پاکستان نے اردن کے چرچ میں فائرنگ کے نتیجے میں اموات پر ہفتے کو افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ’دہشت گردی کی تمام اقسام اور مظاہر کی سخت ترین الفاظ میں مذمت‘ کا اعادہ کیا ہے۔
اردن کے جنوبی علاقے كرک میں جمعے کو ایک چرچ میں جنازے کے دوران مسلح افراد کی فائرنگ سے کم از کم سات افراد جان سے چلے گئے تھے اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔
ہفتے کو پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ اسلام آباد ’اردن کے گورنریٹ کرک میں ایک چرچ میں جنازے کے جلوس پر ہونے والے گھناؤنے دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتا ہے، جس کے نتیجے میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
مزید کہا گیا کہ ’پاکستان اپنے پیاروں کو کھونے پر برادر ہاشمی مملکت اردن کی حکومت اور عوام، بالخصوص سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہے اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہے۔‘
’دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اردن کے برادر عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار‘ کرتے ہوئے دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان ’دہشت گردی کی تمام اقسام اور مظاہر کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کا اعادہ کرتا ہے۔‘
اردن کے چرچ میں فائرنگ کا واقعہ دارالحکومت عمان سے تقریباً180 کلومیٹر جنوب میں واقع کرک کے ایک یونانی آرتھوڈوکس چرچ میں پیش آیا تھا۔
اردن کے سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی فوٹیج میں دو مسلح افراد کو چرچ کی جانب آتے اور فائرنگ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ بظاہر ان کے ہاتھوں میں پستول تھے۔ اس کے بعد ایک تیسرا شخص، جس کے ہاتھ میں بظاہر نیم خودکار رائفل تھی، وہاں پہنچا اور فائرنگ شروع کر دی۔ اس کے بعد تینوں گرجا گھر کی جانب بھاگے۔
عینی شاہدین کی بنائی گئی ویڈیو میں چرچ کے فرش پر ٹوٹے ہوئے شیشے اور خون دکھائی دیا۔
چرچ کے اندر موجود سوگواروں میں شامل درغام حلاسہ نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ جنازہ شروع ہونے کے 15 منٹ بعد شدید فائرنگ شروع ہو گئی، جس کے بعد لوگ بھاگنے لگے۔
حلاسہ نے کہا: ’یہ ایک عجیب صورت حال تھی اور شدید فائرنگ ہو رہی تھی۔‘
انہوں نے حملہ آوروں کو نہیں دیکھا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ دیگر لوگوں نے چار حملہ آوروں کو دیکھنے کی اطلاع دی۔
ایسوسی ایٹڈ پریس آزادانہ طور پر حملہ آوروں کی تعداد کی تصدیق نہیں کر سکا، جبکہ اردن کی سکیورٹی سروسز نے فوری طور پر تفصیلات جاری نہیں کیں۔
حکومت کے ایک بیان میں کہا گیا کہ یہ حملہ ’نامعلوم حملہ آوروں‘ نے کیا، تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ آیا کسی مسلح شخص کو گرفتار کیا گیا یا مارا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ ’تحقیقات تیزی سے جاری ہیں۔‘
اردن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی پیٹرا کے مطابق ملک میں 3 روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔
<p class="rteright">نو اپریل 2026 کو سکیورٹی اہلکار اسلام آباد میں وزارت خارجہ کے دفتر میں داخل ہونے والی گاڑیوں کا معائنہ کر رہے ہیں (عامر قریشی/ اے ایف پی)</p>
.png)
1 hour ago
1




English (US) ·