سنگاپور میں منعقد ہونے والے شنگریلا ڈائیلاگ 2026 میں پاکستان فوج کے لیفٹیننٹ جنرل نعمان ذکریا کی تقریر محض ایک عسکری بیان نہیں تھی بلکہ بدلتی ہوئی جنگ، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور جنوبی ایشیا کے مستقبل کے بارے میں ایک اہم فکری مداخلت تھی۔
ان کی گفتگو اس حقیقت کی یاد دہانی تھی کہ اکیسویں صدی کی جنگ اب محض ٹینکوں، توپوں اور جنگی جہازوں کے درمیان مقابلے کا نام نہیں رہی بلکہ یہ سائبر سپیس، مصنوعی ذہانت، خلائی اثاثوں، الیکٹرانک وارفیئر اور معلوماتی میدانوں تک پھیل چکی ہے۔
یہی وہ تبدیلی ہے جسے آج دنیا ملٹی ڈومین وارفیئر کے نام سے جانتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جنگ کی نوعیت ہمیشہ ٹیکنالوجی کے ساتھ تبدیل ہوتی رہی ہے۔
بارود کی ایجاد نے قرون وسطیٰ کے جنگی تصورات بدل دیے، فضائی طاقت نے پہلی اور دوسری عالمی جنگوں کو نئی شکل دی جبکہ جوہری ہتھیاروں نے جنگ اور امن کے درمیان بالکل نیا توازن پیدا کیا۔
تاہم موجودہ دور میں تبدیلی کی رفتار پہلے سے کہیں زیادہ تیز ہے۔ مصنوعی ذہانت، خودکار ہتھیار، کوانٹم کمپیوٹنگ، سائبر حملے اور خلائی نگرانی کے نظام جنگ کے میدان کو اس انداز میں تبدیل کر رہے ہیں جس کی مثال ماضی میں کم ہی ملتی ہے۔
جنرل نعمان ذکریا نے درست طور پر نشاندہی کی کہ اب عسکری طاقت کا انحصار صرف روایتی عسکری اثاثوں پر نہیں رہا۔
فیصلہ سازی کے عمل میں مصنوعی ذہانت کی شمولیت، خودمختار نظاموں کا استعمال اور مختلف عسکری شعبوں کے درمیان فوری رابطہ جنگی کامیابی کے لیے بنیادی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آج کی جنگ کو صرف زمینی، فضائی یا بحری میدانوں تک محدود سمجھنا ایک فرسودہ تصور بن چکا ہے۔
ملٹی ڈومین وارفیئر دراصل مختلف جنگی میدانوں کے مربوط استعمال کا نام ہے۔ اس میں زمین، فضا، سمندر، سائبر سپیس، الیکٹرو میگنیٹک سپیکٹرم اور خلائی نظام ایک ہی آپریشنل فریم ورک کے تحت کام کرتے ہیں۔
اس تصور کی بنیاد یہ ہے کہ دشمن کے خلاف بیک وقت مختلف محاذوں پر کارروائی کی جائے تاکہ اس کی فیصلہ سازی اور ردعمل کی صلاحیت کو مفلوج کیا جا سکے۔
اس نئی جنگی حکمت عملی میں کسی دشمن کے مواصلاتی نظام کو سائبر حملے سے متاثر کیا جا سکتا ہے، اس کے سیٹلائٹ روابط کو خلائی یا الیکٹرانک ذرائع سے محدود کیا جا سکتا ہے، مصنوعی ذہانت کے ذریعے جنگی صورتحال کا فوری تجزیہ کیا جا سکتا ہے جبکہ روایتی عسکری قوت اسی وقت زمینی یا فضائی کارروائی انجام دے سکتی ہے۔
یوں جنگ کا ہر میدان دوسرے میدان کے ساتھ منسلک ہو جاتا ہے۔ جنوبی ایشیا کے تناظر میں اس تصور کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔
یہ خطہ پہلے ہی دو جوہری طاقتوں پاکستان اور انڈیا کے درمیان دیرینہ تنازعات، سیاسی کشیدگی اور عسکری مقابلے کا مرکز ہے۔
یہاں تزویراتی استحکام کی بنیاد بڑی حد تک نیوکلئیر ڈیٹرنس پر قائم رہی ہے۔ گذشتہ کئی دہائیوں سے یہی تصور دونوں ممالک کے درمیان مکمل جنگ کو روکنے میں اہم کردار ادا کرتا آیا ہے۔
