کراچی: کارٹون کرداروں سے فحش مواد بنانے کا الزام، 12 ملزمان کا جسمانی ریمانڈ

2 hours ago 2

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

کراچی کی ایک عدالت نے کارٹون اور اینیمیٹڈ کرداروں کے ذریعے مبینہ طور پر فحش مواد تیار کرنے اور اسے بین الاقوامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کے مقدمے میں گرفتار 12 ملزمان کو چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے حوالے کر دیا ہے۔

ہفتے کو جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی ون کی عدالت میں پیش کیے گئے ملزمان میں یاسر علی، علی ڈنو، ذیشان علی، محمد عنصر اور دیگر شامل تھے۔

تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان سے مزید پوچھ گچھ اور مقدمے کی تفتیش باقی ہے جس پر عدالت نے جسمانی ریمانڈ کی استدعا منظور کر لی۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

یہ مقدمہ کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں قائم ایک مبینہ کال سینٹر پر 23 اکتوبر کو ہونے والی کارروائی کے بعد درج کیا گیا جس میں 42 افراد کو گرفتار اور تقریباً 12 بچوں کو ریسکیو کیا گیا تھا۔

 این سی سی آئی اے کا دعویٰ ہے کہ وہاں حقیقی افراد کی تصاویر اور اینیمیٹڈ کرداروں کو استعمال کرکے جنسی نوعیت کا مواد تیار کیا جاتا تھا جسے بیرون ملک فروخت کرکے مالی فائدہ حاصل کیا جاتا تھا۔

 تاہم ملزمان کی وکیل نے ان الزامات کو چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ کال سینٹر میں موجود تمام افراد اس سرگرمی میں ملوث نہیں تھے اور ان کے مؤکلوں کے خلاف قابلِ اعتراض مواد کی برآمدگی کا ثبوت بھی سامنے نہیں آیا۔

گلشن اقبال کے کال سینٹر پر کارروائی کیسے ہوئی؟

ایف آئی آر نمبر 113/2026 کے مطابق این سی سی آئی اے نے 23 اکتوبر کو کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں رابعہ سٹی کے گراؤنڈ فلور پر قائم ایک کال سینٹر پر کارروائی کی۔

ایجنسی کے مطابق کارروائی کے دوران مختلف ڈیجیٹل آلات قبضے میں لیے گئے، جنہیں فارنزک تجزیے کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔

مقدمے میں پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کی دفعات 3، 13 اور 14 جبکہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 34 اور 109 شامل کی گئی ہیں۔

این سی سی آئی اے کا مؤقف ہے کہ ملزمان مبینہ طور پر ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی مدد سے قابل اعتراض مواد تیار کرنے اور اسے فروخت کرنے میں ملوث تھے۔

مبینہ نیٹ ورک کس طرح کام کرتا تھا؟

این سی سی آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر شہزاد اکبر نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں ڈیجیٹل مواد کی تین مختلف اقسام سامنے آئی ہیں۔

ان کے مطابق گرفتار افراد پر الزام ہے کہ وہ حقیقی افراد کی تصاویر کو کارٹون اور اینیمیٹڈ کرداروں کے ساتھ ملا کر جنسی نوعیت کی ویڈیوز تیار کرتے تھے۔

شہزاد اکبر نے بتایا کہ بعض کلائنٹس کی فرمائش پر مخصوص مواد تیار کیا جاتا تھا، جبکہ کچھ صارفین کو پہلے سے موجود مواد خریدنے کے لیے بھی آمادہ کیا جاتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ مبینہ طور پر تیار کیے جانے والے مواد کی فروخت، مالی لین دین اور بینکنگ تفصیلات کی جانچ جاری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ضبط کیے گئے ڈیجیٹل آلات کا فارنزک تجزیہ کیا جا رہا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ مواد کی تیاری، فروخت اور مالی معاملات میں کس شخص کا کیا کردار تھا۔

42 افراد کی گرفتاری اور 12 بچوں کو ریسکیو کرنے کا دعویٰ

اس عدالتی کارروائی سے ایک روز قبل، جمعے کو پریس کانفرنس میں ڈپٹی ڈائریکٹر شہزاد اکبر نے دعویٰ کیا تھا کہ این سی سی آئی اے نے ایک بین الاقوامی آن لائن نیٹ ورک سے منسلک سرگرمیوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 42 افراد کو گرفتار کیا اور تقریباً 12 بچوں کو ریسکیو کیا۔

ان کے مطابق کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا اور دیگر آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے مبینہ طور پر غیر قانونی سرگرمیوں کی طرف راغب کیا جا رہا تھا۔

