پاکستان کے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے پیر کو خیبر پختونخوا حکومت کو ’دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات نہ کرنے‘ پر شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کی قیادت، وسائل اور اختیارات کے استعمال میں خامیاں موجود ہیں۔
طلال چوہدری نے پیر کو وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ’ہفتے کو ہونے والے جان لیوا خودکش دھماکے کے بعد خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے ڈیرہ اسماعیل خان میں ’بہت طویل‘ پریس کانفرنس کی۔‘
انہوں نے سوال کیا کہ ’انہوں نے افغانستان کی مذمت کیوں نہیں کی؟ آپ کا افغانستان کے بارے میں رویہ نرم کیوں ہے؟
’آپ جان بوجھ کر ایسا ابہام اور طرز عمل کیوں اختیار کرتے ہیں اور اصل دشمن یا ان پراکسیز کے ذریعے کارروائیاں کرنے والے ذریعے کا کھل کر نام لے کر مذمت کیوں نہیں کرتے؟‘
طلال چوہدری کے مطابق دہشت گرد ’پراکسیز کو ہماری مشرقی سرحد سے مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے جبکہ ان کی پناہ گاہیں مغربی سرحد پر ہیں۔‘
انہوں نے زور دے کر کہا کہ پاکستان نے کابل تک اپنے تحفظات پہنچانے کے لیے ’ہر طریقہ‘ اختیار کیا، جن میں مذاکرات، ڈوزیئرز اور بین الاقوامی فورمز شامل ہیں، لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔
عطا تارڑ نے بھی اپنی گفتگو میں سہیل آفریدی اور ان کی صوبائی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے خراب طرز حکمرانی کا الزام عائد کیا۔
انہوں نے کہ صوبے میں پچھلے 12 سالوں کے دوران گاڑیوں کی رجسٹریشن سے گریز کیا گیا، جس سے اربوں روپے کا نقصان ہوا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ پیسے عوام کی فلاح و بہود پر خرچ کیے جا سکتے تھے۔
<p>وفاقی وزیر برائے اطلاعات عطا تارڑ یکم نومبر، 2025 کو اسلام آباد میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے ہمراہ پریس کانفرنس کر رہے ہیں (انڈپینڈنٹ اردو)</p>
.png)
1 hour ago
1




English (US) ·