ معاہدہ ’اجتماعی تحفظ‘ کے تصور پر مبنی ہے، اس لیے ممکن ہے کہ بعد میں دیگر ممالک بھی اس میں شامل ہو جائیں۔
امریکہ نے ایران کے خلاف سخت معاشی دباؤ ڈالنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امریکی فوجی کارروائی کی طرح، معاشی پابندیوں کا یہ نیا دور بھی ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے میں ناکام رہے گا۔ امریکہ میں عوامی رائے جنگ کے خلاف ہو چکی ہے۔ اب یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ مغربی ایشیا کے تنازعے کا کوئی فوجی حل موجود نہیں ہے۔ فریقین جتنی جلدی سفارت کاری کی طرف واپس آئیں گے، اتنا ہی ان کے، خطے اور دنیا کے لیے بہتر ہوگا۔
اب تک یہ بات بھی واضح ہو جانی چاہیے کہ فوجی طاقت کا یکطرفہ اور غیر قانونی استعمال ہمارے دور کا سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ عالمی انتشار کے اس دور میں پیچیدہ بین الاقوامی تعلقات کو سنبھالنے کے لیے سفارت کاری کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
مغربی ایشیا میں اپنایا جانے والا ’اجتماعی تحفظ‘ کا تصور ہمیں امید دلاتا ہے کہ دنیا جلد ہی تنازعات کے حل کے لیے ان سفارتی طریقوں کی طرف لوٹ آئے گی، جن کا ذکر اقوام متحدہ کے چارٹر میں کیا گیا ہے۔
مصنف ’صنوبر انسٹی ٹیوٹ‘ کے چیئرمین اور پاکستان کے سابق سیکرٹری خارجہ ہیں۔
یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
<p class="rteright">26 فروری 2026 کو امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں شریک سفارت کار۔ یہ مذاکرات ناکامی پر منتج ہوئے تھے (اے ایف پی)</p>
.png)
1 hour ago
1


English (US) ·