روسی سفارت خانے، دی فرنٹیئر پوسٹ کے درمیان بیانات کی جنگ

7 months ago 36

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

پاکستان کے صوبہ خیبرپختونوا کے صدر مقام پشاور سے شائع ہونے والے انگریزی زبان کے اخبار دی فرنٹیئر پوسٹ اور روس کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر چھایا ہوا ہے۔

اسلام آباد میں روسی سفارت خانے کے ایک طویل بیان میں اخبار پر روس مخالف مضامین تسلسل کے ساتھ شائع کرنے پر اسے ’روسوفوبک‘ اور ’امریکینازڈ‘ قرار دیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ’حالیہ دنوں میں اخبار کے بین الاقوامی حصے میں کوئی ایک بھی مضمون ایسا شائع نہیں ہوا جو روس یا اس کی قیادت کو مثبت یا حتیٰ کہ غیرجانبدار انداز میں پیش کرے۔‘

یہ غالبا پاکستان میں پہلی بار ہوا ہے کہ کسی غیرملکی سفارت خانے کے کسی میڈیا پر تنقید اور الزامات عوامی سطح پر لگائے ہیں۔ عموما سفارت کار نجی رابطوں سے ذریعے ایسے مسائل کا حل مشاورت سے نکالتے ہیں۔

یوکرین میں جنگ کے آغاز کے بعد سے ناصرف روسی بلکہ کئی یورپی ممالک بھی فیک نیوز کے تدارک کے لیے سرگرم ہیں۔ بعض مبصرین کے خیال میں یوکرین کی جنگ سوشل میڈیا پر پاکستان میں بھی کسی حد تک لڑی جا رہی ہے۔

دوسری جانب فرنٹیئر پوسٹ نے ایک اداریے میں اس پر روسی فیڈریشن کی جانب سے عائد کیے جانے والے الزامات کو حیران کن اور ’انکشاف‘ پر مبنی قرار دیا۔ اخبار کا لکھنا ہے کہ ’یہ نہ صرف جدید دنیا میں صحافت کے کام کرنے کے بارے میں فرسودہ تفہیم کی بلکہ آزادانہ رپورٹنگ کے بارے میں عدم رواداری کی بھی عکاسی کرتا ہے جو طاقتور حکومتوں کے مفادات کی خدمت نہیں کرتا ہے - چاہے وہ ماسکو ، واشنگٹن یا کہیں اور ہو۔‘

ہم نے انگریزی زبان کے پاکستانی اخبار فرنٹیئر پوسٹ میں شائع ہونے والے روس مخالف مضامین کے سلسلے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کا نوٹس لیا گیا ہے۔ سب سے پہلے ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اس اشاعت کو بمشکل ہی "پاکستانی" کہا جا سکتا ہے، کیونکہ اس کی بین الاقوامی خبروں کی سروس… pic.twitter.com/6vaePgTtqF

— Embassy of Russia in Pakistan (@RusEmbPakistan) November 6, 2025

روسی فیڈریشن نے ایکس پر بیان میں مزید کہا کہ ’ہم نے انگریزی زبان کے پاکستانی اخبار فرنٹیئر پوسٹ میں شائع ہونے والے روس مخالف مضامین کے سلسلے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کا نوٹس لیا گیا ہے۔ سب سے پہلے ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اس اشاعت کو بمشکل ہی ’پاکستانی‘ کہا جا سکتا ہے، کیونکہ اس کی بین الاقوامی خبروں کی سروس کا مرکز واشنگٹن میں قائم ہے۔ یہی امریکی رنگ میں رنگی ہوئی ٹیم عالمی خبروں کے انتخاب کی ذمہ دار ہے اور ہمیشہ ان مصنفین کو ترجیح دیتی ہے جو روس مخالف نظریات رکھتے ہیں اور روسی خارجہ پالیسی اور صدر ولادی میر پوتن کے ناقد ہیں۔‘

