علمدار روڈ سے گولڈ میڈل تک: ام البنین ناصری کی کہانی

5 months ago 42

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

بلوچستان کے قبائلی معاشرے میں جہاں لڑکیوں کے خواب عموماً چار دیواری تک محدود کر دیے جاتے ہیں، وہیں کوئٹہ کے علاقے علمدار روڈ سے تعلق رکھنے والی ام البنین ناصری نے فنسنگ جیسے مشکل اور مہنگے کھیل کو اپنا مقدر بنا کر نہ صرف سماجی روایتوں کو چیلنج کیا بلکہ قومی سطح پر بلوچستان کا نام بھی روشن کیا۔

ام البنین ناصری نے محض 17 سال کی عمر میں فنسنگ کھیلنے کا عزم کیا۔

شروعاتی دن ان کے لیے آسان نہیں تھے۔ معاشی مشکلات ایک طرف اور معاشرتی دباؤ دوسری جانب، مگر انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔

کراچی میں منعقد ہونے والے 35ویں آل پاکستان نیشنل گیمز میں ام البنین ناصری نے فنسنگ کے مقابلوں میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چار میڈل اپنے نام کیے، جن میں ایک گولڈ، ایک سلور اور دو برانز میڈل شامل ہیں۔

ام البنین ناصری روزانہ کی بنیاد پر کوئٹہ کے وسط میں قائم ایوب سٹیڈیم میں موجود فنسنگ اکیڈیمی میں تین گھنٹے پریکٹس کرتی ہیں۔ ان کے ساتھ ان کی چھوٹی بہن ماہین زہرہ بھی فنسنگ سیکھنے کے لیے اکیڈیمی آتی ہیں، جو اس بات کی علامت ہے کہ یہ سفر اب ایک فرد تک محدود نہیں رہا بلکہ ایک مثال بنتا جا رہا ہے۔

UMMUL BANIN OF QUETTA.jpg

ام البنین ناصری نے بتایا کہ طالب علمی کے دور میں انہیں شدید مشکلات کا سامنا رہا کیونکہ فنسنگ ایک مہنگا کھیل ہے اور ان کے والد ان کے تمام اخراجات پورے کرنے سے قاصر تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں قبائلی معاشرہ ہونے کی وجہ سے عموماً لڑکیوں کو چولہے، چکی اور گھر کے کاموں تک محدود رکھا جاتا ہے، مگر ان کے گھر والوں نے ان پر اعتماد کیا اور ہر قدم پر سپورٹ کیا تاکہ وہ اپنے خواب کو حقیقت میں بدل سکیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا کہ فنسنگ سے ان کا شوق کالج کے زمانے میں شروع ہوا، جب کالجز میں لگنے والے کیمپس کے دوران انہوں نے پہلی بار اس کھیل کو آزمایا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ احساس بالکل مختلف ہے۔ ’اس میں ایک الگ خوشی اور اندرونی تسکین ملتی ہے جو فٹبال، کراٹے یا دیگر کھیلوں میں محسوس نہیں ہوتی۔ تمام کھیل اچھے ہوتے ہیں، مگر فنسنگ مجھے بہت یونیک لگی۔ اس سے یہ احساس ہوتا ہے کہ پاکستان میں بھی ایسے سپورٹس اور ایسے پلیئرز موجود ہیں جو فنسنگ کھیل رہے ہیں۔‘

نیشنل گیمز میں بلوچستان سے 500 سے زائد کھلاڑیوں نے شرکت کی، تاہم میڈلز اور تمغے جیتنے میں سب سے نمایاں نام ام البنین ناصری کا رہا، جنہوں نے ثابت کیا کہ اگر حوصلہ، گھر والوں کا اعتماد اور مسلسل محنت ساتھ ہو تو بلوچستان کی بیٹیاں بھی قومی سطح پر کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ سکتی ہیں۔

Read Entire Article
Chatroom