خیبر پختونخوا معدنی ذخائر سے مالا مال صوبہ ہے لیکن گذشتہ چند ہفتوں سے سوشل میڈیا پر ان وسائل کی تلاش اور کان کنی کے لیے لائسنسوں کے اجرا پر بحث جاری ہے۔
گورنر فیصل کریم کنڈی معدنیات نکالنے اور ان میں پاکستانی و بین الاقوامی کمپنیوں کو سرمایہ کاری کی دعوت دینے کی بات کر رہے ہیں، جبکہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حامیوں کی جانب سے یہ دعوے کیے جا رہے ہیں کہ گورنر راج کے بعد صوبے کے معدنی وسائل پر قبضے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اس تنازعے کے دوران گورنر کی مشاورتی ٹیم کی رکن ثمر ہارون بلور نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ محکمۂ معدنیات میں لائسنسوں کے اجرا کے عمل کا آڈٹ کیا جا رہا ہے اور نئے لائسنس جاری کرنے سے قبل پہلے سے دیے گئے لائسنسوں کا جائزہ لیا جائے گا۔
انہوں نے سابقہ دورِ حکومت میں مبینہ بے ضابطگیوں کے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔
صوبے میں معدنی ذخائر اور لائسنس کا طریقۂ کار
یونیورسٹی آف پشاور کے شعبۂ ارضیات کے اسسٹنٹ پروفیسر اور کنسلٹنٹ جیولوجسٹ ڈاکٹر گوہر رحمٰن کے مطابق خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں مختلف نوعیت کے معدنی ذخائر موجود ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ چترال میں اینٹی منی، زنک، سیسہ اور قیمتی پتھر پائے جاتے ہیں، جبکہ دیر میں تانبا، کرومائٹ اور ٹورمالین کے ذخائر ہیں۔ اسی طرح مہمند میں سنگِ مرمر، نیفرائٹ، تانبا اور کرومائٹ موجود ہیں۔
ان کے مطابق کوہاٹ میں تیل، گیس اور جپسم، بندہ داؤد شاہ میں نمک اور کوئلہ، تیراہ میں کوئلہ جبکہ خیبر میں بیریٹ اور فلورائٹ کے ذخائر ہیں۔ بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی جپسم، تیل اور گیس پائے جاتے ہیں۔
ڈاکٹر گوہر رحمٰن نے بتایا کہ معدنی لائسنس کے لیے محکمۂ معدنیات میں درخواست جمع کروائی جاتی ہے اور کمپنی کو اپنی مالی حیثیت، تکنیکی صلاحیت اور مطلوبہ دستاویزات فراہم کرنا ہوتی ہیں جبکہ بڑے اور چھوٹے پیمانے کی کان کنی کے لیے لائسنسوں کی مختلف اقسام ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ معدنیات کی تلاش کے ابتدائی مرحلے میں کمپنی کو پراسپیکٹنگ لیز یا ایکسپلوریشن لائسنس مل سکتا ہے۔ اس دوران ارضیاتی، جیو فزیکل اور جیو کیمیکل طریقوں سے تحقیق کی جاتی ہے، جس کے بعد ڈرلنگ کے ذریعے ذخائر کی مقدار اور معیار کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔
ڈاکٹر گوہر رحمٰن کے مطابق اگر تقریباً 50 مربع کلومیٹر کے علاقے میں تحقیق کرنی ہو تو ابتدائی سروے میں ڈیڑھ سال لگ سکتا ہے جبکہ ڈرلنگ کے لیے مزید پانچ سے چھ ماہ یا ایک سال درکار ہو سکتا ہے۔
ان کے اندازے کے مطابق ذخائر کی مقدار کا تخمینہ لگانے میں مجموعی طور پر دو سے تین سال لگ سکتے ہیں۔
ثمر ہارون بلور کا آڈٹ کا اعلان
مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ ثمر ہارون بلور کے مطابق محکمۂ معدنیات میں لائسنسوں کے اجرا اور ان سے متعلق مختلف مراحل کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے کہا: ’جتنی بے ضابطگیاں اور خرد برد اس ڈپارٹمنٹ میں ہوئی ہیں، شاید ہی کسی ڈپارٹمنٹ میں ہوئی ہوں۔ ہم اس کو چیک بھی کر رہے ہیں، ہم اس کا آڈٹ بھی کر رہے ہیں اور آپ لوگوں کے سامنے ساری تفصیلات آئیں گی۔‘
انہوں نے معدنیات کی تلاش اور لائسنسوں کے اجرا کے مختلف مراحل کا ذکر کرتے ہوئے کہا:’ ہر فیز کے اوپر ایکسکیویشنز کی اپنی ایک کہانی ہے، مائننگ کے لائسنس کی اپنی کہانی ہے، ان کے شارٹ کٹس کیسے لیے گئے، اس کی اپنی کہانی ہے۔‘
ثمر ہارون بلور نے الزام لگایا کہ لائسنس ایک مخصوص گروہ کو ترتیب وار جاری کیے گئے اور اس عمل میں بعض مراحل میں شارٹ کٹس اختیار کیے گئے۔ انہوں نے ان الزامات کو پاکستان تحریک انصاف کے دورِ حکومت سے جوڑا۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر معدنی وسائل پر قبضے سے متعلق دعوؤں کو بھی ’پی ٹی آئی کا پروپیگنڈا‘ قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ لائسنسوں کے اجرا میں مبینہ بے ضابطگیوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور متعلقہ تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں گی۔
گورنر کی سرمایہ کاری کی دعوت
دوسری جانب گورنر فیصل کریم کنڈی کا مؤقف ہے کہ معدنی وسائل کو دریافت کرکے نکالنا اور فروخت کرنا صوبے کے لیے آمدن پیدا کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
انہوں نے تیل اور گیس کی پیداوار کی مثال دیتے ہوئے کہا: ’ہم اگر سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والا صوبہ ہیں تو تیل کیا بارش میں آ رہا ہے؟ اگر ہم دوسرے نمبر پر گیس پیدا کرنے والا صوبہ ہیں تو گیس کہاں سے آ رہی ہے؟ دریافت ہوئی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ معدنی وسائل کی تلاش اور نکاسی کے لیے پاکستانی اور بین الاقوامی کمپنیوں کو دعوت دی جا سکتی ہے۔ بقول فیصل کریم کنڈی: ’اب معدنیات اگر ہماری ہیں تو ہم اگر انٹرنیشنل کمپنیوں کو بلائیں، ہم اگر پاکستان کی کمپنیوں کو بلائیں، ہم آپ کو بھی بلائیں گے، سب کو بلائیں گے۔‘
گورنر نے سرمایہ کاری کے ساتھ صوبے اور مقامی آبادی کے مفادات کے تحفظ پر بھی زور دیا۔
ان کے مطابق اگر کوئی کمپنی مشترکہ منصوبے کے تحت کام کرتی ہے تو اس میں صوبے، مقامی لوگوں اور سرمایہ کاروں کے مفادات کا تحفظ ضروری ہے۔
انہوں نے تھر کے کوئلے کے منصوبوں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں پاکستانی اور بین الاقوامی کمپنیاں کام کر رہی ہیں اور ایسے منصوبوں میں متعلقہ فریقوں کے مفادات کا تحفظ کیا جا سکتا ہے۔
<p class="rteright">گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی 23 اکتوبر 2026 کو پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے (لائبہ حسن/ انڈپینڈنٹ اردو)</p>
.png)
1 hour ago
1




English (US) ·