بیان میں یہ وضاحت تو نہیں کی گئی کہ واشنگٹن میں ان کی کس اخبار کے صحافی کی جانب اشارہ ہے لیکن وہاں فرنٹئیر پوسٹ کے مینجنگ ایڈیٹر جلیل آفریدی وہاں موجود ہیں اور وقتا فوقتا وہاں وائٹ ہاؤس کی بریفنگ میں حصہ لیتے رہتے ہیں۔ گذشتہ دنوں ایک تنازع کی وجہ سے ان کا بیج امریکی حکام نے واپس لے لیا تھا۔

روسی سفارت خانے کا اصرار ہے کہ وہ اظہارِ رائے کی آزادی اور اداریہ کے اس حق کا احترام کرتے ہیں کہ وہ مختلف آراء رکھنے والے مصنفین کے مضامین شائع کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔تاہم، مغربی پروپیگنڈے سے لبریز اور متبادل مؤقف سے محروم یہ مسلسل روس مخالف مہم اس خیال کو جنم دیتی ہے کہ شاید اداریہ کی پالیسی آزادیِ اظہار پر نہیں بلکہ روس مخالف قوتوں کے سیاسی ایجنڈے پر مبنی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ بات بھی باعثِ حیرت ہے کہ وہی اخبار، جس نے افغانستان سے متعلق خبروں کے لیے ایک مکمل حصہ مختص کر رکھا ہے، 7 اکتوبر 2025 کو منعقدہ افغانستان کے بارے میں ماسکو فارمیٹ مشاورت جیسے اہم اجلاس کو مکمل طور پر نظرانداز کر گیا، حالانکہ اسے پاکستانی ذرائع ابلاغ میں بھرپور کوریج ملی۔ یہ طرزِ عمل اخبار کے مغرب زدہ ادارتی عملے کے روس مخالف رجحان کو مزید نمایاں کرتا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا یہ اعتراض بھی ہے کہ اخبار ’مغربی پروپیگنڈے کے گھسے پٹے بیانیے جیسے کمزور معیشت، پابندیوں کے سامنے کمزوری اور مغربی ممالک کی فوجی برتری کو دہرا رہا ہے۔ واشنگٹن میں بیٹھے فرنٹیئر پوسٹ کے صحافی حقائق کو مسخ کر کے روس کو ایک ایسے ملک کے طور پر پیش کر رہے ہیں جو گویا معاشی تباہی کے دہانے پر ہے، اور یوں وہ نئی مغربی پابندیوں کے لیے جواز فراہم کر رہے ہیں، جو بالآخر انہی ممالک کی معیشتوں کو نقصان پہنچا رہی ہیں جو یہ پابندیاں عائد کر رہے ہیں۔‘

سفارت خانے نے روسی معیشت سے متعلق اعدادوشمار بھی جاری کیے جن کا مقصد معاشی طور پر جان کے ملک کی معیشت مضبوط کھڑی ہے۔ ’ یہ زوال کے دہانے پر کھڑی معیشت کے اعداد و شمار نہیں ہیں۔ روس نے حال ہی میں لامحدود فاصلے تک مار کرنے والے جدید کروز میزائل ’بریویستنک‘ اور بغیر عملے کی کثیرالمقاصد آبدوز ’پوزیڈن‘ کے کامیاب تجربات مکمل کیے ہیں، جو اس حقیقت کا واضح ثبوت ہیں کہ فوجی میدان میں مغربی برتری کے دعوے بے بنیاد ہیں۔‘

روسی سفارت خانے نے پاکستانی عوام سے اپیل کی کہ وہ معلومات مختلف اور معتبر ذرائع سے حاصل کریں، اور ان اشاعتی اداروں پر انحصار نہ کریں جو بقول ان کے غیر ملکی سرپرستوں کے مشکوک عزائم کی تکمیل میں مصروف ہیں۔

