اسلام آباد کے پمز ہسپتال کے تپتے اور دھواں دیتے وارڈ سے اٹھنے والی بو محض جلے ہوئے گوشت، پلاسٹک اور آکسیجن پائپوں کی نہیں تھی۔ یہ دراصل ہمارے اس نظام کی اخلاقی لاش کا تعفن تھا جس کے بارے میں کچھ عرصہ قبل ایک اہم حکومتی وزیر نے کہا تھا کہ یہ ’ڈھے‘ چکا ہے۔
سبزی فروش بہادر خان نے پانچ برس انتظار میں گزار دیے۔ جی ہاں، پانچ طویل برس، جن کا ہر دن اس شخص اور اس کی بیوی کے لیے ایک صدی رہا ہو گا۔ بہادر خان شام ڈھلے شاید یہ خواب دیکھتا ہو گا کہ ایک دن اپنے بچے کو گود میں اٹھائے گا، اس کے ننھے جسم کی حرارت سے اس غریب گھر کا اندھیرا کچھ کم ہو گا۔
وہ دن آیا بھی تو خوشی کی شکل میں نہیں، قیامت کی صورت میں۔
اللہ نے اسے ایک نہیں، دو بچے دیے۔ جڑواں۔ مگر دہلیز تک پہنچی خوشی سفاک غفلت کی راکھ میں بدل گئی۔
اور پھر جویریہ کو دیکھیے۔
سی سیکشن کے تازہ زخموں سے رس رہا خون، مگر ماں کی آنکھ میں اپنی تکلیف نہیں، اپنے بچے کو سینے سے لگانے کی بے قراری تھی۔ ابھی تین دن پہلے جس ننھی نے دنیا میں پہلی سانسیں لی تھیں، وہی سانسیں اچانک دھوئیں میں گم ہو گئیں۔
چیخیں اٹھیں۔ بھگدڑ مچی۔ دھواں پھیلا۔ اور وہ درجن سے زائد زندگیاں خاموش ہو گئیں۔
پمز کی بے حس راہداریوں میں تڑپتی سسکتی اور بلکتی اس ماں کی چیخ آج بھی اس ریاست کے کان میں ہتھوڑے کی طرح پڑنی چاہیے۔ ’ڈاکٹر نے کہا ہے ڈبے میں بچے کو لے جاؤ۔۔۔ ہمیں تو کسی نے بچے کے ٹکڑے بھی نہیں دکھائے! ہم کس بات پہ یقین کریں؟ این آئی سی یو کو باہر سے تالا لگا کر یہ لوگ کہاں دفع ہو گئے تھے؟‘
یہ سوال کسی ایک ڈاکٹر، نرس یا اہلکار سے نہیں تھا۔ یہ سوال اس پورے نظام سے تھا جس میں ہسپتال کے دروازے بچوں کی حفاظت کے وقت اچانک بند ہو جاتے ہیں، جہاں ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کا مؤثر انتظام نہیں ہوتا اور جہاں غریب کی زندگی کا بچاؤ ترجیح نہیں بنتا۔
پھر انتظامیہ کی طرف سے وہ جملہ آیا جس نے اس سانحے کو محض حادثہ نہیں رہنے دیا۔ ’ہم بڑے لوگوں کو بچا رہے تھے‘ گویا بڑے لوگ زندگی تھے اور نومولود بچے کچھ نہیں۔
نو ماہ تک اپنی کوکھ میں رکھنے اور پھر جنم دینے والی ماں نے جو جواب دیا، وہ کسی عدالتی فیصلے سے کم نہیں تھا۔ ’بڑے لوگ اپنے پاؤں سے چل نہیں سکتے تھے؟ تم انہیں بچا رہے تھے اور میرے تین دن کے بچے کو جلنے کے لیے چھوڑ آئے؟‘ اس ایک سوال نے پورے نظام کا پوسٹ مارٹم کر دیا۔
واقعے کے بعد حسب معمول ریاست جاگ گئی۔
برہمی کا اظہار ہوا۔ سیکریٹری ہیلتھ معطل ہوئے۔ تحقیقات کا اعلان ہوا۔ اور چوبیس گھنٹے میں رپورٹ کی یقین دہانی کرائی گئی۔
یعنی وہی پرانا نسخہ۔ سانحہ، شور، معطلی، تحقیقاتی کمیٹی، رپورٹ اور پھر خاموشی۔ مگر یہاں سوال صرف یہ نہیں کہ انکوائری ہو گی یا نہیں۔ سوال یہ بھی ہے کہ انکوائری کرے گا کون؟
سینیئر صحافی رؤف کلاسرا نے اس پر ایک اہم سوال اٹھایا ہے۔ ان کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف کی پمز ہسپتال کی اس بڑی انسانی سانحے کی تحقیقات اور ذمہ داروں کو سزا دلوانے کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک ایسے سابق سیکرٹری داخلہ کو، جو ماضی میں نیب کے ایک کیس میں پولیس اہلکاروں کے کوٹے سے پلاٹ لینے اور اسے فروخت کرنے کے الزام میں انکوائری کا سامنا کرچکے ہیں، اب اسی معاملے میں انکوائری افسر مقرر کر دیا گیا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پھر تفتیش محض ایک رسمی کارروائی رہ جاتی ہے۔ کمیٹی بن جاتی ہے، کاغذ بھرے جاتے ہیں، بیانات قلم بند ہوتے ہیں اور آخر کار ریاست خود اپنے گریبان میں جھانکنے کی بجائے ایک اور فائل بنا کر بھول جاتی ہے۔ یہ ہی تو المیہ ہے اور یہ ہی دوبارہ ہوتا نظر آ رہا ہے۔ ریاستی نظام میں جب احتساب بھی اسی نظام کے ہاتھ میں ہو جس پر سوال اٹھ رہے ہوں تو انصاف کی امید کم اور خانہ پری کا امکان زیادہ ہو جاتا ہے۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے بڑی آسانی سے خود کو احتساب کے لیے پیش کر دیا۔ انہیں تو خود اپنا احتساب کرنا چاہیے تھا اور اتنے بڑے سانحے کو روکنے میں ناکامی پر خود کوئی فیصلہ کرنا چاہیے تھا۔ ان کا احتساب کون کرے گا؟ وزیر اعظم نے تو کر دیا جو وہ کرنا چاہتے تھے۔ یہ فیصلے خود اپنے ضمیر کی آواز پر کرنے ہوتے ہیں۔
وزیر صحت نے بتایا کہ 1985 کا ہسپتال پچاس لاکھ کی آبادی کا بوجھ اٹھا رہا ہے۔ جناب عالی، یہ وضاحت نہیں، فرد جرم ہے۔ اگر ایک پرانا ہسپتال آج بھی کروڑوں کی آبادی کے صحت کے بوجھ تلے کراہ رہا ہے تو سوال یہ نہیں کہ پمز اتنا بوجھ کیوں اٹھا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ریاست نے پچھلی چار دہائیوں میں اس بارے میں کیا کیا؟
دارالحکومت میں اشرافیہ کی آسائش کے لیے اربوں روپے کے انڈر پاس اور فلائی اوورز کے راتوں رات منصوبے بن جاتے ہیں۔ سڑکیں چمکتی ہیں۔ سگنل سجتے ہیں۔ شاہی قافلے گزرتے ہیں۔ اربوں روپے کے منصوبے بنتے ہیں، افتتاح ہوتے ہیں، تختیاں لگتی ہیں۔
لیکن ایک نومولود کی زندگی بچانے والا این آئی سی یو، ایک مؤثر فائر سیفٹی نظام اور چند بنیادی حفاظتی انتظامات کے لیے ریاست کے بجٹ میں گنجائش نہیں ہوتی۔
یہ ترجیحات دراصل ریاست کے چہرے کی ایکسرے رپورٹ ہیں۔ ایک طرف اشرافیہ کے لیے شہر سجایا جاتا ہے، دوسری طرف غریب ماں اپنے بچے کی لاش مانگتی ہے۔ ایک طرف اربوں کے منصوبوں کے افتتاح پر قینچیاں چلتی ہیں، دوسری طرف ایک ماں کے ہاتھ خالی رہ جاتے ہیں۔ ایک طرف فائلوں میں ’انسانی ترقی‘ لکھی جاتی ہے، دوسری طرف انسان جلتے ہیں۔
اور پھر ہمیں بتایا جاتا ہے کہ بجٹ محدود تھا۔ غریب کے بچے کے لیے ہمیشہ بجٹ محدود کیوں ہوتا ہے؟
کمیٹی بن گئی ہے۔ اب افسر جواب دیں گے۔ کچھ کو قربانی کا بکرا بھی بنا دیا جائے گا، کیمرے چند دن اس سانحے کے گرد منڈلائیں گے۔ وزرا بیانات دیں گے۔ افسر یقین دہانیاں کرائیں گے۔
اور پھر پرانی خبر کی گرد اس راکھ کو ڈھانپ دے گی۔
لیکن 14 نومولود واپس نہیں آئیں گے۔ ان کے کپڑے شاید اسی طرح تہہ کیے رہ جائیں گے۔ ان کے جھولے خالی پڑے رہیں گے۔ اور سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ شاید غم زدہ والدین کو اپنے بچوں کی مکمل تدفین بھی نصیب نہ ہوئی ہو۔
صرف راکھ۔ کچھ جلے ہوئے ٹکڑے۔ اور ایک ایسا سوال رہ جائے گا جس کا جواب کسی تحقیقاتی کمیٹی کے پاس نہیں۔ ایک ماں کا سوال کہ ’میرا بچہ کیوں نہیں بچایا گیا؟‘
یہ سوال ان ماؤں کے سینوں میں دفن نہیں ہو گا۔ یہ سوال اس ریاست کے دروازے پر پڑا رہے گا۔ ہر بجٹ تقریر کے بعد۔ ہر نئے فلائی اوور کے افتتاح پر۔ ہر اس تقریر کے بعد جس میں انسانی ترقی کا ذکر ہو گا۔
اور پمز کے ملبے سے اٹھنے والا دھواں شاید بہت پہلے چھٹ جائے۔ مگر اس کی بو دیر تک رہے گی۔ بہت دیر تک۔
کیوں کہ بس کچھ ماؤں نے بچے کھوئے ہیں۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
<p class="rteright">جویریہ، جو آگ میں مرنے والے ایک نوزائیدہ بچے کی والدہ ہیں، 26 اگست 2026 کو اسلام آباد کے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) ہسپتال میں پیش آنے والے آتش زدگی کے واقعے کے بعد اپنے شوہر کے کندھے کا سہارا لیے غم میں نڈھال ہیں (اختر سومرو / روئٹرز)</p>
.png)
2 hours ago
1





English (US) ·