نیپال: لینڈ سلائیڈنگ سے بنی جھیل پھٹنے کا خطرہ، امدادی کارروائیاں معطل

1 hour ago 1

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

نیپال اور چین کی سرحد پر لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں بننے والی ایک جھیل جمعے کو لبریز ہو کر بہنے لگی، جس سے دو روز قبل اچانک آنے والے سیلاب سے تباہ ہونے والے علاقوں کو مزید خطرہ لاحق ہو گیا اور حکام کو امدادی کارروائیاں عارضی طور پر روکنا پڑیں۔

روئٹرز کے ایک عینی شاہد کے مطابق چین کے تبت سے متصل نیپال کے ضلع رسووا میں رہائشی دریا کے پانی کی سطح میں ممکنہ اضافے سے بچنے کے لیے پہاڑی ڈھلوانوں کی جانب جاتے ہوئے نظر آئے۔

چین کے سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق جھیل کے پھٹنے کے خدشے کے پیش نظر تمام چینی امدادی اہلکاروں اور گاڑیوں کو محفوظ مقام پر واپس بلا لیا گیا ہے۔ نیپال میں ایک فوجی افسر نے بتایا کہ حکام نے اگلے 90 منٹ کے لیے امدادی کارروائیاں روک دی ہیں۔

بدھ کو خطے میں گلیشیئر کے پھٹنے کے نتیجے میں آنے والے سیلاب سے نیپال میں اموات کی مصدقہ تعداد بڑھ کر 469 ہو گئی ہے جبکہ نیپال اور تبت میں تقریباً ایک ہزار افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ گلیشیئر کے پھٹنے کے بعد چٹانوں، برف، کیچڑ اور ملبے کا ایک بہت بڑا ریلا ہمالیہ کے پہاڑی دریائی نظام سے گزرا۔

سیلاب نے دیہات اور وادیوں کو اپنی لپیٹ میں لیتے ہوئے بجلی گھروں، سڑکوں اور پلوں کو تباہ کر دیا۔ یہ راستہ نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو کو تبت کے شہر لہاسا سے ملاتا ہے اور سیاحوں اور زائرین میں مقبول ہے۔ لاپتہ افراد میں کم از کم 540 غیر ملکی شہری شامل ہیں۔

سیلاب کے بعد ملبے نے ایک رکاوٹی جھیل بنا دی، جس سے تباہ حال زیریں علاقوں میں مزید سیلاب کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

چین نے جمعرات کو جھیل کا فضائی جائزہ لینے اور اس کا سہ جہتی نقشہ تیار کرنے کے لیے آٹھ رکنی انجینیئرنگ ٹیم تعینات کی تھی۔

جمعے تک جھیل میں پانی کا ذخیرہ 25 لاکھ مکعب میٹر سے تجاوز کر گیا جبکہ انجینیئرنگ ٹیم نے ایک روز قبل اس میں 15 سے 20 لاکھ مکعب میٹر پانی موجود ہونے کا اندازہ لگایا تھا۔

شدید متاثرہ ضلع رسوا کے اعلیٰ ترین سرکاری افسر نریندر پریار نے بتایا کہ نیپال میں زیریں علاقے کے حکام کو اطلاع ملی کہ برفانی جھیل کا بند ٹوٹ گیا ہے۔

انہوں نے کہا: ’ہم دیکھ سکتے ہیں کہ دریا میں پانی کی سطح بڑھ رہی ہے،‘ تاہم انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت پانی کی سطح کتنی بلند ہے، یہ واضح نہیں۔

اس سے قبل نیپالی امدادی ٹیموں نے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کی اور قصبوں اور وادیوں میں پھنسے ہزاروں افراد تک ہنگامی امدادی سامان پہنچایا۔ امدادی اداروں نے، جن میں بعض نے سونگھنے والے کتوں کی مدد بھی لی، درجنوں لاشیں برآمد کیں جو سیلابی ریلے میں بہہ کر میدانی علاقوں تک پہنچ گئی تھیں۔

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)

دبگا تمانگ ان آخری افراد میں شامل تھے جنہیں جمعرات کو رسوا سے بچایا گیا۔ انہیں تین دیگر افراد کے ہمراہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے نوواکوت میں فوجی کیمپ منتقل کیا گیا۔

انہوں نے کہا: ’ہمارے تمام لوگ جا چکے ہیں۔ وہ مر چکے ہیں۔ میرے لیے انتظار کرنے والا اب کوئی نہیں۔ سب کچھ اور سب لوگ ختم ہو گئے۔‘

اگرچہ دنیا بھر سے مدد کی پیشکشیں موصول ہو رہی ہیں، تاہم نیپال نے کہا ہے کہ اسے تلاش اور امدادی کارروائیوں کے لیے دیگر ممالک کی مدد کی ضرورت نہیں۔

وزارت خارجہ کے ترجمان لوک بہادر چھتری نے جمعے کو کہا: ’مدد کی پیشکش فطری ہے۔ ہمارے سکیورٹی ادارے تلاش اور امدادی کارروائیاں کر رہے ہیں۔ فی الحال ہمیں ایسی مدد کی ضرورت نہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سیئول کی وزارت خارجہ نے بتایا کہ جنوبی کوریا کی ایک فوری امدادی ٹیم پہلے ہی کھٹمنڈو میں موجود ہے، تاہم اسے تعینات نہیں کیا گیا کیونکہ نیپالی حکومت نے ابھی تک غیر ملکی امدادی ٹیموں کو تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں میں شامل کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں بنایا۔