ایکس پر ایک صارف عبداللہ خان نے اس بیانات کی جنگ سے اخبار کو فائدہ دینے کی بات کی۔

بصد احترام عرض ہے کہ آپ نے یہ ٹویٹ کر کے ایک ایسے اخبار کو غیر معمولی اہمیت دے دی ہے جس اب قصہ ماضی بن چکا تھا۔ اس کی سرکولیشن نہ ہونے کے برابر ہے اور اب یہ ڈمی اخبارات کے زمرے میں شمار ہوتا تھا۔ آپ کی توجہ نے اس کے قد کاٹھ میں بہت اضافہ کر دیا ہے

— Abdullah Khan (@AbdullahKhan333) November 6, 2025

جواب میں فرنٹیئر پوسٹ کا کہنا تھا کہ وہ تقریبا ایک دہائی سے واشنگٹن ڈی سی سے فخر کے ساتھ کام کر رہا ہے اور قارئین کو دنیا کے سب سے زیادہ بااثر سیاسی دارالحکومت سے مستند اور براہ راست کوریج تک رسائی فراہم کرتا ہے۔

’ہمارے منیجنگ ایڈیٹر جلیل آفریدی گذشتہ دس سال سے واشنگٹن ڈی سی میں دی فرنٹیئر پوسٹ کے واحد رکن ہیں جہاں وہ وائٹ ہاؤس، پینٹاگون اور محکمہ خارجہ کی کوریج کر رہے ہیں۔ ان کی صحافت نے جنوبی اور وسطی ایشیا میں جمہوریت، انسانی حقوق اور علاقائی سلامتی کے مسائل کو مستقل طور پر اجاگر کیا ہے اور اکثر ایسے سوالات پوچھے جاتے ہیں جن کا سامنا بہت سے لوگ نہیں کرنا پسند کرتے ہیں۔‘

ادارے میں کہا گیا کہ ’اگر یہ آزادی ہمیں ’مغربی‘ بناتی ہے تو ایسا ہی ہو۔ صحافت کا مشن سفارت خانوں کو خوش کرنا یا سرکاری بیانیوں کی بازگشت نہیں ہے۔ یہ عوام کو آگاہ کرنا، اتھارٹی سے سوال کرنا اور ان لوگوں کو چیلنج کرنا ہے جو سچائی پر اجارہ داری قائم کرنا چاہتے ہیں۔‘

یہ قابل افسوس امر ہے کہ پاکستان میں صحافت کا معیار گر گیا ہے۔ مگر امید کرتے ہیں روس پاکستانی عوام کے روس کے لئے دوستانہ اور مثبت رویہ کا خیال کرے گا۔ پاکستانی عوام نے روس اور چین کو کبھی اپنا دشمن نہیں سمجھا۔ روس اور چائنہ کو ہم دوست ممالک سمجھتے ہیں

— PakistanKhan (@PakistaanKhaan) November 7, 2025

انہوں نے ماسکو اجلاس کی خبر کا لنک بھی شئیر کرکے روسی تردید کی کہ انہوں نے اس اجلاس کی کوریج نہیں کی۔

اخبار کا کہنا ہے کہ ستم ظریفی یہ ہے کہ روسی سفارت خانے کا لہجہ اسی عدم رواداری کی عکاسی کرتا ہے جو انہوں نے امریکی محکمہ خارجہ کے کچھ عہدیداروں کی طرف سے دیکھا ہے، جہاں صحافیوں کو بھی مشکل سوالات پوچھنے پر سزا دی گئی ہے۔ منیجنگ ایڈیٹر جلیل آفریدی کا محکمہ خارجہ اور اس انتظامیہ کے خلاف مقدمہ، جو اب امریکی ضلعی عدالت میں زیر التوا ہے، تقریبا ایک جیسے مسائل اٹھاتا ہے۔‘

Read Entire Article
Chatroom