جب بھی پنجاب جانے کا اعلان کرتا ہوں ڈرون حملے شروع ہوجاتے ہیں، سہیل آفریدی

10 hours ago 1

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp
وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے ڈرون حملوں کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل کے لیے اپوزیشن جماعتوں سے تعاون مانگ لیا اور کہا ہے کہ ڈرون حملوں کے خلاف مقدمہ درج نہیں کرسکتے انھیں آئینی تحفظ حاصل ہے میں جب بھی پنجاب جانے کا اعلان کرتا ہوں ڈرون حملے شروع ہوجاتے ہیں۔ وہ گزشتہ روز صوبائی اسمبلی اجلاس سے خطاب کررہے تھے خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس قبائلی علاقوں میں مبینہ ڈرون حملوں کے خلاف بحث کے لیے بلایا گیا تھا۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ جب ڈرون سے شہریوں کا نقصان ہوتا ہے تو مجھے میسج آتا ہے I am sorry and this is unfortunate، وزیراعلی نے انکشاف کیا کہ تین روز تک میرے گھر پر ڈرون گھومتے رہے میں جب بھی پنجاب جانے یا جلسہ اعلان کرتا ہوں ڈرون حملے شروع ہوجاتے ہیں یا صوبے میں امن و امان کا مسئلہ کھڑا کردیا جاتا ہے۔ انہوں نے ایوان میں اپنی تقریر کے دوران ایک شعر پڑھتے ہوئے کہا کہ وہ مشکلات اور چیلنجز سے گھبرانے والے نہیں، اصل امتحان مشکل حالات میں کشتی کو کنارے تک پہنچانا ہوتا ہے اور وہ پرعزم ہیں کہ تمام تر رکاوٹوں کے باوجود صوبے کو بحرانوں سے نکالیں گے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ اسمبلی اجلاس خصوصی طور پر ڈرون حملوں کے خلاف بلایا گیا ہے کیونکہ یہ معاملہ صوبے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو دہائیوں سے یہی مؤقف سامنے آتا رہا ہے کہ ملٹری آپریشن کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں اور میرے چیئرمین عمران خان بھی بارہا اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ طاقت کے استعمال سے امن قائم نہیں ہوتا۔ وزیراعلیٰ کے مطابق ڈرون حملوں کے نتیجے میں دہشت گردی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھتی ہے، کیونکہ ان حملوں میں معصوم شہری، خصوصاً بچے، نشانہ بنتے ہیں جس سے عوام میں غم و غصہ اور انتقام کا جذبہ جنم لیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چند افراد بند کمروں میں فیصلے کرتے ہیں اور انہیں زمینی حقائق کا ادراک نہیں ہوتا، جبکہ ان فیصلوں کے اثرات خیبرپختونخوا کے عوام کو بھگتنا پڑتے ہیں، جب بھی وہ دیگر صوبوں خصوصاً سندھ اور پنجاب کے دوروں کی بات کرتے ہیں یا صوبے میں سیاسی سرگرمیوں کا آغاز ہوتا ہے تو حالات خراب ہوجاتے ہیں اور ڈرون حملوں میں اضافہ ہوجاتا ہے، بدقسمتی سے حملوں کا نشانہ ہمیشہ قبائلی اور پختون عوام بنتے ہیں، جبکہ ملک کے دیگر اہم مقامات یا اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد ان حملوں سے محفوظ رہتے ہیں لیکن اب ایسا نہیں چلے گا اگر سی ایم ہاؤس و دیگر جگہوں پر سب محفوظ ہیں تو ایک قبائلی بچے کو بھی محفوظ ہونا چاہیے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ معصوم بچوں کی شہادت پر محض ’’ویری انفارچونیٹ‘‘ یا ’’آئی ایم سوری‘‘جیسے بیانات دینا کافی نہیں، بلکہ اس پالیسی پر سنجیدگی سے نظرثانی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جس خاندان کا کوئی فرد ڈرون حملے میں جاں بحق ہوتا ہے، اس میں انتقام کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، جو مزید بدامنی کو جنم دیتا ہے، ، ڈرون حملوں کے خلاف قانون سازی کی کوششیں جاری ہیں اور اس سلسلے میں متعدد اجلاس ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا ’’ایکشن ان ایڈ آف سول پاور‘‘ کے تحت نوجوانوں کو گرفتار کرکے غائب کیا جارہا ہے، جن میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جن کی شادی کو چند ماہ ہی ہوئے تھے، مائیں، بہنیں اور بیویاں برسوں سے اپنے پیاروں کی واپسی کی منتظر ہیں، اور یہ صورتحال انسانی المیے سے کم نہیں صوبائی حکومت نے اس قانون کو ختم کرنے کے لیے کابینہ سے واپسی کی سفارش کی ہے تاہم 970 مبینہ دہشت گردوں کی فہرست فراہم نہ کیے جانے کی وجہ سے یہ معاملہ التواء کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں کچھ ایسی شقیں موجود ہیں جن کی وجہ سے ڈرون حملوں یا آپریشنز کے ذمہ داران کے خلاف براہ راست کارروائی ممکن نہیں تاہم نقصانات کے ازالے کے لیے قانون سازی کی جاسکتی ہے جس کے لیے اپوزیشن کا تعاون ضروری ہے۔ انہوں نے کہا چیک پوسٹوں پر عوامی نمائندوں کے ساتھ بدتمیزی کی جاتی ہے، حتیٰ کہ وزیراعلیٰ، اسپیکر یا گورنر بھی ایک سپاہی کو جواب دہ نہیں بنا سکتے۔ انہوں نے سوال کیا کہ آیا یہ جمہوریت ہے یا آمریت، انہوں نے زور دیا کہ منتخب نمائندوں کو آئینی تحفظ اور عزت دی جانی چاہیے۔  انہوں نے صوبے میں گیس کی کمی کے مسائل کے حوالے سے کہا کہ خیبرپختونخوا 400 ایم ایم سی ایف ڈی گیس پیدا کررہا ہے جبکہ صوبے کی ضرورت صرف 150 ایم ایم سی ایف ڈی ہے، اس کے باوجود مقامی اضلاع کو ان کا آئینی حق نہیں دیا جارہا۔ یہ صوبے کے ساتھ ناانصافی ہے اور اس معاملے پر سی این جی ایسوسی ایشن کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ نو اپریل کو دو دن تک ان کے گھر کے قریب بھی ڈرون پرواز کرتے رہے، جس پر انہوں نے سخت ردعمل دیا۔ اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے اعلان کیا کہ ہفتہ کے روز قبائلی عمائدین کا ایک بڑا لویہ جرگہ طلب کیا گیا ہے، جس میں حکومت اور اپوزیشن کے اراکین کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔ اس جرگے میں ڈرون حملوں کے خلاف آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ وہ ہر فورم پر خیبرپختونخوا کے عوام کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتے رہیں گے اور اگر اس جدوجہد میں انہیں اپنی کرسی یا جان کی قربانی بھی دینا پڑی تو وہ اس سے دریغ نہیں کریں گے۔ اجلاس میں پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کے پارلیمانی لیڈر احمد کریم کنڈی نے کہا ہمارے پاس اسمبلی ایک فارم موجود ہے ہم نے وزیر اعلیٰ کی سربراہی میں ایک جرگہ بھی کیا اس فیصلوں کا تسلسل ہونا چاہیے اس میں سنجیدگی ضروری ہے اگر ہم مسائل کو سنجیدگی سے نہیں لیتے تو بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، آئین میں درج ہے کہ گیس، سی این جی پر پہلا حق ہمارا ہے آئین پاکستان بھی ہمارا حق میں اس کے مطابق چلنا چاہیے آپ کو ہم مشورہ بھی دینگے اور مسائل کا حل تلاش کرنے کا بھی راستہ دیکھائیں گے۔ اجلاس سے جے یو آئی کے مولانا لطف الرحمان، اے این پی کے نثار باز کے علاوہ حکومتی اراکین اجمل خان، فضل حکیم، ارشاد خان، رنگریز خان، شیر خان آفریدی، عبدالکریم خان، عالم زیب نے بھی خطاب کیا۔
Read Entire Article