Want Your Business Featured Here?
Get instant exposure to our readers
Chat on WhatsApp
پنجاب میں اسموگ کی شدت میں اضافے کے پیش نظر محکمہ تحفظ ماحولیات نے فصلوں کی باقیات جلانے کے خلاف صوبہ بھر میں کارروائیاں تیز کر دی ہیں اور محکمے کے مطابق اب تک فصلوں کی باقیات جلانے کے 679 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں سے 650 مقامات پر آگ بجھا دی گئی ہے۔
ڈائریکٹر جنرل محکمہ تحفظ ماحولیات پنجاب عبداللہ نیئر شیخ نے انسداد فصل باقیات جلاؤ مہم کی نگرانی کے لیے تمام ڈائریکٹرز کو مختلف اضلاع کی ذمہ داریاں سونپ دی ہیں، ڈائریکٹرز اپنے متعلقہ علاقوں میں اچانک دورے کر رہے ہیں جبکہ موٹرویز اور جی ٹی روڈز کے اطراف خصوصی نگرانی کی جا رہی ہے۔
اس حوالے سے بتایا گیا کہ ڈی جی ماحولیات نے گزشتہ ہفتے خود بھی مختلف موٹروے راستوں اور جی ٹی روڈز کا اچانک معائنہ کیا اور فیلڈ ٹیموں کی تعیناتی، نگرانی کے نظام اور آگ بجھانے کے انتظامات کا جائزہ لیا اور ہدایت کی کہ آگ لگنے کی ہر اطلاع پر فوری کارروائی کی جائے اور فیلڈ ٹیمیں 24 گھنٹے دستیاب رہیں۔
محکمے کے مطابق پنجاب کلائمیٹ واچ ہب سیٹلائٹ کے ذریعے فصلوں کی باقیات جلانے کے واقعات کی نشان دہی کر رہا ہے، سیٹلائٹ سے موصول ہونے والے فائر الرٹس متعلقہ ضلعی ٹیموں کو بھیجے جاتے ہیں تاکہ موقع پر پہنچ کر تصدیق اور آگ بجھانے کے اقدامات کیے جا سکیں۔
انسداد اسموگ آپریشن کے لیے خصوصی نائٹ اسکواڈز، ڈرون نگرانی، ٹریکٹرز پر نصب فائر باؤزرز اور کوئیک رسپانس یونٹس بھی تعینات کیے گئے ہیں، ان ٹیموں کو زرعی علاقوں، موٹرویز، جی ٹی روڈز اور ملحقہ آبادیوں میں نگرانی کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
محکمہ تحفظ ماحولیات کے مطابق حافظ آباد، شیخوپورہ، ننکانہ صاحب، فیصل آباد، قصور، سیالکوٹ، سرگودھا اور گوجرانوالہ سمیت دیگر متاثرہ اضلاع میں خصوصی کارروائیاں جاری ہیں، ضلعی انتظامیہ اور محکمہ زراعت کے تعاون سے کاشت کاروں کو فصلوں کی باقیات جلانے سے روکنے کے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔
ڈی جی ماحولیات نے تمام ڈائریکٹرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی فیلڈ ٹیموں کی کارکردگی کی ذاتی طور پر نگرانی کریں اور غیر قانونی طور پر فصلوں کی باقیات جلانے میں ملوث افراد کے خلاف متعلقہ ماحولیاتی قوانین کے تحت کارروائی یقینی بنائیں۔
محکمہ کے مطابق صنعتی اخراج، گاڑیوں کے دھوئیں اور تعمیراتی گردوغبار کے خلاف معمول کی کارروائیاں بھی جاری ہیں، تاہم فصلوں کی باقیات جلانے سے خارج ہونے والا دھواں اور باریک ذرات فضائی آلودگی میں اضافے کا اہم سبب بن رہے ہیں، اس لیے موجودہ اسموگ سیزن میں ان واقعات کی روک تھام کو خصوصی ترجیح دی جا رہی ہے۔