Want Your Business Featured Here?
Get instant exposure to our readers
Chat on WhatsApp
پمز اسپتال میں آتشزدگی کے دالخراش واقعے کے بعد کراچی کے سب سے بڑے جناح اسپتال میں آتشزدگی کے کسی بھی ممکنہ واقعہ پر قابو پانے کے لیے تمام انتظامات مکمل اور عملے کو الرٹ کردیا گیا ہے۔
ایکسپریس نیوز نے نے پمز اسپتال اسلام آباد میں آتشزدگی کے واقعہ میں 14 بچوں کے جاں بحق ہونے کے واقعہ کے بعد کراچی کے سرکاری اسپتالوں میں آگ کو بجھانے کی سہولیات کے حوالے جناح اسپتال کراچی کے سینئر ایمرجنسی ڈاکٹرز اور انتظامی عملہ سے گفتگو کی۔
جناح اسپتال کی ایمرجنسی کے سربراہ اور جوائنٹ ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد سیلمان، ۔شعبہ ایمرجنسی کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر صنوبر ۔شعبہ ایمرجنسی کے ڈاکٹر میر اور ترجمان ڈاکٹر وقاص خان نے بتایا کہ اسلام آباد پمز اسپتال میں یہ حادثاتی واقعہ میں افسوس ناک یے، خدا ان کے والدین کو صبر دے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کی آبادی اندازاً 3 کروڑ سے زائد یے، یہاں کے تین بڑے جنرل سرکاری اسپتالوں میں جناح، سول اور عباسی شہید اسپتال آتے ہیں جبکہسب سے بڑا جناح اسپتال ہے جہاں 2200 مریضوں کو داخل کرنے کی گنجائش ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال کی ایمرجنسی میں روانہ 2 ہزار سے مریض آتے ہیں۔ جو ٹریفک حادثات، فائرنگ سمیت دیگر واقعات ۔مختلف امراض میں کی شکایات کے ساتھ آتے ہیں، جن کو علاج معالجہ کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جناح اسپتال میں روزانہ او پی ڈی میں 10 ہزار سے زائد مریض آتے ہیں۔ جن کو طبی امداد فراہم کی جاتی ہے۔
حکام نے کہا کہ کراچی کے سرکاری اسپتالوں میں فائر فائٹنگ کا باقاعدہ شعبہ تو نہیں یے تاہم آگ بجھانے کے آلات موجود اور تربیت یافتہ عملہ ہے جبکہ انہوں نے دیگر سرکاری اسپتالوں میں فائر فائٹنگ کی سہولیات کو مزید بہتر بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔
انہوں نے بتایا کہ جناح اسپتال کے تمام وارڈزمیں آگ بجھانے کے آلات نصب ہیں اور کئی ڈاکٹرز عملہ کو فائر فائٹنگ کی تربیت دی گئی ہے، جناح اسپتال میں بچوں کے شعبہ اور نرسری میں بھی آگ بجھانے کی سہولیات موجود ہیں جبکہ شعبہ ایمرجنسی سمیت تمام وارڈز و شعبوں میں ہنگامی اخراج کے راستے موجود ہیں۔
حکام نے بتایا کہ چھوٹے پیمانے پر لگنے والی آگ کو تو عملہ بجھا دیتا یے تاہم اگر آتشزدگی کا بڑا واقعہ ہو تو اس کو بجھانے کے لیے کے ایم سی محکمہ فائر بریگیڈ اور ریسیکو 1122 کی مدد لی جاتی ہے۔
انہوں نے رائے دی کہ بڑے سرکاری اسپتالوں میں فائر ٹینڈر اور شعبہ فائر کنٹرول ہونا چاہیے۔
انہوں نے رائے دی کہ شہر میں آگ سے متاثرہ افراد کے علاج معالجے کے لیے مذید سرکاری برنس اسپتالوں کے قیام کی ضرورت ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جناح اسپتال میں گزشتہ دو ماہ قبل آگ و ایمرجنسی سے نمٹنے کے لیے ایک بڑی مشق کی گئی ، اب حالیہ واقعے کے بعد مزید مشق کی جائے گی جبکہ جناح اسپتال میں ریسیکو ٹیم بھی قائم کی جارہی یے۔
ڈاکٹر سیلمان اور ڈاکٹر صنوبر نے بتایا کہ پمز اسپتال کے واقعہ کے بعد جناح اسپتال سمیت دیگر سرکاری اسپتالوں میں آگ بجھانے کی سہولیات میں اضافہ کے لیے محکمہ صحت سندھ مذید اقدامات کررہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ عوامی سطح پر ایمرجنسی و ریسیکو کی مشق کرنے کی ضرورت یے۔ اس موقع پر جناح اسپتال کے انتظامی عملہ نے افسر یوسف بھٹی کی نگرانی میں آگ بجھانے کی عملی مشق کی۔