Want Your Business Featured Here?
Get instant exposure to our readers
Chat on WhatsApp
کوہاٹ پولیس لائنز پر ہونے والے دہشت گرد حملے کی ابتدائی تحقیقات میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ تحقیقاتی ٹیم کے مطابق حملہ آور صرف خودکش حملے تک محدود نہیں تھے بلکہ پولیس لائنز کے اندر داخل ہوکر کئی گھنٹوں تک کمپاؤنڈ کا محاصرہ برقرار رکھنے کی منصوبہ بندی کے ساتھ آئے تھے۔
ذرائع کے مطابق دہشت گرد اپنے ہمراہ دستی بم، اسنائپر گنز اور دیگر اسلحہ و بارودی مواد لائے تھے۔ حملے کے دوران پولیس لائنز کے مختلف حصوں میں داخل ہونے کے بعد دہشت گردوں نے فائرنگ اور دستی بموں کا استعمال کیا۔ پولیس کی درج ایف آئی آر میں بھی حملے کے دوران فائرنگ اور دستی بموں کے استعمال کا ذکر کیا گیا ہے۔
تحقیقاتی حکام کے مطابق حملے کا آغاز بارود سے بھرے رکشہ نما گاڑی کو پولیس لائنز کے قریب ٹکرانے سے ہوا، جس کے نتیجے میں شدید دھماکا ہوا۔ دھماکے کے فوراً بعد مسلح دہشت گرد پولیس لائنز کے اندر داخل ہوئے اور مختلف اہم عمارتوں کی جانب پیش قدمی کی۔ پولیس کے مطابق ابتدائی حملے کے بعد سات مسلح دہشت گرد کمپاؤنڈ میں داخل ہوئے، جن میں ایک اسنائپر بھی شامل تھا۔
تحقیقاتی ٹیم کے مطابق دہشت گردوں کی کوشش تھی کہ دھماکے اور فائرنگ کے بعد پولیس کو منتشر کرکے زیادہ سے زیادہ وقت تک کمپاؤنڈ کے اندر موجود رہیں۔ تاہم پولیس اہلکاروں نے شدید فائرنگ اور زخمی ہونے کے باوجود مزاحمت جاری رکھی، جس کے باعث حملہ آوروں کو منصوبے کے مطابق پیش قدمی کا موقع نہ مل سکا۔
ایک سینئر پولیس افسر نے ایکسپریس ٹربیون سے گفتگو میں بتایا کہ حملے کے دوران ڈرون ٹیکنالوجی کے استعمال اور پولیس و دیگر فورسز کے بروقت رسپانس نے دہشت گردوں کی نقل و حرکت کی نگرانی اور کارروائی میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق فورسز نے صورتحال کو فوری طور پر کنٹرول میں لیا اور دہشت گردوں کو مزید پھیلنے سے روکا۔
حکام کے مطابق دہشت گردوں کی جانب سے پولیس لائنز کی عمارتوں میں داخل ہونے کے بعد طویل مقابلہ جاری رہا۔ کلیئرنس آپریشن کے دوران پولیس، سی ٹی ڈی، ایلیٹ فورس اور سیکیورٹی فورسز نے مشترکہ کارروائی کی، جو تقریباً 20 سے 21 گھنٹے جاری رہی۔ آپریشن کے اختتام پر آٹھ دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔
ابتدائی حملے میں 21 افراد، جن میں 15 پولیس اہلکار شامل تھے، شہید ہوئے جبکہ 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔ بعد ازاں کلیئرنس آپریشن کے دوران مزید ہلاکتوں کی اطلاع سامنے آئی اور تازہ سرکاری اطلاعات کے مطابق مجموعی شہادتیں 23 تک پہنچ گئیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حملے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور دہشت گردوں کے سہولت کاروں، حملے کی منصوبہ بندی، اسلحہ و بارود کی فراہمی اور ممکنہ روابط سمیت تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