زندگی کے آخری دو کشوں کی بے نیازی؟

2 hours ago 2

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

گولی دی اگ اوہدے اندر سی، پر فیر وی ذرا نہ ڈریا
مرن توں پہلاں سگریٹ پیتا، فیر ارام نال مریا

کیسا ماسٹر پیس ہے، جیسے کسی پینٹنگ کو دیکھتے ہوئے آپ ایک ہزار امپریشنز دماغ میں بنا سکتے ہیں اسی طرح یہ دو لائنیں ایسی مکمل ہیں کہ دماغ میں پوری تصویر بنتی ہے۔

غالباً رات کا منظر ہے، کوئی فوجی ہے، یا دشمن دار آدمی ہے، جو بھی ہے بندہ ایسا ہے کہ جس نے لڑائی میں اترنے سے پہلے آر یا پار طے کیا تھا، اب اسے گولی لگ چکی ہے لیکن دماغ یا دل کا نشانہ مس ہو چکا ہے، خون زیادہ بہہ گیا ہے، اسے علم ہے اس نے مر جانا ہے، وہ سوچتا ہے کہ آخری کام، اپنی پسند کا، وہ کیا کر سکتا ہے ۔۔۔ سگریٹ کا پیکٹ اس کی جیب میں ہے، نکالتا ہے، پھر ڈھونڈ ڈھانڈ کے ماچس جلاتا ہے، کانپتے ہاتھوں سے سگریٹ سلگا کر پہلا کش لیتا ہے، دماغ سکون میں آتا ہے، آنکھیں بند ہونے لگتی ہیں، شاید وہ سب چیزیں سوچی ہوں گی جو زندگی میں کرنے کی خواہش تھی، نہیں کر سکا، اپنے پیاروں کو یاد کیا ہو گا ۔۔۔ سارے چہرے، ساری حسرتیں، سوچتے سوچتے سگریٹ کی راکھ جھڑ جانے سے پہلے شاید وہ مر چکا ہو گا۔

لیکن اس میں ڈر کا ایلیمنٹ کیا تھا؟ خوف کسی انہونی کے ہو جانے سے پہلے تک کا ہوتا ہے، ایک بار وہ سب ہو چکے جس کے خدشے میں انسان مرتا رہتا ہے تو ڈر ختم ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد تکلیف باقی رہتی ہے یا ایک احساس، کہ چلو، یہ بھی ہو گیا، ایک زنجیر اور کٹی۔ تو پہلی لائن تھی کہ گولی کی آگ اس کے جسم میں تھی لیکن وہ بالکل بھی نہیں ڈرا۔

یہ جو آبزرویشن ہے، یہ سامنے والے انسان کی ہے، یا کیمرے کی ہے، یا راوی کی ہے جو اسے دیکھ رہا ہے کہ ’ایک آدمی کو گولی لگ گئی، خون بہہ رہا ہے لیکن کمال کا بندہ ہے کہ ایسے عالم میں بھی سگریٹ لگاتا ہے اور مر جاتا ہے۔‘

گولی جسے لگی ہے اصل میں وہی جانتا ہے کہ اس کے ساتھ کیا چل رہا ہے۔ وہ یہ سوچ کر آیا تھا کہ جیتنا ہے یا مر جانا ہے۔ اسے تسلی ہے کہ اپنے حصے کا مشن وہ پورا کر چکا، اسے یہ بھی معلوم ہے کہ اس کی حالت کریٹیکل ہے، اگر زخم ایسا ہوتا کہ اس کی جان بچ سکتی، یا آس پاس ہسپتال جانے کا آپشن ہوتا تو یہ سگریٹ کبھی نہ سلگایا جاتا، وہ جان بچانے کی کوشش کرتا، یہ عین انسانی فطرت ہے ۔۔۔ لیکن ایک فطرت اور بھی ہے، جو اُس نے اب کیا ۔۔۔ یعنی وہ والا اطمینان محسوس کیا جو شاید اس نے کبھی نہیں کیا ہو گا، کہ اب کوئی کام نہیں، اب کچھ نہیں ہو سکتا ۔۔۔ ہاں، آخری سگریٹ ممکن ہے، تو بس وہ ہو گئی۔

بہت ڈھونڈا شاعر کا نام، نہیں ملا، کئی جگہ منیر نیازی کا نام بطور شاعر لکھا ہے لیکن جو دیوان ملے ان میں کہیں یہ شامل نہیں تھی۔

