وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے جمعے کو کہا کہ دہشت گردی کے لیے کوئی بھی جائیداد استعمال ہوئی تو اس کا مالک سہولت کار تصور ہوگا۔
سنٹرل پولیس آفس کوئٹہ میں بلوچستان پولیس کے ڈیجیٹل انیشیٹوز کی افتتاحی تقریب سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت ایسی کارروائی نہیں چاہتی جس سے عام شہری متاثر ہوں، کیونکہ ’دہشت گرد اکثر انسانی ڈھال‘ استعمال کرتے ہیں، تاہم ریاست کے صبر کی بھی ایک حد ہے۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ’مستونگ میں انگور کے باغات سے سکیورٹی فورسز کے قافلوں یا صوبائی وزیر داخلہ پر حملہ ہوا تو جائیداد کے مالکان کو دہشت گردوں کا سہولت کار تصور کیا جائے گا۔‘
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغات کے مالکان کو بار بار خبردار کیا جا رہا ہے کہ اگر ان کی نجی جائیداد ’دہشت گردی کے لیے استعمال ہوئی تو وہ یہ مؤقف اختیار نہیں کر سکتے کہ انہیں اس بارے میں علم نہیں تھا۔‘
سرفراز بگٹی نے کہا کہ ’اگر دہشت گردی کے لیے نجی جائیدادوں کا استعمال جاری رہا تو حکومت کے پاس دو راستے ہوں گے، یا تو بڑے پیمانے پر لوگوں کو وہاں سے منتقل کرکے دوسری جگہ آباد کیا جائے یا دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے والے باغات ختم کیے جائیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’پاکستان فوج، ایف سی اور پولیس کے جوانوں کی جانیں بھی اتنی ہی اہم ہیں اور حکومت اس بات کو کسی صورت برداشت نہیں کرے گی کہ سکیورٹی اہلکار جانوں سے جاتے رہیں جبکہ نجی جائیدادیں دہشت گردی کے لیے استعمال ہوتی رہیں۔‘
جان سے جانے والے اہلکاروں کے خاندانوں کے لیے سہولیات
وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان پولیس کے ڈیجیٹل انیشیٹوز میں جانوں سے جانے والے خاندانوں کے لیے متعارف کرائی گئی سہولت ان کے دل کے بہت قریب ہے جس سے ان کے خاندانوں سے براہ راست رابطہ، ان کی ضروریات سے آگاہی اور ان کی فلاح و بہبود بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ ’بلوچ قوم پرستی کے نام پر دہشت گردی کرنے والے عناصر کی جانب سے بچیوں کو استعمال کیے جانے کا جواب حکومت اپنی بچیوں کو تعلیم اور مواقع فراہم کرکے دے گی۔ حکومت انہیں اسکالرشپس دے گی، ہارورڈ اور آکسفورڈ بھیجے گی جبکہ پنک سکوٹیز اور پنک بسز بھی فراہم کرے گی۔‘
سرفراز بگٹی نے جان سے جانے والوں کے ورثا کو یقین دلایا کہ وہ خود کو تنہا نہ سمجھیں، حکومت بلوچستان ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑی ہے۔
پولیس کو بااختیار بنانے پر توجہ
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پولیس اہلکاروں کی تنخواہیں مہنگائی کے تناسب سے بہتر سطح پر لانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ فائٹنگ فورس، اے ٹی ایف، سی ٹی ڈی اور ایس او ڈبلیو کی تنخواہوں میں پہلے ہی اضافہ کیا جا چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’بلوچستان کو اے ایریا قرار دیے جانے کے بعد پولیسنگ کے نظام کو نئے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے میں وقت لگے گا، تاہم حکومت کی توجہ پولیس کو بااختیار بنانے پر ہے تاکہ دہشت گردی اور جرائم کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ تین یا چار سال بعد بلوچستان پولیس ایک مضبوط اور بااختیار پولیس سروس کے طور پر سامنے آئے، جبکہ تنخواہوں کے معاملے میں بھی توازن پیدا کیا جائے گا اور کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں ہوگا۔
بلوچستان میں ’انٹیلی جنس بیسڈ جنگ‘
صوبے کی سکیورٹی صورت حال پر بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ریاست کی رٹ قائم کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے اور حکومت نے کبھی اس ذمہ داری سے آنکھیں نہیں چرائیں۔
ان کے مطابق بلوچستان اس وقت جنگ کی کیفیت میں ہے اور یہ پاکستان کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ جنگ ہے۔ جغرافیائی صورت حال اور بعض کمزوریوں کے باعث صوبہ اس جنگ میں بفر زون کی حیثیت رکھتا ہے۔
سرفراز بگٹی نے دعویٰ کیا کہ ’اس جنگ کے انڈین خفیہ ایجنسی را سے تعلق کے ٹھوس اور واقعاتی شواہد موجود ہیں، جن میں کلبھوشن یادیو کا معاملہ بھی شامل ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’حالیہ معرکہ حق میں پاکستان کی فوج نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت اور حکومت کے تعاون سے بڑے دشمن کو مؤثر جواب دیا، تاہم مخالف عناصر اب اسی جنگ کو دوسرے ڈومین میں لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
دہشت گردی میں اضافے کی وجوہات
وزیراعلیٰ نے ’دہشت گردی میں حالیہ اضافے‘ کی دو بڑی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایک وجہ افغانستان میں نیٹو فورسز کی جانب سے چھوڑا گیا جدید اسلحہ اور فوجی سازوسامان ہے جو بلیک مارکیٹ میں دستیاب ہے۔
دوسری جانب انہوں نے کہا کہ ’دہشت گرد عناصر بلوچ عوام اور نوجوانوں کو ایک لاحاصل جنگ میں دھکیل رہے ہیں اور وہ اپنے مقاصد کبھی حاصل نہیں کر سکتے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کی صورت حال نہ اتنی خراب ہے جتنی بعض اوقات پیش کی جاتی ہے اور نہ ہی اتنی اچھی، تاہم حکومت کو صورت حال کا مکمل ادراک اور اس سے نمٹنے کا واضح منصوبہ حاصل ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’صرف ایک سال میں ایک ہزار سے زائد سخت گیر دہشت گردوں کو غیر مؤثر کیا جا چکا ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ دہشت گردی میں اضافے کے ساتھ ریاست کے ردعمل اور انسداد دہشت گردی کے نظام میں بھی اضافہ ہوا ہے۔‘
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ’دہشت گرد چند منٹ کے لیے کسی شاہراہ پر آکر پورے بلوچستان کی ایسی تصویر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں جیسے صوبے کی تمام شاہراہیں ان کے کنٹرول میں ہوں، حالانکہ صوبے میں چار ہزار کلومیٹر سے زائد شاہراہیں ہیں۔‘
انہوں نے اسے گوریلا وار فیئر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’حملے کا وقت اور ہدف دہشت گرد منتخب کرتے ہیں، تاہم ریاست اس جنگ سے تھکنے والی نہیں، دہشت گردوں کو تھکنا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ یہ ہزار سال کی جنگ نہیں بلکہ ایک دو سال میں ختم ہونے والی جنگ ہے اور ریاست اپنے عزم کے ساتھ اس کا مقابلہ کرے گی۔
<p class="rteright"> وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی 28 اگست، 2026 کو کوئٹہ میں بلوچستان پولیس کے ڈیجیٹل انیشیٹوز کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے(محکمہ اطلاعات بلوچستان)</p>
.png)
2 hours ago
3




English (US) ·