نیپال میں پہاڑی تودہ گرنے سے اچانک سیلاب، 95 لاشیں برآمد، سیکڑوں افراد لاپتہ

6 hours ago 1

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

نیپال اور چینی خطے تبت کی سرحد پر بدھ کو مٹی اور چٹانوں کا ایک بڑا تودہ دریا میں گرنے کے بعد آنے والے تباہ کن سیلاب سے نیپال میں کم از کم 95 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں جبکہ 341 غیر ملکی سیاحوں سمیت سیکڑوں افراد تاحال لاپتہ ہیں۔

حکام کے مطابق اچانک آنے والے سیلاب نے نیپال کے پہاڑی علاقوں میں مکانات، سڑکوں اور بجلی کے منصوبوں کو شدید نقصان پہنچایا، جبکہ چینی خطے تبت میں بھی بڑے پیمانے پر جانی نقصان کا خدشہ ہے۔

سرحدی علاقے سے سامنے آنے والی سکیورٹی کیمروں کی ویڈیوز میں لوگوں کو سیلابی ریلے سے جان بچانے کے لیے بھاگتے اور بعد ازاں عمارتوں اور گاڑیوں کو چٹانوں کے ساتھ پانی میں بہتے دیکھا جا سکتا ہے۔

نیپال کی وزارت سیاحت کے مطابق متاثرہ علاقے میں کم از کم 341 غیر ملکی مسافر لاپتہ ہیں، جن میں 100 سے زائد انڈین، تین امریکی اور 12 برطانوی شہری شامل ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ جائن یہاں کریں

درجنوں مقامی افراد بھی لاپتہ ہیں، جبکہ جنوبی کوریا نے بتایا ہے کہ ہائیڈرو پاور منصوبے پر کام کرنے والے اس کے آٹھ شہریوں کا بھی تاحال پتہ نہیں چل سکا۔

نیپالی پولیس کے مطابق امدادی ٹیموں نے اب تک 95 لاشیں برآمد کی ہیں جبکہ 65 افراد کو متاثرہ علاقے اور دارالحکومت کھٹمنڈو کے ہسپتالوں میں طبی امداد دی جا رہی ہے۔

حکام نے خبردار کیا ہے کہ اموات کی تعداد میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

زلزلہ یا پہاڑی تودہ؟

نیپال کے وزیر خارجہ شیشیر خانال نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق علاقے میں آنے والے زلزلے کے باعث پہاڑی تودہ گرنے سے سیلاب آیا۔

جرمن ریسرچ سینٹر فار جیو سائنسز کے مطابق سیلاب سے تقریباً سات منٹ قبل علاقے میں 4.4 شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا تھا تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ مٹی کے تودے گرنے کی اصل وجہ ابھی حتمی طور پر معلوم نہیں ہوسکی۔

نیپال کی نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر کے ابتدائی جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ برف اور چٹانوں کے تودے نے لینڈے دریا میں اچانک سیلاب پیدا کیا۔ یہ مقام نیپال-چین کے درمیان راسواگڑھی سرحدی گزرگاہ سے تقریباً 20 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ماہرین نے دریا کے بالائی حصے میں رکاوٹ موجود ہونے کے باعث ایک اور سیلاب آنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا ہے۔ ان کے مطابق مسلسل بارش کے باعث پانی کی سطح مزید بلند ہوسکتی ہے۔

امدادی کارروائیوں میں مشکلات

حکام کے مطابق متاثرہ پہاڑی علاقوں میں امدادی ہیلی کاپٹروں کو اترنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ٹی وی فوٹیجز میں منہدم مکانات، پانی میں بہتی گاڑیاں اور سیلابی ریلے میں بہتا لوہے کا پل دیکھا جا سکتا ہے۔

راسوا کے ایک طبی کارکن تولا بہادر بی کے نے روئٹرز کو بتایا کہ دریا کے کنارے آبادیاں مکمل طور پر بہہ گئی ہیں اور ان کے پانچ رشتہ دار بھی لاپتہ ہیں۔

ضلع انتظامیہ کے سربراہ نریندر پریار نے دریائے بھوٹے کوشی کے کنارے رہنے والے لوگوں سے بلند اور محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی اپیل کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ مزید جانی و مالی نقصان ہوسکتا ہے۔

انڈیا کی شمالی ریاستوں اتر پردیش اور بہار میں بھی سیلاب کی وارننگ جاری کردی گئی ہے، جہاں نیپال سے آنے والے کئی دریا پہاڑی علاقوں سے اتر کر میدانی علاقوں میں داخل ہوتے ہیں۔

انڈین ریاست بہار کے حکام کے مطابق چھ اضلاع سے تقریباً پانچ ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاچکا ہے، جبکہ مجموعی طور پر 10 ہزار سے 12 ہزار افراد کی منتقلی کا منصوبہ ہے۔

نیپال کی وزارت سیاحت کے مطابق متاثرہ علاقے میں کم از کم 341 غیر ملکی مسافر لاپتہ ہیں، جن میں 100 سے زائد انڈین، تین امریکی اور 12 برطانوی شہری شامل ہیں۔
بدھ, اگست 26, 2026 - 19:45
Main image: 

<p>نیپال میں 26 اگست 2026 کو اچانک آنے والے سیلاب کے بعد پولیس اہلکار ایک متاثرہ شخص کو محفوظ مقام پر منتقل کر رہے ہیں (روئٹرز)</p>

jw id: 
d8JxegFI
type: 
SEO Title: 
نیپال میں پہاڑی تودہ گرنے سے اچانک سیلاب، 95 لاشیں برآمد، سیکڑوں افراد لاپتہ
Read Entire Article
Chatroom