ماس شوٹنگ: حملہ آور انتہائی دائیں بازو کا انتہا پسند تھا، پولش حکام

7 hours ago 3

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

حکام نے اتوار کو بتایا کہ پولینڈ کے شہر کراکوف کے تاریخی اور مصروف مرکزی علاقے میں چھ افراد کو قتل کرنے والا 24 سالہ سفید فام حملہ آور انتہائی دائیں بازو کے انتہا پسندی کے رجحانات رکھتا تھا۔

ہفتے کو پیش آنے والے اس غیر معمولی ماس شوٹنگ کے واقعے میں چھ افراد کی موت کے علاؤہ 15 دیگر افراد زخمی بھی ہوئے جس کے بعد ملک میں اتوار سے دو روزہ قومی سوگ منایا جا رہا ہے۔

واقعہ ہفتے کو پیش آیا جب حملہ آور نے شہر کے تاریخی علاقے اولڈ ٹاؤن کے مرکزی چوک میں گاڑی چڑھانے کے بعد فائرنگ شروع کر دی۔ پولیس نے جوابی کارروائی میں اسے گولی مار کر زخمی کر دیا۔

پولینڈ کے وزیر دفاع نے واقعے کو دہشت گردی کی کارروائی قرار دیا ہے، جبکہ وزیر داخلہ مارسن کیرونسکی نے بتایا کہ حملہ آور انتہائی دائیں بازو کے انتہا پسندانہ اور قوم پرستانہ نظریات رکھتا تھا۔

حکام کے مطابق حملہ آور کے خاندانی گھر سے اس کی بہن، والدہ اور والد کی لاشیں بھی ملی ہیں، جن کی موت ممکنہ طور پر گولیاں لگنے سے ہوئی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مرنے والوں میں چار خواتین اور دو مرد شامل ہیں۔ ان میں چار پولینڈ کے شہری، ایک برطانوی مرد اور ایک غیر ملکی خاتون شامل ہیں۔ زخمی ہونے والوں میں برطانیہ، پرتگال، روس، جرمنی اور آسٹریا کے شہری بھی شامل ہیں۔

حملہ آور کو روکنے والے دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے اور ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ ان میں سے ایک اب بھی کوما میں ہے جبکہ دوسرا ہوش میں آ چکا ہے۔ حملہ آور کی حالت بھی تشویش ناک ہے اور اس کے متعدد آپریشن کیے جا چکے ہیں۔

پولیس نے حملے کے بعد تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کے مطابق حملہ آور کے والد کے پاس قانونی طور پر 10 سے زیادہ ہتھیار تھے جبکہ حملہ آور کے پاس بھی اسلحہ موجود تھا۔ اس کے خاندانی گھر سے سات ہتھیار برآمد کیے گئے جبکہ چار دیگر اسلحہ حملہ آور کے پاس یا اس کی گاڑی سے ملا۔

واقعے کے بعد شہریوں نے مرکزی چوک میں متاثرین کی یاد میں شمعیں روشن کیں۔ چوک میں واقع سینٹ میری باسیلیکا کے مینار سے ہر گھنٹے بجائی جانے والی روایتی دھن بھی متاثرین کے احترام میں رات بھر روک دی گئی۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ یہ دھن نہیں بجائی گئی۔

پولینڈ میں بڑے پیمانے پر فائرنگ کے واقعات غیر معمولی ہیں۔ تاہم ہیگ میں قائم انٹرنیشنل سینٹر فار کاؤنٹر ٹیررازم کے محقق کاسپر ریکاواک کے مطابق حملہ آور کا حلیہ، فوجی سازوسامان اور اسلحہ یورپ میں انتہائی دائیں بازو کے نظریات رکھنے والے تنہا حملہ آوروں سے مشابہت رکھتے ہیں۔

ہفتے کو پیش آنے والے اس غیر معمولی ماس شوٹنگ کے واقعے میں چھ افراد کی موت کے علاؤہ 15 دیگر افراد زخمی بھی ہوئے جس کے بعد ملک میں اتوار سے دو روزہ قومی سوگ منایا جا رہا ہے۔
اتوار, نومبر 8, 2026 - 17:00
Main image: 

<p>پولیس اہلکار 7 نومبر 2026 کو پولینڈ کے شہر کراکوف کے تاریخی مرکز میں فائرنگ کے بعد ایک گلی کے داخلی راستے پر پہرہ دے رہے ہیں (اے ایف پی)</p>

type: 
SEO Title: 
ماس شوٹنگ: حملہ آور انتہائی دائیں بازو کا انتہا پسند تھا، پولش حکام
Read Entire Article
Chatroom