’صرف بہاری ہی بہاری کباب کو کچوری کے ساتھ کھلاتا ہے‘

1 hour ago 1

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

پاکستان میں عیدالاضحیٰ پر گھروں میں جہاں روایتی پکوانوں کا زور رہتا ہے وہیں باربی کیو کی خوشبو ہر گلی، ہر محفل کا حصہ بن جاتی ہے۔

تکے، سیخ کباب اور چانپوں کے بیچ ایک ایسا ذائقہ بھی ہے جو اپنی منفرد خوشبو، نرم ساخت اور مصالحوں کی خاص آمیزش کی وجہ سے خاص پہچان رکھتا ہے— بہاری کباب۔

بظاہر یہ ایک عام باربی کیو ڈش نظر آتی ہے مگر حقیقت میں بہاری کباب اپنے ساتھ سفر، روایت اور نسلوں سے منتقل ہونے والے ذائقوں کی پوری کہانی لیے ہوئے ہے۔

اسی روایت کی تلاش ہمیں کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن میں قائم مختاریہ ریستوران تک لے گئی، جہاں ایک خاندان کئی دہائیوں سے بہاری کباب کے اصل ذائقے کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔

یہ خاندان ان بہاری مسلمانوں کی نسل سے ہے جن کے آباؤ اجداد انڈین ریاست بہار سے ہجرت کر کے پاکستان آئے تھے۔

ان کے بزرگ 1984 سے اس فن میں مہارت رکھتے ہیں اور وقت کے ساتھ یہی ہنر ان کی پہچان بن گیا۔

یہ ریستوران آج صرف کھانے کی جگہ نہیں بلکہ ایک چلتی پھرتی روایت ہے، جہاں ذائقے کے ساتھ ایک ثقافتی ورثہ بھی پیش کیا جاتا ہے۔

ریستوران کے مالک محمد فیروز انصاری بتاتے ہیں ’بہاری کباب کی اصل جان اس کے مصالحے اور گوشت کی تیاری کے انداز میں ہے۔

’یہ سلسلہ ہمارے گھرانے میں 1984 سے چلا آرہا ہے۔ مشکلات تو زندگی کا حصہ ہیں، مگر اصل سرمایہ وہ ہنر اور روایت ہے جو ہمیں بڑوں سے ملی۔ ہمارے لیے بہاری کباب صرف کاروبار نہیں، ہماری پہچان ہے۔‘

انہوں نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا ’ہمارے بزرگ انڈیا کی ریاست بہار سے ہجرت کر کے یہاں آئے تھے۔ حالات مشکل تھے مگر انہوں نے بہاری کھانوں کی روایت نہیں چھوڑی۔‘

اصل بہاری کباب کا ذائقہ کہاں سے آتا ہے؟ اس سوال کے جواب میں فیروز نے بتایا کہ بہاری کباب کی اصل پہچان گوشت کی خصوصی کٹنگ میں ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا کہنا تھا اس کے لیے گائے کے ران کا گوشت استعمال ہوتا ہے کیونکہ یہ زیادہ رسیلا اور نرم ہوتا ہے۔

’گوشت کی انتہائی باریک تہیں کاٹی جاتی ہیں تاکہ پکنے کے بعد کباب نرم اور رسیلا رہے۔

’سرسوں کا تیل اس ڈش کی روح ہے، جو اسے منفرد خوشبو اور ذائقہ دیتا ہے۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ گوشت کو چھ سے 10 گھنٹے تک خصوصی مصالحوں میں میرینیٹ کیا جاتا ہے تاکہ ہر ریشہ بھرپور مزے سے بھر جائے۔

’جب میرینیٹ کیا ہوا گوشت کوئلے پر پکتا ہے تو اس میں سے ہلکا ہلکا تیل نکلتا ہے— یہی بہاری کباب کی اصل پہچان ہے اور جب آپ ایک لقمہ لیتے ہیں تو گوشت منہ میں رکھتے ہی گھل جاتا ہے۔‘

پیش کرنے کا اصل بہاری انداز؟ اس سوال پر وہ مسکرائے اور بتایا ’صرف بہاری ہی بہاری کباب کو روایتی انداز میں دال والی کچوری کے ساتھ کھلاتا ہے۔

’لوگ اسے پراٹھے یا روٹی کے ساتھ کھاتے ہیں لیکن اصل بہاری طریقہ کچوری کے ساتھ ہے۔‘

ان کے مطابق بہاری کباب محض ایک کھانا نہیں بلکہ بہار کی ثقافت کا حصہ ہے، جو وہاں عید اور خوشیوں کے موقعے پر خاص طور پر بنائے جاتے تھے۔

Read Entire Article