ریاستی میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعرات کی شام تک چینی امدادی کارکن سرحد کے چینی جانب سب سے زیادہ متاثرہ علاقے، گیئرونگ سرحدی گزرگاہ تک نہیں پہنچ سکے تھے۔ امدادی کارکن علاقے تک رسائی دینے والی اہم سڑک سے ملبہ ہٹانے میں مصروف تھے۔

بدھ کو سامنے آنے والی ڈرامائی ویڈیو میں دیکھا گیا کہ کیچڑ اور ملبے کے بڑے بڑے ریلے چند ہی لمحوں میں سرحدی گزرگاہ کے علاقے میں موجود عمارتوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں اور فرار ہونے کی کوشش کرنے والے افراد کو بھی بہا لے گئے۔

چینی سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق جمعرات کو تبت کے گیئرونگ کاؤنٹی میں لاپتہ افراد کی تعداد 558 تھی، جن میں 260 غیر ملکی شہری شامل ہیں۔ چین کی جانب اب تک صرف تین افراد کی اموات کی تصدیق ہوئی ہے۔

چین کے وزیراعظم لی چیانگ، جو ملک کے دوسرے اعلیٰ ترین عہدیدار ہیں، جمعرات کی سہ پہر گیئرونگ میں آفت سے متاثرہ مقام پر پہنچے۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق ان کے دورے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیجنگ اس آفت کو قومی ترجیحات میں انتہائی اہم معاملہ سمجھ رہا ہے۔

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)

عمارتیں ’تیلیوں کی طرح مٹ گئیں‘

دنیا بھر میں لاپتہ افراد کے رشتہ دار اپنے پیاروں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے بے چین ہیں۔

سنیہا سدھیر ان 10 خواتین میں شامل ہیں، جن کے شوہر نیپال سے تبت کے کوہِ کیلاش کی جانب ٹریکنگ کے لیے روانہ ہوئے تھے جب یہ علاقہ قدرتی آفت کی زد میں آیا۔

شمالی ورجینیا سے تعلق رکھنے والے یہ افراد ان درجنوں امریکی شہریوں میں شامل ہیں، جو لاپتہ ہیں۔

سدھیر نے جمعرات کو ورجینیا کے شہر چینٹیلی میں اپنے گھر سے روتے ہوئے کہا: ’وہ کہاں ہیں؟‘

سدھیر نے بتایا کہ خواتین ایک دوسرے کا ساتھ دے رہی ہیں اور امریکہ اور انڈیا میں حکام، سیاست دانوں، دوستوں اور رشتہ داروں سے رابطہ کر رہے ہیں، اس امید کے ساتھ کہ انہیں اپنے پیاروں کے بارے میں کوئی اطلاع مل جائے گی۔

انہوں نے کہا: ’سب باری باری اپنے آنسو بہا رہے ہیں، انہیں صاف کر رہے ہیں اور دوبارہ کام پر لگ رہے ہیں۔‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ نے نیپال کو مدد کی پیشکش کی ہے۔

ٹرمپ نے کہا: ’کسی نے کبھی ایسا کچھ نہیں دیکھا، جہاں انتہائی مضبوط اور اچھی طرح تعمیر شدہ عمارتیں اس طرح مٹ گئی ہوں جیسے وہ تیلیاں ہوں۔ یہ ایک خوفناک واقعہ ہے۔ ہم امداد بھیج رہے ہیں اور ہم نے قیادت سے بات کی ہے اور انہیں بتایا ہے کہ انہیں جو کچھ چاہیے ہوگا، وہ انہیں فراہم کیا جائے گا۔‘

روئٹرز کے ایک عینی شاہد کے مطابق چین کے تبت سے متصل نیپال کے ضلع رسووا میں رہائشی دریا کے پانی کی سطح میں ممکنہ اضافے سے بچنے کے لیے پہاڑی ڈھلوانوں کی جانب جاتے ہوئے نظر آئے۔
جمعہ, اگست 28, 2026 - 12:30
Main image: 

<p>چینی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ویبو پر لہاسا موبائل فائر اینڈ ریسکیو سروس کے اکاؤنٹ سے 27 اگست 2026 کو جاری کی گئی اس فضائی تصویر میں ایک&nbsp;جھیل دکھائی گئی ہے جو چین کے تبت کے علاقے کی گیئرونگ کاؤنٹی میں اس مقام کے قریب لینڈ سلائیڈنگ کے بعد بن گئی، جہاں نیپال کا چھوچن کھولا دریا پورےپو تسانگپو دریا میں گرتا ہے۔&nbsp;چینی سرکاری میڈیا نے 28 اگست کو آبی حکام کے حوالے سے بتایا کہ چین اور نیپال کی سرحد پر مٹی کے تودے گرنے کے بعد بننے والی اس&nbsp;جھیل کے پھٹنے اور سیلابی پانی کے زیریں علاقوں کی جانب بہنے کا خطرہ بہت زیادہ ہے (اے ایف پی)</p>

<p>(اے ایف پی)</p>

jw id: 
gUEyTTGs
type: 
SEO Title: 
نیپال: لینڈ سلائیڈنگ سے بنی جھیل پھٹنے کا خطرہ، امدادی کارروائیاں معطل
Read Entire Article
Chatroom