پاکستانی فیشن انڈسٹری کے لیے ایک اہم پیش رفت میں سٹریٹ ویئر ڈیزائنر زین احمد کو بزنس آف فیشن (BoF) کے بااثر عالمی انڈیکس میں شامل کر لیا گیا ہے، جس کے بعد اب دو پاکستانی ڈیزائنرز اس فہرست کا حصہ بن گئے ہیں۔
پہلے سے اس فہرست میں موجود معروف فیشن ڈیزائنر فراز منان کے ساتھ اب زین احمد کا نام بھی شامل ہو گیا ہے۔
بی او ایف 500 فیشن، کاروبار اور ثقافت کی دنیا پر اثر انداز ہونے والی شخصیات کو تسلیم کرتا ہے۔ اس خصوصی فہرست کے ارکان کا انتخاب اشاعت کے مدیران نامزدگیوں، تحقیق اور انٹرویوز کی بنیاد پر کرتے ہیں، اور اس میں ابھرتی ہوئی شخصیات کو بھی عالمی فیشن انڈسٹری کے نمایاں رہنماؤں کے ساتھ جگہ دی جاتی ہے۔
دونوں پاکستانی ڈیزائنرز نے عالمی شناخت مختلف راستوں سے حاصل کی ہے۔ زین احمد کا لاہور میں قائم برانڈ رستہ (Rastah) روایتی ٹیکسٹائل تکنیکوں کو جدید سٹریٹ ویئر کے ساتھ جوڑتا ہے، جبکہ فراز منان اپنے لگژری برائیڈل اور فارمل ملبوسات کے باعث جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں وسیع شہرت رکھتے ہیں۔ فراز منان کو 2024 میں بی او ایف انڈیکس میں شامل کیا گیا تھا۔
بی او ایف کے بانی اور مدیرِ اعلیٰ عمران احمد نے اعلان میں لکھا کہ رستہ نے روایتی ہینڈ لومز اور بلاک پرنٹنگ کو سٹریٹ ویئر ملبوسات میں استعمال کر کے منافع حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ ان کے مطابق یہ ملبوسات ہالی وڈ ستاروں اور عالمی موسیقی کی دنیا کے مشہور فنکاروں میں بھی مقبول ہوئے ہیں۔
2018 میں قائم ہونے والے رستہ کے ملبوسات معروف شخصیات جسٹن بیبر، ٹموتھی شالامے، زین ملک اور بیری کیوگھن پہن چکے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بی او ایف کی رپورٹ کے مطابق 2025 میں رستہ کی مجموعی آمدن 22 لاکھ ڈالر رہی جبکہ اسی سال کمپنی منافع بخش بھی بن گئی۔ زین احمد کے مطابق امریکہ ان کے برانڈ کی سب سے بڑی بیرونِ ملک مارکیٹ ہے جبکہ تقریباً 30 فیصد خریدار جنوبی ایشیائی پس منظر سے تعلق نہیں رکھتے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ برانڈ کی مقبولیت تارکین وطن کمیونٹی سے آگے بھی پھیل چکی ہے۔
دوسری جانب فراز منان، جو اپنے نام سے منسوب لگژری برانڈ کے بانی اور تخلیقی ڈائریکٹر ہیں، پیچیدہ کڑھائی اور جدید طرز کے امتزاج سے تیار کیے گئے ملبوسات کے ذریعے بین الاقوامی گاہکوں کا حلقہ قائم کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔
انہوں نے 2015 میں دبئی میں اپنا بوتیک کھولا تھا، جہاں مشرق وسطیٰ میں مقیم جنوبی ایشیائی برادری کے ساتھ ساتھ مقامی گاہک بھی ان کے ملبوسات خریدتے ہیں۔ ان کے ڈیزائن بالی وڈ کی متعدد معروف شخصیات بھی پہن چکی ہیں۔
اگرچہ اس فہرست کا نام اب بھی بی او ایف 500 ہے، لیکن اس میں شامل افراد کی تعداد اب 500 تک محدود نہیں رہی۔ 2013 میں قائم ہونے والی یہ کمیونٹی اب بڑھ کر 1,713 ارکان پر مشتمل ہو چکی ہے جبکہ رواں سال مختلف شعبوں، جن میں ڈیزائنرز، ایگزیکٹوز، کاروباری شخصیات، ریٹیلرز اور میڈیا سے وابستہ افراد شامل ہیں، کے مزید 100 افراد کو فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
بی او ایف کے انتخابی عمل میں قیادت، تخلیقی صلاحیت، جدت اور سماجی اثرات جیسے عوامل کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ اس فہرست کی اہمیت اس بات میں ہے کہ یہ عالمی فیشن انڈسٹری کی ایک معتبر اشاعت کی جانب سے دی جانے والی پیشہ ورانہ شناخت ہے۔ یہ کسی درجہ بندی یا رینکنگ کے بجائے ادارتی انتخاب پر مبنی اعزاز سمجھا جاتا ہے۔
<p class="rteright">پہلے سے اس فہرست میں موجود معروف فیشن ڈیزائنر فراز منان (دائیں) کے ساتھ اب زین احمد (بائیں) کا نام بھی شامل ہو گیا ہے (سوشل میڈیا)</p>
.png)
2 hours ago
1




English (US) ·