ایران نے پیر کو ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ بالواسطہ رابطوں میں پاکستان بدستور مرکزی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تہران میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران وسیع تر علاقائی تنازع کو روکنے کے لیے جاری سفارتی کوششوں کے دوران ان خبروں کو بھی مسترد کیا جن میں کہا جا رہا تھا کہ چین پاکستان کی جگہ کلیدی ثالثی کا کردار نبھا رہا ہے۔
اسماعیل بقائی کے یہ ریمارکس ایسے موقع پر آئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر مجوزہ حملے منسوخ کرنے اور تہران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز سے متعلق کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے فیصلے کے بعد خطے میں سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔
حالیہ دنوں میں کشیدگی کے دوبارہ عروج پر پہنچنے کے بعد پاکستانی حکام نے ایرانی اور خلیجی قیادت کے ساتھ متعدد رابطے کیے ہیں۔
ایران ماضی میں بھی یہ تسلیم کرتا رہا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان بالواسطہ سفارت کاری کے دوران پاکستان تجاویز اور پیغامات کی ترسیل میں کلیدی کردار ادا کرتا رہا ہے۔
قطر اور عمان نے بھی خاص طور پر علاقائی سلامتی اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سے متعلق معاملات میں اہم سہولت کاری کی ہے۔
اسماعیل بقائی نے ان خبروں کے جواب میں، جن میں کہا گیا تھا کہ چین اب تہران اور واشنگٹن کے درمیان کلیدی ثالثی کر رہا ہے، کہا: ’ایران اور امریکہ سے متعلق مذاکرات میں ثالث پاکستان ہے جبکہ ضرورت پڑنے پر قطر بھی مدد کرتا ہے۔‘
ان کے بقول: ’چین بھی دیگر کئی ممالک کی طرح معاونت کر رہا ہے لیکن یہ کہنا درست نہیں کہ ہم نے موجودہ ثالثوں کے ساتھ کسی نئے ثالث کو شامل کر لیا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے چین کے ساتھ ’انتہائی دوستانہ تعلقات‘ ہیں اور دونوں ممالک کے مختلف شعبوں میں قریبی تعاون جاری ہے۔
ایک روز قبل ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے 24 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کے ساتھ ٹیلی فونک رابطے کیے، جن میں خطے میں سلامتی اور استحکام برقرار رکھنے کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اسلام آباد میں اپریل میں ہونے والی امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست بات چیت کی میزبانی کے بعد سے پاکستان واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان کئی دہائیوں میں اعلیٰ سطح کا پہلا رابطہ تھا۔
ان مذاکرات کے نتیجے میں جون میں ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ پر دستخط ہوئے، جس کے تحت ایران کے جوہری پروگرام، علاقائی سلامتی اور آبنائے ہرمز میں آزادانہ جہاز رانی سے متعلق مزید بات چیت کے لیے فریم ورک طے کیا گیا۔
اس مفاہمتی یادداشت کے تحت جون میں سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن سٹاک میں امریکہ اور ایران کے حکام کا ایک اور اجلاس ہوا، جس میں پاکستان اور قطر نے ثالث کا کردار ادا کیا۔ دونوں فریقین نے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی کے قیام، تکنیکی ورکنگ گروپس کے آغاز، آبنائے ہرمز میں کسی بھی واقعے سے بچاؤ کے لیے براہ راست رابطے کے نظام کے قیام اور ایک وسیع معاہدے کے لیے 60 روزہ روڈ میپ پر اتفاق کیا۔
تاہم گذشتہ ماہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں دوبارہ اضافے کے بعد یہ سفارتی عمل دباؤ کا شکار ہو گیا، جس سے خدشہ پیدا ہوا کہ طے شدہ روڈ میپ متاثر ہو سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اتوار کو کہا کہ انہوں نے ایران پر مجوزہ حملے منسوخ کر دیے ہیں اور مذاکرات پیر سے دوبارہ شروع ہوں گے، تاہم تہران نے حالیہ صورت حال کی اس تشریح سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ خطے میں ثالثی کے ذریعے سیاسی حل تلاش کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
اسماعیل بقائی نے اپنی ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی پریس کانفرنس میں کہا: ’ایران اس وقت امریکہ کے ساتھ مذاکرات نہیں کر رہا اور فی الحال آبنائے ہرمز میں عارضی محفوظ راستے کے حوالے سے صرف عمان کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔‘
اسحاق ڈار اور عباس عراقچی کی بات چیت
پاکستان کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پیر کو اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
دفتر خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا کہ بات چیت میں دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور عالمی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا، جس میں مقبوضہ مشرقی بیت المقدس کی بگڑتی ہوئی صورت حال بھی شامل تھی۔
بیان کے مطابق اسحاق ڈار نے عراقچی کو جلد از جلد پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔
<p>ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی 5 اپریل 2026 کو تہران میں امریکہ اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کے دوران ایک انٹرویو میں گفتگو کر رہے ہیں (روئٹرز)</p>
.png)
4 hours ago
1




English (US) ·