سی این این کی جانب سے حاصل کیے گئے پینٹاگون کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے خط کے مطابق مشرق وسطیٰ میں یو ایس ایس ابراہم لنکن کی قیادت میں طیارہ بردار بحری جہازوں کے جنگی گروپ کی طویل تعیناتی کے دوران امریکی بحریہ کے آٹھ اہلکاروں نے خودکشی کی کوشش کی۔
منگل کو نیویارک سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ سینیٹر کرسٹن گلیبرینڈ کو بھیجے گئے تحریری جواب میں، بحریہ کے قائم مقام سیکریٹری ہنگ کاؤ نے بحری جہاز پر ذہنی صحت سے متعلق کانگریس کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات کے بعد تفصیلات فراہم کیں۔
انہوں نے بتایا کہ یہ اعداد و شمار پورے جنگی گروپ سے متعلق ہیں، جس میں طیارہ بردار بحری جہاز، اس کا فضائی دستہ، ساتھ موجود تباہ کن بحری جہاز اور معاون عملہ شامل ہیں۔
ہنگ کاؤ نے کہا کہ اس تعیناتی کے دوران، جس میں ایران کے خلاف فعال جنگی کارروائیاں بھی شامل تھیں، کسی بھی بحری اہلکار کی موت خودکشی کے باعث نہیں ہوئی۔
سیاسی قیادت نے اس سے قبل جہاز پر حالات خراب ہونے کی اطلاعات کو کم اہمیت دی تھی۔
گلیبرینڈ نے بدھ کو ایک بیان میں کہا: ’جسے ٹرمپ اور سیکریٹری ہیگستھ نے ’جعلی خبر‘ قرار دے کر مسترد کر دیا تھا، وہ ہمارے فوجی اہلکاروں کے لیے سنگین اور بگڑتے ہوئے حالات ثابت ہوئے۔‘
ایک دفاعی عہدیدار نے سی بی ایس نیوز کو تصدیق کی کہ ان میں سے دو خودکشی کی کوششیں اس وقت ہوئیں جب جنگی گروپ فعال طور پر جنگ میں مصروف تھا۔
یہ تعیناتی نو ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہی اور اس دوران بحری جہاز 250 سے زائد مسلسل دن تک کسی بندرگاہ پر رکے بغیر سمندر میں رہے، جو جدید امریکی بحریہ کا ایک ریکارڈ ہے۔
جنگی کارروائیوں کے دباؤ کے علاوہ، عملے کو جہاز پر بنیادی معیارِ زندگی سے متعلق مسائل کا بھی سامنا رہا۔ بحری اہلکاروں نے پلمبنگ کی بار بار خرابیوں کی شکایت کی، جن کی وجہ سے بیت الخلا اور گرم پانی کی سہولت بند ہو جاتی تھی جبکہ خوراک اور دیگر ضروری سامان کی قلت بھی رہی۔
ایک امریکی فوجی عہدیدار نے سی این این کو بتایا: ’خودکشی کی آٹھ کوششیں انتہائی زیادہ تعداد ہے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے مزید کہا کہ عام طور پر جنگی گروپ کی تعیناتی کے دوران ایک سال میں ایک یا دو ایسی کوششیں ہوتی ہیں۔ ’جنگی کارروائیوں کا دباؤ معمول کی تعیناتیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ بندرگاہوں پر کوئی قیام نہیں، مسلسل الرٹ رہنا وغیرہ۔‘
جنگی گروپ میں خودکشی کی کوششوں کی شرح امریکی بحریہ کے مجموعی فعال ڈیوٹی کے 2024 کے اعداد و شمار کے مطابق تھی، جن کے مطابق تقریباً 3 لاکھ 37 ہزار فعال ڈیوٹی پر موجود بحری اہلکاروں میں 356 خودکشی کی کوششیں ریکارڈ کی گئی تھیں۔
