سپریم کورٹ: اعتراف جرم پر عمر قید پانے والا 9 سال بعد بری

4 months ago 42

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp
سپریم کورٹ نے اس بات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے کہ عام طور پر سیاست دان اور خاص طور پر ارکانِ پارلیمنٹ اس قدر غیر محفوظ ہیں کہ کوئی بھی سرکاری ملازم، بدنیتی کی بنیاد پر، بغیر کسی ٹھوس جواز کے ان پر موت کی سزا والے سنگین الزامات بھی لگا سکتا ہے۔ ارکانِ پارلیمنٹ اپنے اپنے حلقوں کے عوام کے نمائندے ہوتے ہیں، اس لیے مجسٹریٹ سے یہ توقع کی جاتی تھی کہ وہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 364 کے دائرہ کار کے اندر رہتا، لیکن اس نے معاملے کے اس اہم پہلو کو نظر انداز کر دیا اور بیان میں ان کے نام شامل کرتا چلا گیا۔ جسٹس جمال خان مندوخیل کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے 8 صفحات پر مبنی فیصلے میں قتل کے ایک کیس میں نو سال بعد ایک شخص کو بری کردیا۔ سپریم کورٹ نے احمد سعید عرف بھرم عرف نگوری کی اپیل منظور کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ اور انسداد دہشت گردی عدالت کراچی کے فیصلے کالعدم قرار دے دیئے اور ملزم کو بری کرنے کا حکم دے دیا۔ احمد سعید کا تعلق ایم کیو ایم سے تھا، اسے 2016 میں قتل کیس میں سزا سنائی گئی تھی جو 2009ء میں درج ہوا تھا۔ اسے اعترافی بیان کی بنیاد پر عمر قید کی سزا دی گئی تھی۔ سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا چھ برس تک کوئی ثبوت یا ملزم سامنے نہیں آیا۔ بعد ازاں اس کا دفعہ 164 ضابطہ فوجداری کے تحت اعترافی بیان ریکارڈ کیا گیا تاہم بیان ریکارڈ کرنے کے طریقہ کار میں سنگین قانونی خامیاں پائی گئیں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ یہ انتہائی ضروری ہے کہ اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ آیا ایسا اعترافِ جرم قانون کی طے شدہ شرائط پر پورا اترتا ہے۔ یعنی کیا یہ رضاکارانہ، سچا اور اعتماد پیدا کرنے والا تھا، خاص طور پر جب ملزم بعد میں اس سے مکر گیا ہو۔
Read Entire Article
Chatroom