پنجاب کے ایلیٹ فورس ٹریننگ سینٹر میں ہائی وے پولیس کے دو اسسٹنٹ سب انسپکٹرز (اے ایس آئیز) کی ٹریننگ کے دوران دوڑ لگاتے ہوئے اچانک طبیعت خراب ہوئی اور دونوں کچھ دیر بعد دم توڑ گئے۔
پنجاب پولیس اہلکاروں کو ایلیٹ فورس کی تربیت کے لیے لاہور میں 1997 سے بنایا گیا سینٹر ہے، جہاں صوبے بھر سے پولیس میں بھرتی کا عمل اور بعد میں جوانوں کو ایلیٹ فورس کی تربیت دی جاتی ہے۔
تاہم پولیس کے دیگر شعبوں میں ترقی کے لیے بھی تربیتی کورس یہیں سے پاس کرنا ہوتے ہیں۔ ان دنوں محکمہ ہائی وے پولیس پنجاب میں ترقی کے لیے اے ایس آئی رینک کے اہلکاروں کا اورینٹیشن کورس چل رہا ہے، جس کی تربیت کا گذشتہ روز جمعرات کو باقاعدہ پہلا دن تھا۔
بنیادی طور پر یہاں ایلیٹ فورس میں شامل ہونے کے کورسز کرنے والوں کو خصوصی ٹاسک کے لیے بنائی گئی ایلیٹ فورس میں شمولیت کے لیے چھے ماہ جسمانی، جبکہ مکمل ایک سال کی ٹریننگ لازمی ہوتی ہے۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ جائن یہاں کریں
ایلیٹ ٹریننگ سینٹر لاہور کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی خرم شکور نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’یہ ہائی وے پولیس کے دو اے ایس آئی تھے جو پبلک سروس کمیشن پاس کرنے کے بعد ابتدائی ٹریننگ سہالہ میں کر کے یہاں ایلیٹ ٹریننگ کورس پر آئے تھے۔
’یہ کل 239 کا گروپ تھا، جن میں سے 10 نے دوڑ میں شرکت سے معذرت کر لی تھی۔ لیکن 229 دوڑ میں شامل تھے، جو چار کلومیٹر کی ہوتی ہے۔ باقی سب ٹھیک ہیں، صرف ان دو کی موت ہوئی ہے۔ حالانکہ انہیں فوری طبی امداد بھی دی گئی، لیکن وہ بچ نہیں سکے۔‘
خرم شکور نے مزید بتایا: ’مرنے والے پولیس اہلکاروں کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انہیں سانس اور دل کا مسئلہ ہوا ہے۔ لیکن اس سے پہلے ان کی طبیعت کے بارے میں کوئی ایسی بات نہیں تھی۔ یہ فٹنس سرٹیفکیٹ بھی لے کر آئے تھے۔ گرمی اور حبس تو تھی، لیکن وہ اتنی شدید نہیں تھی کہ پولیس کے فٹ جوانوں کی جان ہی چلی جائے۔ البتہ ہم مختلف پہلوؤں سے تحقیق بھی کر رہے ہیں۔ ان کی لاشیں لواحقین کے حوالے کر دی گئی ہیں۔‘
متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او غلام حسن رندھاوا نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’ایلیٹ سینٹر بیدیاں روڈ میں دوران ٹریننگ دو پولیس اہلکار جان سے گئے ہیں۔ ہمارے پاس درج رپورٹ کے مطابق ہائی وے پولیس راولپنڈی ریجن کے تصور شاہ اور سرگودھا ریجن کے محمد ارشد جمعرات کو صبح دوڑ لگاتے ہوئے طبیعت خراب ہونے کے کچھ دیر بعد فوت ہوگئے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان دونوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا تھا۔ بظاہر شدید گرمی اور حبس کی وجہ سے ہی طبیعت خراب ہونے کی سمجھ آتی ہے۔ لیکن حتمی طور پر رپورٹ آنے پر ہی کچھ کہا جا سکتا ہے۔‘
ایلیٹ ٹریننگ سینٹر لاہور میں تعینات ایک پولیس افسر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’پنجاب کا یہ واحد ایلیٹ ٹریننگ سینٹر ہے، جہاں بنیادی طور پر صوبے بھر سے پنجاب پولیس میں بھرتی باصلاحیت اہلکاروں کو ان کی خواہش پر ایلیٹ فورس میں شامل کیا جاتا ہے۔‘
1997 میں قائم ہونے والے اس سینٹر میں ایک سالہ تربیتی کورس ہوتا ہے، جس میں آٹھ سے نو سو اہلکاروں کو سلیکٹ کیا جاتا ہے۔ لیکن کئی مختلف وجوہات کی بنا پر چھوڑ دیتے ہیں۔ تو ہر سال کم و بیش پانچ سو کا بیچ پاس آؤٹ ہوتا ہے۔
انہیں دس ہزار روپے ماہانہ ایلیٹ الاؤنس دیا جاتا ہے۔ ایلیٹ فورس چونکہ خصوصی ٹاسک کے لیے طلب کی جاتی ہے، جس میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں یا کسی بڑے گینگ کے خلاف کارروائی کرنا ہو تو ہمیں ٹاسک سونپا جاتا ہے۔ اس لیے اس فورس کی ٹریننگ بھی خصوصی ہوتی ہے اور سینٹر میں انتظامات بھی اسی لحاظ سے کیے جاتے ہیں۔‘
خیال رہے کہ ایلیٹ ٹریننگ سینٹر لاہور پر 15 اکتوبر 2009 کو انتہا پسندوں نے حملہ بھی کیا تھا۔ جس میں انتہا پسندوں نے اندر گھس کر فائرنگ کی اور دو خودکش حملہ آوروں نے دھماکہ خیز مواد سے خود کو اڑا لیا تھا۔ اس واقعے میں پولیس اہلکاروں سمیت تین افراد جان سے گئے تھے۔
خرم شکور کے بقول: ’میں نے اپنی سروس میں کئی پولیس ٹریننگز کرائی ہیں، لیکن ایسا واقعہ پہلے کبھی پیش نہیں آیا، اس لیے جان سے جانے والے اہلکاروں کی موت ہمارے لیے حیران کن ہے۔‘
<p>پانچ اکتوبر 2024 کو لاہور میں پولیس اہلکار تاریخی بادشاہی مسجد کے باہر جمع ہیں (اے ایف پی)</p>
.png)
1 hour ago
2




English (US) ·