پاکستان کے فاسٹ بولر محمد عباس نے چار وکٹیں حاصل کیں، جس کی بدولت ان کی ٹیم نے جمعرات کو لارڈز میں انگلینڈ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ کے پہلے دن معمولی برتری حاصل کر لی، اگرچہ میزبان ٹیم خراب آغاز کے بعد سنبھل گئی اور موسم کی خرابی کے باعث مختصر ہونے والے دن کے اختتام پر 9 وکٹوں کے نقصان پر 248 رنز بنا لیے۔
پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کا فیصلہ کیا اور محمد عباس نے حالات کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے انگلینڈ کی ٹاپ آرڈر بیٹنگ کو جمنے نہ دیا۔
لنچ سے قبل 34 رنز کے عوض تین وکٹوں کے شاندار ابتدائی سپیل، جس میں انگلینڈ کے کپتان جو روٹ کی وکٹ بھی شامل تھی، نے پاکستان کو مضبوط پوزیشن میں پہنچا دیا جبکہ انگلش ٹیم لنچ تک 80 رنز پر چار وکٹیں گنوا چکی تھی۔
تاہم انگلینڈ نے جارڈن کاکس اور جیمی سمتھ کی نصف سنچریوں کی بدولت جواب دیا اور اپنی پوزیشن کسی حد تک سنبھال لی، خاص طور پر اُس پاکستانی ٹیم کے خلاف جس کی بیٹنگ لیڈز میں بھاری شکست کے دوران بری طرح ناکام ہوئی تھی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
جارڈن کاکس نے صبر کے ساتھ بیٹنگ کرتے ہوئے 55 رنز بنائے جبکہ جیمی سمتھ نے جارحانہ انداز میں 61 رنز سکور کیے۔ دن کے آخری حصے میں گس ایٹکنسن نے تیز رفتاری سے کھیلتے ہوئے ناقابل شکست 34 رنز بنائے، تاہم خراب روشنی کے باعث صرف 56 اوورز کے بعد کھیل وقت سے پہلے ختم کرنا پڑا۔
عباس نے کہا کہ ’یہ میرا پسندیدہ میدان ہے۔ میں نے 2018 میں یہاں اپنا پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا تھا اور مین آف دی میچ بنا تھا۔‘
انہوں نے کہا: ’ہمارے کوچ نے کہا تھا کہ منصوبے پر قائم رہو اور انہیں جلد از جلد آؤٹ کرو۔ میرے خیال میں انہوں نے صبح کے سیشن کے بعد کچھ زیادہ رنز بنا لیے۔ سمتھ نے اچھی بیٹنگ کی، لیکن پھر بھی ہم خوش ہیں۔‘
بہت تجربہ کار محمد عباس یقیناً اس وقت مسکرائے ہوں گے جب پہلے ٹیسٹ میں شکست کے بعد ٹیم میں واپسی کرنے والے کپتان بابر اعظم نے تاخیر سے ہونے والے ٹاس میں کامیابی حاصل کی اور پہلے بولنگ کا درست فیصلہ کیا۔
آٹھ سال قبل لارڈز میں عباس نے پاکستان کی فتح میں آٹھ وکٹیں حاصل کی تھیں اور اس بار بھی انہیں حالات سازگار ملے، جن سے انہوں نے اپنی مہارت کے ساتھ بھرپور فائدہ اٹھایا۔
انہوں نے اپنے تیسرے اوور کی آخری گیند پر پہلی کامیابی حاصل کی جب ایمیلیو گے نے لیگ سائیڈ پر کھیلی گئی گیند کو فلک کیا، لیکن محمد رضوان نے سٹمپوں کے پیچھے شاندار ڈائیو لگا کر کیچ تھام لیا۔
بین ڈکٹ جارحانہ انداز اپنانے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن 17 رنز پر عباس کی اندر آتی ہوئی گیند ان کے لیے مسئلہ بن گئی۔ وہ پچھلے پاؤں پر پھنس گئے اور ریویو کے بعد ایل بی ڈبلیو قرار دیے گئے۔
جو روٹ گذشتہ ہفتے ڈربی کے ایک نائٹ سپاٹ کے باہر پیش آنے والے واقعے کی تحقیقات کے بعد فاسٹ بولر برائیڈن کارس کو سکواڈ سے نکالے جانے پر انگلینڈ کے نظم و ضبط سے متعلق سوالات کا سامنا کرتے رہے تھے۔
وہ امید کر رہے تھے کہ میدان میں آ کر اپنے پسندیدہ کام یعنی بیٹنگ پر توجہ دیں گے، لیکن ایک رن پر ڈراپ ہونے کے باوجود صرف چار رنز بنا کر عباس کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے اور پویلین واپس لوٹ گئے۔
اس کے بعد ہیری بروک کی باری آئی، جو محمد علی کی خوبصورت اندر آتی ہوئی گیند پر بولڈ ہو گئے اور انگلینڈ کی ٹیم لڑکھڑاتی ہوئی لنچ تک پہنچ سکی۔
<p class="rteright">پاکستان کے محمد عباس 27 اگست 2026 کو لندن کے لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان دوسرے ٹیسٹ میچ کے پہلے روز انگلینڈ کے جو روٹ کی وکٹ لینے کے بعد جشن منا رہے ہیں (گلین کرک / اے ایف پی) </p>
.png)
1 hour ago
1



English (US) ·