وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ہفتے کو کہا کہ نئے انتظامی یونٹس کے قیام کا فیصلہ عوام کی رائے اور سیاسی اتفاق رائے سے ہونا چاہیے، اگر عوام نئے انتظامی یونٹس کے حق میں ہوں تو انہیں ہر صورت تشکیل دیا جانا چاہیے۔
جولائی میں محسن نقوی نے موجودہ نظام حکمرانی میں اصلاحات کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات کی تجویز دیتے ہوئے نئے صوبوں کے قیام کے ساتھ فوری انتظامی اصلاحات پر زور دیا تھا۔
ان بیانات کے بعد ملک میں نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں کے قیام کے معاملے پر سیاسی اور عوامی سطح پر بحث شروع ہوگئی۔
حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ نئے صوبے بنانے کی تجویز کی مخالفت نہیں کر رہی البتہ اس کی اتحادی جماعت اور سندھ کی حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کی تقسیم کی شدید مخالفت کر رہی ہے۔
جمعرات کو سندھ اسمبلی میں صوبے کی تقسیم کے خلاف قرارداد بھی منظور کی گئی۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
آج لاہور میں قومی پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ انتظامی نظام میں اصلاحات کا مقصد نظام کو توڑنا نہیں بلکہ اس میں موجود خامیوں کو دور کرنا ہے اور یہ عمل آئین اور جمہوری طریقہ کار کے مطابق ہونا چاہیے۔
انہوں نے واضح کیا کہ حالیہ دنوں میں نظام کو ’ری سیٹ‘ کرنے سے متعلق ان کے بیانات کسی مخصوص سیاسی جماعت یا سیاسی بندوبست کے خلاف نہیں تھے بلکہ ان کا تعلق ملک کے موجودہ انتظامی نظام سے ہے۔
محسن نقوی نے کہا پاکستان کو آزادی کے 79 سال بعد اپنے نظام پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔
ان کے بقول اگر کوئی نظام مطلوبہ نتائج نہیں دے رہا تو اسے بہتر بنانے کے لیے اصلاحات ضروری ہیں۔
’ری سیٹ کا مطلب نظام توڑنا نہیں‘
وزیر داخلہ نے کہا ’ری سیٹ‘ کا مطلب کسی بھی صورت نظام توڑنا نہیں بلکہ جو چیز درست نہیں اسے تبدیل کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انتظامی ڈھانچے میں بہتری کا کام آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے اور جمہوری ذرائع سے ہونا چاہیے۔
محسن نقوی نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ اس معاملے پر جذباتی بیانات کے بجائے سنجیدہ مشاورت کریں، کیونکہ انتظامی تبدیلیاں راتوں رات نہیں آتیں اور ان کے لیے وسیع سیاسی اتفاق رائے ضروری ہے۔
انہوں نے کہا یہ فیصلہ کسی ایک فرد، سیاسی جماعت یا حکومت کی خواہش پر نہیں ہونا چاہیے بلکہ عوام کی مرضی کو بنیادی اہمیت حاصل ہونی چاہیے۔
’اختیارات عوام کے قریب لانا ہوں گے‘
وزیر داخلہ نے کہا کہ انتظامی اصلاحات کا مقصد اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرکے عوام کو زیادہ بااختیار بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انتظامی یونٹس کے قیام سے کسی شہری کی شناخت تبدیل نہیں ہوگی۔’سندھی سندھی رہے گا اور پنجابی پنجابی رہے گا، کسی سے اس کی شناخت ترک کرنے کا نہیں کہا جائے گا۔ ‘
محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک بن چکا ہے، اس لیے موجودہ انتظامی ڈھانچے کو نئے حالات کے مطابق بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے کہا کہ اگر عوام نئے انتظامی یونٹس نہیں چاہتے تو انہیں نہیں بنایا جائے گا، لیکن اگر عوام ان کے حق میں ہوں تو ان کی رائے کا احترام کیا جانا چاہیے۔
اسلام آباد کو صوبے کا درجہ دینے کی حمایت
وفاقی وزیر داخلہ نے خود کو ’اسلام آباد صوبے‘ کا سب سے بڑا حامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی دارالحکومت کو قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں حصہ ملنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد واحد شہر ہے جسے پاکستان کے بجٹ سے براہِ راست حصہ نہیں ملتا، جبکہ اسے صوبے کا درجہ ملنے سے وفاقی دارالحکومت کے شہریوں کو ان کے حقوق مل سکیں گے۔
محسن نقوی نے کہا کہ وہ انتظامی اصلاحات کے اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور اس معاملے پر سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھ کر غور کرنا چاہیے۔
<p class="rteright">وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی 30 جولائی، 2026 کو اسلام آباد میں پاکستان کے پہلے اکنامک سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے (سکرین گریب/پی ٹی وی)</p>
.png)
1 hour ago
1




English (US) ·