مسجد ابراہیمی میں فلسطینیوں کے لیے پہنچنا کتنا مشکل؟ خصوصی رپورٹ

3 months ago 28

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

فلسطینی شہر الخلیل میں پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نام سے موسوم ابراہیمی مسجد (مسجد الابراہیمی) تک پہنچنا آج مقامی فلسطینی مسلمانوں کے لیے ناممکن نہیں تو انتہائی مشکل ضرور ہو چکا ہے۔

تحقیقات کار اور صحافی تزئین حسن نے گذشتہ دنوں اس مسجد کا انڈپینڈنٹ اردو کے لیے خصوصی طور پر دورہ کیا اور وہاں کے حالات جاننے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق اس مشکل کی بنیادی وجہ اسرائیلی چیک پوائنٹس، باڑیں اور رکاوٹیں ہیں، جنہوں نے مسجد کو چاروں طرف سے گھیرا ہوا ہے۔

اسرائیلی حکومت نے نہ صرف مسجد آنے والے نمازیوں بلکہ آس پاس رہنے والے عام فلسطینی شہریوں کی آمد و رفت پر بھی سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

masjidibrahimi_alkhalil.jpg

مسجد ابراہیمی سے الخلیل شہر کا ایک منظر(تزئین حسن/انڈپینڈنٹ اردو)

اسرائیلی حکام کے مطابق ان چیک پوائنٹس کا مقصد یہودی آباد کاروں کا تحفظ، اسلحے کی سمگلنگ کی روک تھام اور کشیدگی والے علاقے میں سکیورٹی قائم رکھنا ہے۔

لیکن فلسطینی شہری ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہیں۔

مسجد الابراہیمی، جسے حرم الخلیل بھی کہا جاتا ہے مسلمانوں، یہودیوں اور مسیحیوں تینوں کے لیے ایک نہایت اہم مقدس مقام ہے۔ اس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہاں حضرت ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کے مقبرے اور ان کی بیویوں کی قبریں واقع ہیں۔

Masjidibrahimi_indoor.jpg

مسجد ابراہیمی کے اندرونی ہال کا ایک منظر (تزئین حسن/انڈپینڈنٹ اردو)

فلسطینی شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ چیک پوائنٹس دراصل مذہبی آزادی کو محدود کرنے، شہر کو تقسیم کرنے اور فلسطینی آبادی پر دباؤ بڑھانے کا ذریعہ ہیں۔ ان کے مطابق یہ پابندیاں سکیورٹی نہیں بلکہ اجتماعی سزا کی صورت اختیار کر چکی ہیں، جس کا خمیازہ عام شہری بھگت رہے ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لوگ نماز کے لیے جاتے ہوئے گھنٹوں چیک پوائنٹس پر روکے جاتے ہیں، بزرگوں اور بچوں کو ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بعض اوقات انہیں بلا کسی واضح وجہ کے واپس بھیج دیا جاتا ہے۔

1967 میں مغربی کنارے پر کنٹرول حاصل کرنے کے فوراً بعد اسرائیلی حکومت نے الخلیل کے اطراف یہودی بستیاں قائم کرنا شروع کر دیں۔ فلسطینی شہریوں کے مطابق ان بستیوں کی موجودگی نے ان کی زندگی کو عدم تحفظ، خوف اور مسلسل دباؤ میں بدل دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ انہیں آباد کاروں کی پرتشدد کارروائیوں، گالم گلوچ اور بعض اوقات جسمانی حملوں کا سامنا رہتا ہے، مگر ان کے خلاف رپورٹیں شاذ و نادر ہی موثر ثابت ہوتی ہیں۔

سن 1994میں رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے دوران ایک یہودی آباد کار اور امریکی ڈاکٹر نے ابراہیمی مسجد میں داخل ہو کر نمازیوں پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں 29 فلسطینی مسلمان جان کھو بیٹھے جبکہ سو سے زائد شدید زخمی ہوئے۔ اس دلخراش واقعے کے بعد اسرائیلی حکومت نے مسجد کو چھ ماہ کے لیے بند کر دیا۔

masjidibrahim_bazar.jpg

مسجد ابراہیمی میں فلسطینیوں کے لیے پہنچنا اگر ناممکن نہیں تو انتہائی مشکل ضرور ہے۔ مسجد کے قریب بازار کا ایک منظر (تزئین حسن/انڈپینڈنٹ اردو)

اس عرصے کے بعد جب مسجد دوبارہ کھولی گئی تو اسے دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا: ایک حصہ مسلمانوں کے لیے اور دوسرا یہودی عبادت گزاروں کے لیے مختص کر دیا گیا۔

اس کے ساتھ ہی مسجد کے گرد سخت سکیورٹی زون قائم کیا گیا، پرانے شہر اور بازار میں چیک پوائنٹس، باڑیں اور رکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں۔

masjidibrahimi_view.jpg

مسجد ابراہیمی کا ایک منظر (تزئین حسن/انڈپینڈنٹ اردو)

فلسطینی شہریوں کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں نے شہر کو ایک زندہ قبرستان جیسی حالت میں بدل دیا ہے۔

فلسطینی شہریوں کا مؤقف ہے کہ ان پابندیوں کا اصل مقصد انہیں ان کے تاریخی، مذہبی اور سماجی مرکز سے کاٹنا ہے تاکہ آہستہ آہستہ شہر کی آبادی کا تناسب بدلا جا سکے۔ وہ سوال کرتے ہیں کہ اگر یہ اقدامات واقعی سکیورٹی کے لیے ہیں تو ان کا خمیازہ صرف فلسطینی ہی کیوں بھگتیں۔

Read Entire Article