تاہم ملٹی ڈومین وارفیئر کے ابھار نے اس روایتی تزویراتی توازن کے لیے نئے سوالات پیدا کر دیے ہیں۔
جوہری ڈیٹرنس بنیادی طور پر اس مفروضے پر قائم تھا کہ دونوں فریق ایک دوسرے کی جوہری صلاحیتوں سے آگاہ ہیں اور کسی بھی بڑے حملے کا جواب یقینی طور پر دیا جائے گا۔
لیکن جب جنگ سائبر حملوں، مصنوعی ذہانت اور خلائی نظاموں تک پھیل جائے تو صورتحال کہیں زیادہ پیچیدہ ہو جاتی ہے۔
فرض کیجیے کہ کسی بحران کے دوران ایک ریاست دوسری ریاست کے مواصلاتی یا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹمز کو سائبر حملے کے ذریعے متاثر کر دیتی ہے۔
متاثرہ ریاست اس حملے کو محض سائبر کارروائی سمجھے گی یا اسے بڑے عسکری حملے کا پیش خیمہ تصور کرے گی؟
اسی طرح اگر کسی ملک کے سیٹلائٹ نظام یا ابتدائی انتباہی صلاحیتوں میں خلل پیدا ہو جائے تو غلط فہمی اور غلط اندازے کے امکانات کئی گنا بڑھ سکتے ہیں۔
یہی وہ خطرات ہیں جن کی طرف جنرل ذکریا نے اشارہ کیا۔ ان کے مطابق نئی ٹیکنالوجیز نہ صرف صلاحیتوں میں اضافہ کر رہی ہیں بلکہ غلط حساب کتاب، غلط تشخیص اور غیر ارادی تصادم کے امکانات بھی پیدا کر رہی ہیں۔
جنوبی ایشیا جیسے خطے میں، جہاں بحران اکثر انتہائی مختصر وقت میں شدت اختیار کر لیتے ہیں، یہ خطرات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔
مئی 2025 کے پاکستان ۔ انڈیا تنازعے کا حوالہ دیتے ہوئے جنرل ذکریا نے کہا کہ پاکستان نے مؤثر ملٹی ڈومین آپریشنز کا مظاہرہ کیا جس میں تینوں مسلح افواج کے درمیان ہم آہنگی کے ساتھ سائبر، الیکٹرانک وارفیئر، انٹیلی جنس، نگرانی اور خلائی صلاحیتوں کا مربوط استعمال کیا گیا۔
اس واقعے نے واضح کیا کہ جدید جنگ میں کامیابی صرف روایتی عسکری قوت پر منحصر نہیں رہی بلکہ مختلف ڈومینز کے درمیان انضمام فیصلہ کن اہمیت اختیار کر چکا ہے۔
تاہم اس واقعے سے ایک اور سبق بھی حاصل ہوتا ہے۔ اگر ملٹی ڈومین صلاحیتیں بحران کے دوران تیزی سے استعمال ہوں تو کشیدگی کے بڑھنے کی رفتار بھی پہلے سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
جو فیصلے ماضی میں گھنٹوں یا دنوں میں ہوتے تھے، اب مصنوعی ذہانت اور خودکار نظاموں کی مدد سے منٹوں یا سیکنڈوں میں کیے جا سکتے ہیں۔
یہ رفتار بعض اوقات سیاسی قیادت کے لیے بحران کو قابو میں رکھنے کے مواقع کو محدود کر سکتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ مستقبل کی جنگ صرف عسکری قوت کا مسئلہ نہیں بلکہ گورننس، ضابطہ سازی اور سفارت کاری کا بھی مسئلہ ہے۔
جنرل ذکریا نے زور دیا کہ مصنوعی ذہانت، خودکار ہتھیاروں، سائبر آپریشنز اور خلائی ٹیکنالوجیز کے استعمال کے لیے بین الاقوامی سطح پر قابل قبول اصول وضع کیے جانے چاہییں۔
ان کا مؤقف تھا کہ طاقت کے استعمال کے فیصلوں میں انسانی نگرانی اور انسانی ذمہ داری کو ہر صورت برقرار رہنا چاہیے۔
