ٹرمپ کے حد سے زیادہ مطالبات تیسری مرتبہ ڈپلومیسی میں خیانت ہیں: محسن رضایی

1 hour ago 1

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضایی نے ہفتے کو کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حد سے زیادہ مطالبات تیسری مرتبہ ڈپلومیسی میں خیانت ہیں۔

اپنی ایکس پوسٹ میں انہوں نے امریکہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایران پر عائد بحری ناکہ بندی کو جاری رکھے ہوئے ہے اور مذاکرات میں حد سے زیادہ مطالبات کر رہا ہے۔

محسن رضایی کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گذشتہ روز ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک طویل پوسٹ میں اجلاس کا اعلان کیا تھا، جس میں ان دیرینہ مطالبات کا اعادہ کیا گیا کہ ایران کبھی بھی ایٹمی ہتھیار نہ بنانے پر راضی ہو اور جہاز رانی کے اہم راستے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولے۔

همانطور که پیش‌بینی می‌شد، رییس جمهور آمریکا برای سومین بار در حال خیانت به دیپلماسی است. او با ادامه محاصره دریایی و زیاده‌خواهی در مذاکرات، بیش از پیش ثابت کرد که اهل مذاکره نیست و اهداف دیگری را دنبال می‌کند.

— محسن رضایی (@ir_rezaee) May 30, 2026

اپنی پوسٹ میں، ٹرمپ نے کہا کہ تہران آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹائے اور ’بغیر کسی محصول‘ کے آبی راستے کی ناکہ بندی ختم کرے جب کہ امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی اپنی متوازی ناکہ بندی اٹھا لے گا۔

جس کے بعد وائٹ ہاؤس نے عندیہ دیا تھا کہ ٹرمپ ایک ممکنہ معاہدے کے حوالے سے فیصلے کے قریب ہیں جب کہ تہران نے اس بات پر اصرار کیا کہ مشرق وسطی کے تنازعے کے خاتمے پر ابھی تک کوئی ’حتمی معاہدہ‘ نہیں ہوا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایران کے سرکاری میڈیا کی ایک رپورٹ نے معاہدے کے حوالے سے ٹرمپ کی وضاحت کے کئی اہم پہلوؤں کو بھی مسترد کر دیا اور ٹرمپ کے ریمارکس کو ’سچ اور جھوٹ کا آمیزہ‘ قرار دیا۔

ایک امریکی عہدیدار نے اے ایف پی کو بتایا تھا کہ مشرق وسطی کو اپنی لپیٹ میں لینے اور عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دینے والے تنازعے پر کئی ہفتوں کے تعطل کا شکار مذاکرات کے بعد، معاہدہ ٹرمپ کی منظوری کا منتظر تھا۔

ٹرمپ نے جمعے کو وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں دو گھنٹے کے اجلاس میں شرکت کی لیکن وہ کسی فیصلے پر نہیں پہنچے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وائٹ ہاؤس کے اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’سچویشن روم کا اجلاس ختم ہو گیا ہے اور یہ تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہا۔ صدر ٹرمپ صرف ایسا معاہدہ کریں گے جو امریکہ کے لیے بہتر ہو اور ان کی طے شدہ حدود کو پورا کرتا ہو۔ ایران کبھی ایٹمی ہتھیار نہیں رکھ سکتا۔‘

Read Entire Article