لاہور شالامار باغ میں قوالی نائٹ، متنازع گانا گانے پر قوال کے خلاف مقدمہ

5 months ago 31

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

لاہور شالامار باغ میں سرکاری سرپرستی میں منعقد ہونے والی ایک تقریب میں قوال فراز امجد خان کے خلاف متنازع گانا گانے پر مقدمہ درج کر لیا گیا۔

پروگرام کے دوران ’جیل اڈیالہ قیدی 804 ہووے‘ کے بول پر مشتمل گانا گانے کے بعد شالامار باغ کے انچارج ضمیر الحسن کی مدعیت میں تھانہ باغبانپورہ میں ایف آئی آر درج کی گئی، جس میں تعزیراتِ پاکستان کی مختلف دفعات شامل کی گئی ہیں۔

دوسری جانب قوال امجد خان کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ گانا ’دباؤ‘ میں گایا اور اس کے ویڈیو شواہد موجود ہیں جب کہ والڈ سٹی اتھارٹی کے مطابق بھی یہ گانا عوامی فرمائش پر گایا گیا۔

مذکورہ پروگرام والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی کے زیر اہتمام ’چاندنی راتیں‘ کے نام سے تین جنوری کو منعقد ہوا، جس میں قوال فراز امجد خان اور ان کے ہمنواؤں نے قوالی پیش کی تھی۔

ایف آئی آر میں کیا مؤقف اپنایا گیا؟

ایف آئی آر کے مطابق مذکورہ تقریب ایک ثقافتی نوعیت کا پروگرام تھا، جہاں کسی قسم کی سیاسی نعرے بازی یا اشتعال انگیز مواد کی اجازت نہیں تھی۔

درخواست میں کہا گیا کہ تین جنوری 2026 کو بغیر اجازت ایک سیاسی نوعیت کا نغمہ گایا گیا، جس سے عوامی مجمعے میں جوش اور اشتعال پیدا ہوا اور سرکاری ادارے کی غیرجانبداری اور وقار کو نقصان پہنچا۔

درخواست میں یہ بھی لکھا گیا کہ یہ عمل عوام کو اشتعال دلانے، نظم و ضبط میں خلل ڈالنے اور ریاستی ادارے کو متنازع بنانے کی کوشش کے مترادف ہے۔

قوال فراز امجد کا مؤقف، ’میں نے دباؤ میں گانا گایا‘

دوسری جانب معروف قوال فراز امجد قوال نے ایک ویڈیو پیغام میں الزامات کی تردید کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ محض ایک فنکار ہیں اور انہیں تقریب کے منتظمین کی جانب سے قوالیوں کی ایک فہرست فراہم کی گئی تھی، جس کے مطابق وہ پرفارم کر رہے تھے۔ فراز امجد کے مطابق دورانِ محفل ایک نامعلوم شخص سٹیج پر آیا اور انہیں بار بار دھمکیاں دیں کہ مخصوص گانا گایا جائے، ’ورنہ نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ ابتدا میں انہوں نے انکار کیا جس کے ویڈیو شواہد بھی موجود ہیں، تاہم مجمع، ماحول اور امن و امان کو مدنظر رکھتے ہوئے حالات بگڑنے سے بچانے کے لیے وہ گانا گانے پر مجبور ہوئے۔

’ملک کے خلاف جانے کا سوال ہی نہیں‘

فراز امجد قوال نے اس بات کی واضح تردید کی کہ انہوں نے کسی قسم کی بغاوت یا ریاست مخالف اقدام کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میرا وطن، میری پہچان اور میرا فخر ہے۔ ’میں ایک محب وطن فنکار ہوں اور کبھی اپنے ملک کے خلاف نہیں جا سکتا۔‘

انہوں نے پنجاب حکومت اور وزیراعلیٰ مریم نواز شریف سے اپیل کی کہ ان کا مؤقف اور ویڈیو شواہد دیکھے جائیں اور انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔

والڈ سٹی اتھارٹی کا ردعمل

والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر میڈیا اینڈ مارکیٹنگ اویس رضا نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ یہ گانا عوامی مجمعے کی فرمائش پر گایا گیا، جو ادارے کے ایس او پیز کے خلاف تھا۔ ان کے مطابق یہ ایک متنازع گانا تھا اور اس وقت اس واقعے پر ڈیپارٹمنٹ کے اندر انکوائری جاری ہے۔

انہوں نے تصدیق کی کہ اس معاملے پر محکمے کے تین افسران کو معطل بھی کر دیا گیا ہے۔

گانے کی متنازع تاریخ

’نک دا کوکا‘ کے نام سے معروف یہ گانا ابتدا میں پاکستانی گلوکار محمد اشرف المعروف ملکو نے گایا تھا، جسے یوٹیوب پر 12 کروڑ سے زائد ویوز ملے۔ بعدازاں ملکو کو جون 2024 میں لندن جانے والی پرواز سے آف لوڈ کر دیا گیا۔

’نک دا کوکا‘ گانے میں اڈیالہ جیل اور قیدی 804 کے الفاظ کو سابق وزیر اعظم پاکستان عمران خان سے منسوب کیا جاتا ہے جو گذشتہ دو سال سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔

اس تنازع پر قوال فراز امجد خان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تاہم اس اسٹوری کے فائل ہونے تک ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

Read Entire Article
Chatroom