ڈی آئی خان میں پولیس قافلے پر حملہ، 6 اہلکار زخمی

2 hours ago 2

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

پولیس کے مطابق ہفتے کو ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں شدت پسندوں کے پولیس پارٹی پر حملے میں کم از کم چھ پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔ حملے کی ذمہ داری کسی گروپ نے قبول نہیں کی۔

انسپکٹر جنرل پولیس کے دفتر کے مطابق شدت پسندوں نے ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے ہتھالا میں امین فارمز کے قریب کارروائی کے لیے جانے والے پولیس قافلے پر فائرنگ کی۔

 حملے کا نشانہ بننے والی گاڑی میں کلاچی کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس (ڈی ایس پی) اور ہتھالا کے سٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) بھی موجود تھے۔

بیان کے مطابق پولیس کی جانب سے جوابی فائرنگ کے بعد شدت پسند علاقے سے فرار ہوگئے۔

ڈیرہ اسماعیل خان پولیس کے ایک اور اہلکار نے عرب نیوز کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’حملے میں چھ پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔‘

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں

انہوں نے بتایا کہ زخمیوں میں ڈی ایس پی کلاچی کفایت خان، اسسٹنٹ سب انسپکٹر نعمان خان اور کانسٹیبلز غلام قاسم، غلام سعید، ہاشم اور ایک خاتون کانسٹیبل شامل ہیں۔

خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے پولیس اہلکاروں کی فوری جوابی کارروائی کو سراہا۔

گورنر کے دفتر کے مطابق ’فیصل کریم کنڈی نے زخمی پولیس اہلکاروں کو ہر ممکن طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی اور ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حملے کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ نے قبول نہیں کی۔ خیبر پختونخوا میں شدت پسندوں کے حملوں کا سامنا ہے، جن میں زیادہ تر حملوں کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) پر عائد کی جاتی ہے۔

 یہ گروپ 2007 سے ملک میں اپنے سخت گیر اسلامی نظام کے نفاذ کی کوشش کے تحت خیبر پختونخوا میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شہریوں کو نشانہ بناتا رہا ہے۔

رواں ماہ کے آغاز میں ٹی ٹی پی نے سوات میں امن ریلی کو نشانہ بنانے والے بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کی تھی، جس میں 17 افراد جان سے گئے۔

افغانستان کی سرحد سے متصل خیبر پختونخوا میں حملوں میں اگست 2021 میں افغان طالبان کے کابل میں اقتدار سنبھالنے کے بعد اضافہ ہوا۔ اس کے نتیجے میں اسلام آباد اور کابل کے تعلقات میں کشیدگی بڑھی، جبکہ پاکستان افغانستان پر ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کو پناہ دینے اور شدت پسند حملوں میں سہولت کاری کا الزام عائد کرتا ہے۔

کابل ان الزامات کی تردید کرتا ہے اور اسلام آباد پر زور دیتا ہے کہ وہ اپنے سکیورٹی مسائل اندرونی طور پر حل کرے۔ اسلام آباد انڈیا پر بھی ٹی ٹی پی اور خطے میں سرگرم دیگر گروہوں کے ذریعے شدت پسند حملوں کو مسلح کرنے اور مالی معاونت فراہم کرنے کا الزام عائد کرتا ہے، جسے نئی دہلی مسترد کرتا ہے۔

زخمیوں میں ڈی ایس پی کلاچی کفایت خان، اسسٹنٹ سب انسپکٹر نعمان خان اور کانسٹیبلز غلام قاسم، غلام سعید، ہاشم اور ایک خاتون کانسٹیبل شامل ہیں۔
ہفتہ, اگست 29, 2026 - 16:45
Main image: 

<p class="rteright">ڈیرہ اسماعیل خان میں 12 دسمبر، 2023 کو عسکریت پسندوں کے حملے کے بعد سکیورٹی اہلکار جائے وقوعہ کا جائزہ لیتے ہوئے (اے پی)</p>

type: 
SEO Title: 
ڈی آئی خان میں پولیس قافلے پر حملہ، 6 اہلکار زخمی
Translator name: 
العاص
Read Entire Article
Chatroom