بہادری، بے نیازی اور مایوسی میں بڑا باریک فرق ہوتا ہے۔ یہاں جو انسان مرا وہ گولی کے بعد سمجھ لیجے بے نیاز تھا۔ بہادر وہ تب ہوتا جب چلتی گولیوں میں بھی سگریٹ سائیڈ پہ رکھ کے نشانہ باندھ رہا ہوتا اور مایوسی کا سین یہ ہو سکتا ہے کہ گولیوں کی بوچھاڑ میں وہ جان بوجھ کے سگریٹ دبائے پستول تھامے باہر نکلتا اور دشمن پر ٹوٹ پڑنے کی خواہش میں سامنے سے آتی گولیاں کھا کے اپنے ہی مورچے کے سامنے ڈھیر ہو جاتا۔

بے نیازی انسانی صفت نہیں ہے۔ آدمی ہر وقت ٹائم فریم میں قید ہے۔ یہ ممکن تبھی ہو سکتی ہے جب آپ کے سامنے کوئی کام باقی نہ ہو کرنے والا، یا پھر آپ اُس طرح اکیلے ہوں جس طرح وہ گولی کھانے والا تھا۔    

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بے نیازی اگر ہو تو اس کا کم از کم انسانی پیمانہ یہ ہے کہ آپ کسی کو جوابدہ ہونے کے بارے میں نہ سوچیں، کسی کا دل دکھ جانے کی پرواہ آپ کو نہ ہو اور لوگ آپ کے بارے میں کیا پسند کرتے ہیں کیا نہیں کرتے، وہ سب آپ کی بلا جانتی ہو۔

تب، عین اس عالم میں، وہ چیز بنتی ہے جسے آپ آرٹ کہتے ہیں۔ وہ کوئی لازوال پینٹنگ ہو سکتی ہے جو بکنے کے لیے نہ بنی ہو، جس کے مصور نے دیوانگی میں اپنا کان کاٹ ڈالا ہو، وہ کوئی غزل ہو سکتی ہے جس کا مشاعروں میں کامیاب ہونا ضروری نہ ہو، جو شاعر نے تب کہی ہو جب چاندنی رات میں وہ پاگل ہو رہا ہو، وہ کوئی فلم ہو سکتی ہے جسے بنانے والے کو یہ پرواہ نہ ہو کہ اس نے ہٹ ہونا ہے ۔۔۔ Hit ۔۔۔ اصل لفظ یہ تھا جس کی تلاش مجھے یہاں تک لے آئی۔

ہٹ ہونے کی خواہش نہ ہونا بے نیازی ہے، بے نیازی انسان سے وہ سب کام کرواتی ہے جو لافانی کیٹیگری تک بھی آ جاتے ہیں، جو نتیجے کی پرواہ سے بے غم ہو کر کیے جاتے ہیں، جو صرف اپنے لیے کیے جاتے ہیں اور پھر آرام سے مر جایا جاتا ہے۔۔۔ بعد میں کوئی دیکھنے والا کبھی ہوتا ہے تو وہ آپ کو، ہمیں بتا دیتا ہے کہ گولی دی اگ اوہدے اندر سے فیر وی سگرٹ پی کے مریا ۔۔۔ کوئی نہیں موجود ہوتا دیکھنے والا تو کتنے ہی سگریٹ جل جائیں، کتنے ہی جنگجو گولیاں کھا لیں، کتنے ہی لوگ کب کہاں مر جائیں کون جانتا ہے؟

لیکن ہٹ کون نہیں ہونا چاہتا؟ اور وہ مرنے والا انسان بھی شاید آخری سگریٹ ہی کی حد تک بے نیاز ہوا ہو گا!

بے نیازی اگر ہو تو اس کا کم از کم انسانی پیمانہ یہ ہے کہ آپ کسی کو جوابدہ ہونے کے بارے میں نہ سوچیں، کسی کا دل دکھ جانے کی پرواہ آپ کو نہ ہو اور لوگ آپ کے بارے میں کیا پسند کرتے ہیں کیا نہیں کرتے، وہ سب آپ کی بلا جانتی ہو۔
سوموار, اکتوبر 26, 2026 - 08:00
Main image: 

<p>امریکی فوجی چھ جون 1944 &nbsp;کو فرانس کے ساحلِ نارمنڈی پر ابتدائی حملے کے دوران (رابرٹ کیپا، انٹرنیشنل سینٹر آف فوٹوگرافی، میگنم فوٹوز)</p>

type: 
SEO Title: 
زندگی کے آخری دو کشوں کی بے نیازی؟
Read Entire Article
Chatroom