خط میں جہاز سے گرنے کے مخصوص واقعات کی تفصیلات بھی دی گئی ہیں۔ اگست میں فضائی دستے سے وابستہ ایک بحری اہلکار جہاز سے سمندر میں گر گیا، جسے ’فوری طور پر بچا لیا گیا‘ اور اسے طبی امداد فراہم کی گئی۔ مارچ میں ساتھی اہلکاروں نے ایک اور بحری اہلکار کو جہاز سے سمندر میں کودنے سے روک لیا، جس کا علاج کیا گیا اور اسے واپس آبائی بندرگاہ بھیج دیا گیا۔
ہنگ کاؤ نے بتایا کہ جنگی گروپ کے ساتھ تعینات ذہنی صحت کے عملے میں پانچ مذہبی معاونین، ایک ماہر نفسیات، ایک طبی سماجی کارکن، ایک مربوط روک تھام مشیر، رویوں سے متعلق صحت کے تین تکنیکی ماہرین اور ایک تربیت یافتہ کتا شامل تھا۔
سی این این کو دیے گئے ایک سابقہ بیان میں بحریہ نے جہاز پر دستیاب معاونتی نظام کا دفاع کیا تھا۔
بیان میں کہا گیا: ’ہم نے جہاز پر خودکشی کے خیالات یا کوششوں میں کوئی اضافہ نہیں دیکھا۔ ہم ہر فوجی اہلکار کی فلاح و بہبود کو سنجیدگی سے لیتے ہیں اور خدشات سامنے آنے پر ان کا جائزہ لینے اور ان سے نمٹنے کے لیے مذہبی، طبی اور ذہنی صحت کے ماہرین دستیاب ہیں۔‘
ایک امریکی عہدیدار نے بھی ادارے کو بتایا کہ بحریہ نے تعیناتی کی مدت اور خود کو نقصان پہنچانے کے واقعات کے درمیان کوئی تعلق قائم نہیں کیا اور یہ کہ جہاز سے اہلکاروں کے سمندر میں گرنے کے واقعات پورے بحری بیڑے میں پیش آتے رہے ہیں۔
جہاز پر موجود بحری اہلکاروں نے ایک مختلف صورت حال بیان کی اور بڑے پیمانے پر پست حوصلے اور اپنی واپسی کی تاریخ کے حوالے سے بے چینی کا ذکر کیا۔
ایک اہلکار نے جہاز کے مشرق وسطیٰ سے روانہ ہونے سے قبل ادارے کو بتایا: ’ہر روز ہم بیدار ہوتے ہیں اور اپنے کپتان کی گفتگو سنتے ہیں، ہم اپنی واپسی سے متعلق معلومات کے لیے بے حد پُرامید اور بے چین رہتے ہیں۔‘
خط پر تبصرے کے لیے پوچھے جانے پر بحریہ نے ایک ویڈیو کی جانب اشارہ کیا جو ہنگ کاؤ نے ایکس پر پوسٹ کی تھی، جس میں انہوں نے کہا تھا: ’ہمیں خودکشی کی بڑھتی ہوئی لہر کا براہِ راست مقابلہ کرنا ہوگا۔‘
یو ایس ایس ابراہم لنکن گذشتہ ماہ کے آخر میں مشرق وسطیٰ سے روانہ ہوا، جہاں یو ایس ایس جارج واشنگٹن نے اس کی جگہ لی۔ اس کے بعد یہ جہاز اپنے آبائی بندرگاہ سان ڈیاگو واپسی کے سفر کے دوران تھائی لینڈ اور گوام میں رکا ہے۔
<p class="rteright">امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری کی گئی امریکی بحریہ کی اس تصویر میں امریکی سیلرز 27 فروری 2026 کو بحیرۂ عرب میں نِمِٹز کلاس کے طیارہ بردار بحری جہاز ’یو ایس ایس ابراہم لنکن‘ (سی وی این 72) پر ایک طیارہ لفٹ پر اسلحہ منتقل کر رہے ہیں (اے ایف پی)</p>
.png)
2 hours ago
2




English (US) ·