پاکستان اور افغانستان تناؤ کو طاقت کے بجائے مذاکرات سے کم کریں: چین

3 months ago 18

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے اپنے افغان ہم منصب امیر خان متقی سے ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو میں کہا کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان اختلافات طاقت کے ذریعے نہیں بلکہ بات چیت اور مشاورت سے حل ہونے چاہییں۔

چینی وزارت خارجہ کی طرف سے جمعے کو جاری کیے گئے بیان کے مطابق وزیر خارجہ وانگ یی نے دونوں فریقوں پر زور دیا کہ وہ پرسکون رہیں اور تحمل سے کام لیں۔ جتنی جلد ممکن ہو آمنے سامنے بات چیت کریں۔ فوری جنگ بندی کی کوشش کریں اور اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کریں۔

چینی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ طاقت کے مزید استعمال سے صورت حال صرف زیادہ پیچیدہ ہو گی اور کشیدگی میں اضافہ ہو گا۔

چینی وزارت خارجہ کا یہ بیان اس کے بعد سامنے آیا جب پاکستان نے جمعے کو افغانستان کے قندھار ایئرپورٹ کے قریب نجی ایئرلائن کام ایئر کے ایندھن ڈپو پر بمباری کی، جس سے چین کی ثالثی کی کوششوں کے باوجود دونوں پڑوسی ملکوں کے درمیان برسوں میں بدترین کشیدگی مزید بڑھ گئی۔

بیان کے مطابق وانگ یی اور امیر خان متقی نے ایران کی صورت حال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

بیان میں بتایا گیا کہ چینی وزیر خارجہ نے افغان ہم منصب سے کہا کہ بیجنگ افغانستان سمیت عالمی برادری کے ساتھ مل کر ایران میں امن لانے کے لیے کام کرنے کو تیار ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ شدید کشیدگی کا باقاعدہ آغاز 26 فروری 2026 کو ہوا جب افغان فورسز نے پاکستان پر سرحد پار سے حملے کیے۔

افغان حملوں کے جواب میں پاکستان نے آپریشن غضب للحق شروع کیا اور افغانستان کے اندر شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر فضائی اور زمینی کارروائیاں کیں۔

دونوں ممالک کے درمیان یہ تنازع گذشتہ کئی سال سے جاری ہے اور پاکستان کا کہنا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر شدت پسند گروہ پاکستانی سکیورٹی فورسز پر حملوں کے لیے افغان سرزمین استعمال کر رہے ہیں۔

 دونوں ملکوں کے درمیان جاری کشیدگی سے قبل اکتوبر 2025 میں بھی دونوں ممالک کی فورسز کے درمیان شدید سرحدی جھڑپیں ہو چکی ہیں۔

Read Entire Article
Chatroom