پاکستان کی بڑی سیاسی و مذہبی پارٹی، جماعت اسلامی نے حکومت کے ساتھ پیٹرولیم لیوی میں کمی پر مذاکرات میں ناکامی کے بعد کراچی سے بذریعہ ٹرین اتوار (آج) کو ’سپر لانگ مارچ‘ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی کے خلاف 35 روز سے کراچی میں گورنر ہاؤس کے باہر دھرنا دے رکھا تھا جو ہفتے کو ختم کر دیا گیا۔
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے دھرنے کے شرکا سے خطاب میں کہا کہ بذریعہ ٹرین اسلام آباد لانگ مارچ کا آغاز ہوگا اور خیبرپختونخوا، بلوچستان اور سندھ سے قافلے شامل ہوں گے۔
جماعت اسلامی کے مطابق اس احتجاجی عمل کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی بھی حمایت حاصل ہے اور دونوں جماعتیں اپنے اپنے الگ ایجنڈے اور نظم و ضبط کے تحت ایک دوسرے کی تائید کر رہی ہیں۔
انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی گفتگو میں امیر جماعت اسلامی نعیم الرحمن نے کہا تھا کہ 20 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کے دوران ان کی جماعت ڈی چوک پہنچے گی اور وہاں دھرنا دے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ساتھ جماعت اسلامی کا رابطہ ہے اور دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے احتجاج کی حمایت کر رہی ہیں تاہم اپنے اپنے پلیٹ فارم اور ڈسپلن کے مطابق کام کریں گی۔
حافظ نعیم کا کہنا تھا کہ ’عوام کو لوٹنے کے لیے شوگر مافیا، آٹا مافیا، آئی پی پی مافیا اور بینکوں کا مافیا ملا ہوا ہے۔‘
جماعت اسلامی کے 20 ستمبر اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کے اعلان کے بعد وفاقی دارالحکومت کے مختلف داخلی اور خارجی راستوں کو بند کرنے کے لیے سڑکوں کے کنارے پر بڑی تعداد میں کنٹینر رکھ دیے گئے ہیں۔
ایک مقامی اخبار کے مطابق اسلام آباد پولیس نے لانگ مارچ کے پیش نظر تحریک انصاف کے چار رہنماؤں اور کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان افراد کو پولیس کی مدعیت میں درج شکایت پر مختلف الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا۔
ادھر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے ہفتے کو سیاسی حکمت عملی پر غور کے لیے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی اور قائد حزب اختلاف سینیٹ علامہ ناصر عباس سے ملاقاتیں کی ہیں۔
ان ملاقاتوں میں 27 ستمبر کی کال کے حوالے سے آئندہ کے لائحۂ عمل اور سیاسی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے منظم سیاسی جدوجہد کے طور پر آگے بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔
صورت حال کو دیکھتے ہوئے وفاقی حکومت نے صوبوں سے پولیس کی نفری طلب کر لی ہے جب کہ پنجاب میں پانچ روز کے لیے عوامی اجتماعات پر پابندی لگا دی گئی ہے۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے 12 ستمبر کو گوجرانوالہ میں جلسے خطاب کرتے ہوئے پیٹرولیم لیوی کے خاتمے، مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کے خلاف جاری احتجاج اور دھرنے کو لانگ مارچ میں تبدل کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
دونوں لانگ مارچز کے پیش نظر کسی بھی صورت حال سے نمٹنے اور سکیورٹی یقینی بنانے کے لیے اسلام آباد میں تعیناتی کے لیے پنجاب، سندھ اور بلوچستان سے ساڑھے 23 ہزار پولیس اہلکار طلب کر لیے ہیں۔
کابینہ ڈویژن کے 12 ستمبر کے مراسلے کے مطابق پنجاب سے 15 ہزار، سندھ سے آٹھ ہزار اور بلوچستان سے 500 اہلکار 20 ستمبر تک اسلام آباد پہنچانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
لانگ مارچ کے اعلان کے بعد حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات شروع ہو گئے۔ ہفتے کو جماعت اسلامی اور حکومت کے درمیان لاہور میں جماعت اسلامی کے مرکزی دفتر منصورہ میں مذاکرات کا پانچواں دور ہوا تاہم فریقین کسی نتیجے تک پہنچنے میں ناکام رہے۔
جماعت اسلامی سے بات چیت کرنے والے حکومتی وفد میں وفاقی وزیر احسن اقبال، رانا ثنااللہ ،صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق شامل تھے۔ جماعت اسلامی کی جانب سے نائب امیر لیاقت بلوچ ، قائم مقام سیکرٹری جنرل نذیر احمد جنجوعہ ، معاون خصوصی عمیر ادریس امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاالدین انصاری، سیکرٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی اور سلمان شیخ شریک ہوئے۔
مذاکرات میں حکومتی وفد کی سیکورٹی تھریٹ کی وجہ سے لانگ مارچ ملتوی کرنے کی درخواست کی۔ وفد کی جانب سے جلد عوامی سطح پر غیر معمولی ریلیف دینے کی یقین دہانی کرائی۔ حکومتی وفد کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کا دباؤ ہے اور جلد وفد کی پاکستان آمد بھی متوقع ہے۔
تاہم جماعت اسلامی کا مؤقف تھا کہ حکومت عوامی مطالبے پر عملی اقدام کرے ورنہ احتجاج و لانگ مارچ ضرور کیا جائے گا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
مذاکرات کے بعد میڈیا سے بات چیت میں نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے کہا کہ امیر جماعت اسلامی کی قیادت میں سُپر لانگ مارچ اتوار کو کراچی سے شروع ہوگا۔
دوسری جانب سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ ناصر عباس نے میڈیا سے بات چیت میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان رابطے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات میں لانگ مارچ، بانی پی ٹی آئی سے متعلق معاملات پر تفصیلی گفتگو ہوئی ہے۔‘
اس موقعے پر چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہرکا کہنا تھا کہ ’27 ستمبرکے احتجاج کی قیادت وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کریں گے۔ لانگ مارچ کو ملتوی کرنے کے لیے ہماری حکومت سے کوئی بات نہیں ہوئی۔‘
انہوں نے کہا احتجاج صرف پی ٹی آئی کا اکیلا فیصلہ نہیں بلکہ یہ تمام جماعتوں کی مشاورت سےکیا گیا۔
<p class="rteright">16 اگست، 2026 کو کراچی میں پٹرولیم لیوی میں اضافے اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف دھرنے کے شرکا نے کتبے اٹھا رکھے ہیں (اے ایف پی)</p>
.png)
18 hours ago
2




English (US) ·