Want Your Business Featured Here?
Get instant exposure to our readers
Chat on WhatsApp
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (پی ٹی اے) کے چیئرمین میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمان نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کو بریفنگ کے دوران انکشاف کیا ہے کہ ادارے کو روزانہ سوشل میڈیا سے متعلق تقریباً 400 شکایات موصول ہوتی ہیں جبکہ گزشتہ ایک سال کے دوران میٹا پلیٹ فارمز کو ڈیڑھ لاکھ سے زائد شکایات ارسال کی جا چکی ہیں تاہم سوشل میڈیا کی نگرانی کے لیے ایک نئی اتھارٹی (ایس ایم پی آر اے) قائم کی جا چکی ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی اور ٹیلی کام کا اہم اجلاس سینیٹر پلوشہ خان کی زیرصدارت ہوا جس میں سوشل میڈیا ریگولیشنز، ٹیلی کام سیکٹر کی مالی صورت حال اور فائیو جی سروس کے اجرا جیسے اہم معاملات زیر بحث آئے۔
اجلاس میں چیئرمین پی ٹی اے میجرجنرل (ر) حفیظ الرحمان نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سوشل میڈیا کی نگرانی کے لیے ایک نئی اتھارٹی، ایس ایم پی آر اے قائم کی جا چکی ہے جو مستقبل میں اس شعبے کو دیکھے گی تاہم جب تک یہ مکمل طور پر فعال نہیں ہوتی پی ٹی اے بلاکنگ اور مواد ہٹانے کی ذمہ داریاں انجام دیتا رہے گا۔
سینیٹر پلوشہ خان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جانب داری کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے خلاف مواد کو ہٹا دیا جاتا ہے حتیٰ کہ وزیر دفاع خواجہ آصف کا ٹویٹ بھی حذف کیا گیا، جس پر چیئرمین پی ٹی اے نے مؤقف اختیار کیا کہ وزیر دفاع کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ شکایت موصول نہیں ہوئی اور مذکورہ اکاؤنٹ ذاتی نوعیت کا تھا۔
اجلاس میں ٹیلی کام سیکٹر کے مالی معاملات بھی زیر بحث آئے جہاں یو فون کے گزشتہ 5 برسوں کے نقصانات پر تشویش کا اظہار کیا گیا، سیکرٹری آئی ٹی نے بتایا کہ یو فون، پی ٹی سی ایل کی ملکیت ہے۔
کمیٹی نے اتصالات گروپ کی جانب سے حکومت پاکستان کو واجب الادا 800 ملین ڈالر کی واپسی کے معاملے پر بھی سخت سوالات کیے اور کمیٹی کی چیئرپرسن نے استفسار کیا کہ اگر دیگر ممالک اپنے واجبات واپس لے سکتے ہیں تو پاکستان کیوں نہیں۔
سینیٹر افنان اللہ نے کہا کہ اس رقم پر منافع شامل کیا جائے تو یہ اربوں ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، جس پر کمیٹی نے اس معاملے پر سینیٹ کی نجکاری کمیٹی کے ساتھ مشترکہ اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ کیا۔
ایپل ڈیوائسز پر فائیو جی مئی میں فعال ہوجائے گی، سیکریٹری
سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں فائیو جی سروس کے اجرا میں تاخیر بھی زیر بحث آئی، سینیٹرز نے طنزیہ انداز میں کہا کہ فائیو جی ابھی تک شروع نہیں ہوا جبکہ صارفین روزانہ اپنے فون چیک کرتے ہیں، چیئرمین پی ٹی اے نے بتایا کہ ٹیلی کام آپریٹرز سے پلان لیا جا رہا ہے اور آئندہ 6 ماہ میں پیش رفت متوقع ہے۔
چیئرمین پی ٹی اے نے فائیو جی کے آغاز میں تاخیر کی ایک وجہ ایپل انک کی جانب سے درکار تکنیکی اپڈیٹ (پیچ) نہ ہونا بھی قرار دیا تاہم سیکرٹری وزارت آئی ٹی نے یقین دہانی کرائی کہ مئی کے مہینے میں ایپل ڈیوائسز پر فائیو جی سروس فعال ہو جائے گی۔