پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی بدھ کو بھی جاری ہے، جہاں حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز نے آپریشن غضب للحق کے تحت چمن سیکٹر میں افغان طالبان کی چوکیوں اور گاڑیوں کو نشانہ بنایا۔
ریڈیو پاکستان نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ’پاکستان افغان سرحد پر افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کی جانب سے بلااشتعال جارحیت کے جواب میں پاکستان آرمی نے آپریشن غضب للحق کے تحت مؤثر کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔‘
مزید کہا گیا: ’چمن سیکٹر میں کارروائی کے دوران افغان طالبان کی متعدد چوکیاں اور گاڑیاں درست نشانہ لگا کر تباہ کی گئیں، جبکہ مؤثر جوابی کارروائی کے باعث افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کو پسپائی اختیار کرنا پڑی۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سکیورٹی ذرائع نے مزید کہا کہ ’ملکی دفاع اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے سکیورٹی فورسز کا عزم غیر متزلزل ہے اور یہ کارروائیاں مقررہ اہداف کے حصول تک جاری رہیں گی۔‘
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے، جب گذشتہ روز افغان وزارت خارجہ نے کابل میں پاکستانی سفارت خانے کے ناظم الامور کو طلب کر کے ایک احتجاجی مراسلہ حوالے کیا جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی فورسز کی جانب سے ڈیورنڈ لائن کے قریب صوبہ کنڑ میں شہری اہداف اور عوامی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
دوسری جانب باختر نیوز ایجنسی کے مطابق افغان وزیراعظم آفس کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ملا عبدالواسع نے آج برطانیہ کے خصوصی نمائندے برائے افغانستان رچرڈ لیندزی سے ملاقات میں کہا ہے کہ افغانستان ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کشیدگی کے خاتمے اور دوستانہ تعلقات کے استحکام کی خواہاں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’افغانستان کسی پر حملہ نہیں کر رہا اور نہ ہی تشدد کا حامی ہے، تاہم ملک کی خودمختاری اور شہریوں کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔‘
.png)
1 month ago
16

English (US) ·