ڈونلڈ ٹرمپ کا ٹیلی فونک گفتگو میں نیتن یاہو کو ’پاگل‘ کہنے کا اعتراف

1 week ago 2

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp
ڈونلڈ ٹرمپ کا ٹیلی فونک گفتگو میں نیتن یاہو کو ’پاگل‘ کہنے کا اعتراف

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اہم اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کو ایک ٹیلیفونک گفتگو کے دوران ’پاگل‘ کہا تھا۔ یہ اعتراف اس وقت آیا ہے جب امریکہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں میں مصروف تھا۔

Background & Context

ٹرمپ کا یہ اعتراف اسرائیل اور ایران کے درمیان تناؤ میں اضافے کا باعث بنا ہے، جو کہ لبنان میں جاری تنازعہ کے خاتمے کے لیے امریکہ کی کوششوں پر بھی سوال اٹھا رہا ہے۔ اس تنازعے میں اسرائیل نے حزب اللہ کے خلاف کارروائی کی ہے، جس کے بعد سرحدی جھڑپیں جاری ہیں۔

امریکہ کی ثالثی میں پیر کے روز ایک معاہدے کا اعلان کیا گیا تھا جس کے تحت اسرائیل نے بیروت کے جنوبی علاقوں پر حملے محدود کیے اور حزب اللہ نے سرحد پار کارروائیاں روکنے کا عندیہ دیا۔ تاہم، زمینی صورت حال اب بھی کشیدہ ہے۔

Key Details

ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ انہوں نے نیتن یاہو کو سخت الفاظ میں ’انتہائی غیر ذمہ دار‘ قرار دیا تھا۔ اس پر ٹرمپ نے جواب دیا کہ ’ہاں، میں نے کہا تھا۔ میں یہ نہیں کہوں گا کہ میں غصے میں تھا، لیکن مجھے لبنان کے ساتھ مسلسل لڑائی پر تشویش تھی۔‘

ٹرمپ نے گفتگو میں کہا کہ وہ اور نیتن یاہو باہمی طور پر اچھے تعلقات رکھتے ہیں، تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ لبنان کی صورت حال پر وہ ناخوش تھے۔

What Experts Say

امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات میں تیزی سے بدلتی صورت حال کے حوالے سے تجزیہ کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا یہ اعتراف اسرائیل کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ اعتراف اسرائیل کے لیے ایک نقصان دہ ہے، کیونکہ یہ ان کی توجہ کو دوسری طرف ہٹا دیتا ہے۔

Key Takeaways

  • ٹرمپ نے نیتن یاہو کو ’پاگل‘ کہنے کا اعتراف کیا ہے۔
  • امریکہ اور اسرائیل کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
  • لبنان میں جاری تنازعہ کے لیے امریکہ کی کوششیں مسلسل ہیں۔
  • اسرائیل نے حزب اللہ کے خلاف کارروائی کی ہے، جس کے بعد سرحدی جھڑپیں جاری ہیں۔

What This Means For You

ٹرمپ کا یہ اعتراف اس بات کا اشارہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات میں تیزی سے بدلتی صورت حال کے لیے ایک اہم قدم لیا گیا ہے۔ تاہم، یہ اعتراف اسرائیل کے لیے ایک نقصان دہ ہے، کیونکہ یہ ان کی توجہ کو دوسری طرف ہٹا دیتا ہے۔

یہ اعتراف اس بات کا اشارہ بھی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس تناؤ کا اثر لبنان میں جاری تنازعے پر بھی پڑ سکتا ہے۔

Read Entire Article
Chatroom