یہ مطالبہ محض اخلاقی نہیں بلکہ تزویراتی بھی ہے۔ اگر جنگی فیصلے مکمل طور پر الگورتھمز اور خودکار نظاموں کے سپرد کر دیے جائیں تو غلطی کی صورت میں اس کے نتائج تباہ کن ہو سکتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت فیصلہ سازی کو تیز تو بنا سکتی ہے لیکن سیاسی بصیرت، اخلاقی ذمہ داری اور انسانی فہم کا متبادل نہیں بن سکتی۔
جنوبی ایشیا کے لیے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا خطے کی ریاستیں نئی ٹیکنالوجیز کے ساتھ ساتھ بحران کے انتظام کے نئے طریقے بھی اختیار کریں گی؟
اگر عسکری صلاحیتیں تیزی سے بڑھتی رہیں لیکن اعتماد سازی، رابطے اور بحران کے انتظام کے نظام کمزور رہیں تو تزویراتی استحکام بتدریج کمزور ہو سکتا ہے۔
اس تناظر میں جنرل ذکریا کی یہ بات خاص اہمیت رکھتی ہے کہ تزویراتی استحکام صرف ڈیٹرنس کے ذریعے نہیں بلکہ مؤثر رابطے کے ذریعے بھی برقرار رکھا جاتا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ہاٹ لائنز، عسکری سطح کے رابطے، تکنیکی مذاکرات اور شفافیت کے اقدامات آج پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو چکے ہیں کیونکہ مستقبل کی جنگ میں خطرہ صرف دشمن کی طاقت نہیں بلکہ غلط فہمی بھی ہو سکتی ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ ملٹی ڈومین وارفیئر کے دور میں طاقت کا تصور بھی تبدیل ہو رہا ہے۔
اب کسی ریاست کی قوت صرف اس کے فوجی بجٹ یا اسلحے کی تعداد سے نہیں ناپی جائے گی بلکہ اس کی سائبر مزاحمت، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، خلائی صلاحیتوں، مصنوعی ذہانت میں مہارت اور ادارہ جاتی ہم آہنگی سے بھی ناپی جائے گی۔
یہی وجہ ہے کہ آنے والے برسوں میں قومی سلامتی کا تصور مزید جامع اور کثیرالجہتی ہو جائے گا۔
جنوبی ایشیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ٹیکنالوجی نئے مواقع بھی پیدا کر رہی ہے اور نئے خطرات بھی۔
اگر ریاستیں ان صلاحیتوں کو ذمہ داری، شفافیت اور مکالمے کے ساتھ استعمال کریں تو یہ خطے کے استحکام کو مضبوط بنا سکتی ہیں۔
لیکن اگر عسکری جدیدیت کو صرف مقابلے اور برتری کے تناظر میں دیکھا گیا تو یہی ٹیکنالوجیز عدم استحکام کا باعث بھی بن سکتی ہیں۔
شنگریلا ڈائیلاگ میں جنرل نعمان ذکریا کا مرکزی پیغام یہی تھا کہ ٹیکنالوجی خود امن یا جنگ کا فیصلہ نہیں کرتی۔
اصل فیصلہ سیاسی قیادت، ریاستی ذمہ داری اور بین الاقوامی تعاون کرتے ہیں۔
اکیسویں صدی کی جنگ بلاشبہ بدل چکی ہے لیکن امن کا بنیادی اصول آج بھی وہی ہے: طاقت کے ساتھ تحمل، صلاحیت کے ساتھ ذمہ داری اور مقابلے کے ساتھ مکالمہ۔۔ جنوبی ایشیا کی تزویراتی استحکام کا مستقبل بھی اسی توازن پر منحصر رہے گا۔
(ڈاکٹر راجہ قیصر احمد ایریا سٹڈی سینٹر برائے افریقہ، نارتھ و ساؤتھ امریکہ کے ڈائریکٹر ہیں)
نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
.png)
2 hours ago
1



English (US) ·