ایک سرکاری دستاویز کے مطابق پاکستان اپنی توانائی کی سکیورٹی بہتر بنانے کے لیے خام تیل اور ریفائن شدہ مصنوعات کی مقامی سٹوریج بڑھانے کا منصوبہ بنا رہا ہے، جسے تیل پیدا کرنے والی کمپنیوں اور دنیا کی بڑی تجارتی فرموں کے ساتھ شیئر کیا گیا ہے۔
پاکستان اپنی تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی درآمدات کا تقریباً 90 فیصد آبنائے ہرمز کے ذریعے حاصل کرتا ہے مگر اس کے باوجود اس کے پاس کوئی سٹریٹیجک پیٹرولیم ذخائر موجود نہیں۔
اسی وجہ سے ایران جنگ کے باعث پیدا ہونے والی سپلائی میں رکاوٹوں کے سامنے پاکستان کی انرجی سکیورٹی پر سوالیہ نشان لگ گئے ہیں جبکہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پروگرام کے تحت ہنگامی ذخائر بنانے میں رکاوٹ کا سامنا ہے۔
سرکاری دستاویز، جن کا روئٹرز نے مشاہدہ کیا، کے مطابق وزارت توانائی تزویراتی یا سٹریٹیجک پیٹرولیم ذخائر قائم کرنے کے ساتھ ساتھ بانڈڈ ٹرمینلز، ریفائنریز اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے ذریعے کمرشل سٹوریج بڑھانے کی تجویز دے رہی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ تیل و گیس کی تلاش اور پیداوار میں اضافے، ریفائنریز کی اپ گریڈیشن اور ڈاؤن سٹریم سیکٹر کی تنظیم نو پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔
![]()
18 مارچ 2026 کو لی گئی اس تصویر میں پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ساحلی شہر حب میں واقع ریفائنری پلانٹ نظر آ رہا ہے (روئٹرز)
دستاویز میں کہا گیا ہے: ’پاکستان کی انرجی سکیورٹی کے لیے ہنگامی ذخائر کے ساتھ مضبوط مقامی سپلائی صلاحیت بھی ضروری ہے۔‘
یہ مجوزہ فریم ورک سعودی آرامکو، ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی، کویت پیٹرولیم کارپوریشن، قطر انرجی اور پیٹروچائنہ کے علاوہ ویٹول اور ٹریفگورا جیسی تجارتی کمپنیوں اور ووپاک (Vopak) نامی سٹوریج آپریٹر کے ساتھ بھی شیئر کیا گیا۔
ٹریفگورا اور ویٹول نے اس تجویر پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا جبکہ دیگر کمپنیوں اور پاکستان کی وزارت پیٹرولیم نے روئٹرز کی درخواست پر کوئی جواب نہیں دیا۔
وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ ’تیل کے ذخائر بنانا کہنے میں آسان مگر کرنے میں مشکل‘ ہے، خاص طور پر ایسے ملک کے لیے جو آئی ایم ایف پروگرام اور شدید مالی دباؤ کا شکار ہو، تاہم انہوں نے کہا کہ حکومت منصوبہ بندی سے عملی اقدامات کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
بانڈڈ سٹوریج، سٹریٹیجک ذخائر اور توانائی کا ڈھانچہ
بانڈڈ سٹوریج منصوبے کے تحت بین الاقوامی سپلائرز اور تاجر پاکستان میں تیل کے ذخائر رکھ سکیں گے، جس سے کمرشل ذخیرہ بڑھے گا جو ہنگامی حالات میں مقامی سپلائی کو سہارا دے سکے گا۔ حکومت ان کمپنیوں کو ری ایکسپورٹ کے لیے بھی ایندھن ذخیرہ کرنے کی اجازت دے سکتی ہے۔
دستاویز میں مراعات، قیمتوں، ٹیکس، زرمبادلہ، خریداری کے معاہدوں یا ملکیت کی شرائط کی تفصیل نہیں دی گئی اور نہ ہی یہ واضح کیا گیا کہ کمپنیوں کو سٹوریج انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کرنا ہوگی یا نہیں۔
وزارت چاہتی ہے کہ سپلائرز کے لیے بانڈڈ سٹوریج کا فریم ورک جون تک حتمی شکل دے دیا جائے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سٹریٹیجک ذخائر کی کمی کے علاوہ، دستاویز میں بندرگاہوں پر انفراسٹرکچر کی محدود صلاحیت، جہاز سے جہاز منتقلی اور ناکافی سٹوریج کو بھی پاکستان کی کمزوریاں قرار دیا گیا ہے۔
حکومت کے اپنے سٹریٹیجک ذخائر ایک مخصوص فنڈ کے ذریعے بنائے جائیں گے، جس کے لیے موجودہ پیٹرولیم لیوی میں سے فی لیٹر 10 روپے مختص کیے جائیں گے اور یہ عمل یکم جولائی سے شروع ہوگا۔
دستاویز کے مطابق اس سے سالانہ تقریباً 70 کروڑ ڈالر جمع ہوں گے۔
اس وقت پاکستان ڈیزل پر 58 روپے فی لیٹر اور پیٹرول پر 102.17 روپے فی لیٹر ٹیکس عائد کرتا ہے۔
اس کے علاوہ حکومت منصوبہ بنا رہی ہے کہ ریفائنریز کو کم از کم 15 دن کا خام تیل ذخیرہ رکھنا ہوگا جبکہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو 30 دن کا تیار شدہ تیل ذخیرہ رکھنا لازمی ہوگا۔ یہ قواعد جون 2028 تک مرحلہ وار نافذ کیے جائیں گے۔
دستاویز میں حب اور پورٹ قاسم کے اطراف توانائی انفراسٹرکچر کوریڈور بنانے کی بھی تجویز دی گئی ہے، جس میں سنگل پوائنٹ مورنگ، سٹوریج اور پائپ لائن کنیکٹیویٹی شامل ہوگی، تاکہ چھوٹے اور مہنگے کارگو پر انحصار کم کیا جا سکے۔
.png)
2 hours ago
2



English (US) ·