شہزاد اکبر نے کہا تھا کہ اس نیٹ ورک کے ذریعے اینیمیٹڈ فحش مواد تیار کرکے بین الاقوامی مارکیٹ میں فروخت کیا جاتا تھا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک ویڈیو کی فروخت سے 100 ڈالر حاصل کیے جاتے تھے، جبکہ تقریباً چھ ہزار پاکستانی روپے کمیشن دینے کا طریقہ بھی تحقیقات میں سامنے آیا ہے۔

ڈپٹی ڈائریکٹر کے مطابق کمپنی کے مالک سمیت دیگر گرفتار افراد کے خلاف قانونی کارروائی آگے بڑھائی جا رہی ہے۔

انہوں نے اس کیس کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ مختلف صوبوں میں خدمات انجام دینے اور اپنے پولیس کیریئر کے دوران انہوں نے اس نوعیت کا مقدمہ پہلے نہیں دیکھا۔

تاہم ہفتے کو عدالت میں پیش کیے گئے 12 ملزمان اور جمعے کو اعلان کردہ 42 گرفتاریوں کے درمیان تفصیلی تعلق اور باقی افراد کی قانونی حیثیت کے بارے میں فراہم کردہ معلومات میں وضاحت موجود نہیں۔

وکیل صفائی کا الزامات پر اعتراض

گرفتار ملزمان میں شامل انفال اور اظہر عباس کی وکیل ناہید اختر بھٹی نے این سی سی آئی اے کے الزامات پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ کال سینٹر میں موجود تمام افراد کو مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ بعض نوجوان بے روزگاری کے باعث وہاں ملازمت کر رہے تھے جبکہ کچھ افراد اپنے دوستوں سے ملنے آئے تھے لیکن انہیں بھی مقدمے میں نامزد کر دیا گیا۔

وکیل کے مطابق ان کے مؤکلوں کا مؤقف ہے کہ وہ صرف کلائنٹس کے آرڈرز اور ان کی ضروریات کے مطابق مواد سے متعلق معاملات دیکھتے تھے، جبکہ تصاویر یا ویڈیوز بنانے کا کام دوسرے افراد کرتے تھے۔

ناہید اختر بھٹی نے دعویٰ کیا کہ ان کے مؤکلوں کا مبینہ غیر قانونی مواد کی تیاری سے براہ راست کوئی تعلق نہیں تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید کہا کہ ان کے مؤکلوں سے ایسا قابل اعتراض مواد بھی برآمد نہیں ہوا جس کی بنیاد پر انہیں مقدمے میں شامل متعلقہ قانونی دفعات کے تحت ذمہ دار ٹھہرایا جا سکے۔

وکیل کے مطابق مقدمے میں کم عمر اور بالغ دونوں طرح کے افراد نامزد ہیں، جبکہ بعض افراد کے قومی شناختی کارڈ بھی نہیں بنے ہوئے۔

تحقیقات میں اب کیا ہوگا؟

ایف آئی آر کے مطابق مقدمے کی تفتیش انسپکٹر آفتاب سومرو کے سپرد کی گئی ہے۔

این سی سی آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ ضبط کیے گئے ڈیجیٹل آلات کے فارنزک تجزیے اور مبینہ مالی لین دین کی چھان بین کے ذریعے نیٹ ورک کی سرگرمیوں اور اس سے منسلک افراد کے کردار کا تعین کیا جائے گا۔

عدالت نے تفتیشی افسر کی درخواست پر 12 ملزمان کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا ہے تاہم اس فیصلے کا مطلب ملزمان کے خلاف الزامات ثابت ہونا نہیں۔

این سی سی آئی اے اپنی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ وکیل صفائی نے اپنے مؤکلوں کے خلاف شواہد اور ان کی مبینہ سرگرمیوں میں شمولیت پر سوالات اٹھائے ہیں۔ مقدمے میں عائد الزامات کا حتمی فیصلہ عدالت میں شواہد کی جانچ اور قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی ہو سکے گا۔

این سی سی آئی اے کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر اینیمیٹڈ مواد تیار کرکے بیرون ملک فروخت کرتے تھے۔
ہفتہ, اکتوبر 24, 2026 - 17:30
Main image: 

<p class="rteright">کارٹون اور اینیمیٹڈ فحش مواد بنانے اور فروخت کرنے کے الزام میں گرفتار افراد کو 23 اکتوبر، 2026 کو کراچی کی عدالت میں پیش کیا گیا(انڈپینڈنٹ اردو)</p>

jw id: 
BS950wHl
type: 
SEO Title: 
کراچی: کارٹون کرداروں سے فحش مواد بنانے کا الزام، 12 ملزمان کا جسمانی ریمانڈ
Read Entire Article
Chatroom