جرمنی کے صدر فرینک والٹر شٹائن مائر نے جمعے کو برلن میں پاکستانی صدر آصف علی زرداری سے ملاقات میں تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے، اقتصادی تعاون کو فروغ دینے اور علاقائی و عالمی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔
جرمن صدر کے سرکاری انسٹاگرام اکاؤنٹ پر جاری بیان کے مطابق پاکستان اور جرمنی کے درمیان قریبی سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کے موقعے پر صدر زرداری کا دورہ دونوں ملکوں کے تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
جرمن صدر نے برلن کے صدراتی محل میں اپنے پاکستانی ہم منصب کا فوجی اعزاز کے ساتھ استقبال کیا۔
بیان میں کہا گیا کہ دونوں صدور نے تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافے اور اقتصادی تعاون کو مزید گہرا کرنے کے امکانات پر گفتگو کی۔
اس کے علاوہ انہوں نے خطے کی صورت حال اور عالمی پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
جرمن صدر کے مطابق 2003 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان کے کسی صدر کا جرمنی کے وفاقی صدر نے استقبال کیا ہے۔ اس سے قبل جرمنی کے صدر رومن ہرزوگ نے 1995 میں پاکستان کا دورہ کیا تھا۔
پاکستان اور جرمنی کے درمیان سفارتی تعلقات 15 اکتوبر 1951 کو قائم ہوئے تھے۔ جرمن وزارت خارجہ کے مطابق دونوں ملکوں کے تعلقات سیاست، معیشت، تعلیم، ثقافت اور ترقیاتی تعاون سمیت مختلف شعبوں پر محیط ہیں۔ 2026 میں دونوں ملک سفارتی تعلقات کے قیام کے 75 سال مکمل ہونے کا جشن منا رہے ہیں۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق صدر آصف علی زرداری کا 22 سے 24 اکتوبر تک جرمنی کا سرکاری دورہ دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ سطح کے روابط کا حصہ ہے، جس کا بنیادی مقصد دوطرفہ تعلقات، خصوصاً تجارت اور اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پاکستانی دفتر خارجہ نے اس دورے کو سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کے تناظر میں اہم قرار دیا ہے۔
تجارت اور سرمایہ کاری
جرمن وزارت خارجہ کے مطابق 2024 میں پاکستان اور جرمنی کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم 3.3 ارب یورو تھا۔ جرمنی یورپی یونین میں پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ پاکستان سے جرمنی کو بنیادی طور پر ٹیکسٹائل اور چمڑے کی مصنوعات برآمد کی جاتی ہیں، جبکہ جرمنی سے مشینری، کیمیائی و برقی سامان، موٹر گاڑیاں اور لوہے کی مصنوعات درآمد ہوتی ہیں۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق صدر زرداری کے دورے کے دوران کاروباری رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی طے ہیں، جن میں تجارت اور اقتصادی تعاون پر توجہ دی جانی تھی۔ اس سے قبل جون 2026 میں ایک جرمن وفد نے پاکستان میں تقریباً 30 جرمن کمپنیوں کو لانے اور پاکستانی کاروباروں کو یورپی منڈیوں سے منسلک کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔
ترقیاتی تعاون اور تعلیم
جرمن وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان اور جرمنی کے درمیان ترقیاتی تعاون 1961 میں شروع ہوا۔ اس کے بعد سے جرمن حکومت پاکستان میں مختلف منصوبوں میں معاونت کا وعدہ کر چکی ہے۔ تعاون کے اہم شعبوں میں موسمیاتی تبدیلی، توانائی، پائیدار اقتصادی ترقی، فنی تربیت، روزگار، صحت اور سماجی تحفظ شامل ہیں۔
تعلیم اور سائنسی تبادلے بھی دونوں ملکوں کے تعلقات کا اہم حصہ ہیں۔ جرمن وزارت خارجہ کے مطابق اس وقت 9,000 سے زیادہ پاکستانی طلبہ جرمنی میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ جرمنی پاکستانی محققین کے لیے پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کرنے کی مقبول منزلوں میں بھی شامل ہے۔
<p>جرمن صدر نے برلن کے صدراتی محل میں اپنے پاکستانی ہم منصب کا فوجی اعزاز کے ساتھ استقبال کیا (جرمن صدراتی محل/انسٹاگرام)</p>
.png)
2 hours ago
2




English (US) ·